صحيح البخاري
كتاب الشهادات— کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان
بَابُ كَيْفَ يُسْتَحْلَفُ: باب: کیوں کر قسم لی جائے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ :جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ ، قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ ، قَالَ : وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ ، قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ ، فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " .´ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ان کے چچا ابوسہیل نے ، ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ` ایک صاحب ( ضمام بن ثعلبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اسلام کے متعلق پوچھنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دن اور رات میں پانچ نمازیں ادا کرنا ۔ “ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ نماز اور ضروری ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نہیں یہ دوسری بات ہے کہ تم نفل پڑھو ۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اور رمضان کے روزے ہیں ۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ( روزے ) واجب ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ” سوا اس کے جو تم اپنے طور پر نفل رکھو ۔“ طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا ، کیا ( جو فرض زکوٰۃ آپ نے بتائی ہے ) اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی خیرات واجب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نہیں ، سوا اس کے جو تم خود اپنی طرف سے نفل دو ۔“ اس کے بعد وہ صاحب یہ کہتے ہوئے جانے لگے کہ اللہ گواہ ہے نہ میں ان میں کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کوئی کمی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہوا ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
باب کا مطلب اس سے نکلا کہ اس نے قسم میں لفظ واللہ استعمال کیا۔
قسم کھانے میں یہی کافی ہے۔
واللہ، باللہ، تاللہ یہ سب قسمیہ الفاظ ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب میں آیت مبارکہ نقل فرمائی «﴿ذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾» [البينة: 5]
اور حدیث میں اسلام کا ذکر ہے جس میں نماز اور زکوٰۃ کا بعین حکم موجود ہے لہٰذا زکوٰۃ اور نماز کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام قرار دیا لہٰذا اسلام دین ہے اور دین اسلام ہے۔
صاحب اوجز مسالک رقمطراز ہیں: آیت مبارکہ «﴿ذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾» [البينة: 5] یعنی یہاں جو اشیاء مذکور ہیں دین ملت سے ہیں۔ اور یہ آیت ترجمتہ الباب کے ساتھ اس طرح سے دلالت کرتی ہے کہ آیت میں زکوٰۃ کو دین قرار دیا ہے اور دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی ہے اور زکوٰۃ اسلام میں داخل ہے۔ [ابواب والتراجم، ج 1، ص 400]
لہٰذا یہیں سے ترجمتہ الباب اور حدیث میں مناسبت ہے۔
1۔
جن اعمال سے ایمان کی کمی بیشی کا تعلق ہے وہ دو طرح کے ہیں: بدنی، مالی۔
اب تک امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بدنی اعمال کا ذکر فرمایا ہے اور اب مالی اعمال کا ذکر فرما رہے ہیں۔
اس سلسلے میں انھوں نے عنوان قائم کیا ہے’’زکاۃ، اسلام کا حصہ(رکن)
ہے۔
‘‘ ترجمۃ الباب میں مذکور آیت کریمہ میں نماز کا بھی ذکر ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صرف زکاۃ کے متعلق عنوان قائم کیا ہے کیونکہ آیت کے دوسرے اجزاء کے متعلق پہلے تراجم قائم کرچکے ہیں۔
جب آیت کریمہ سے زکاۃ، دین کا حصہ معلوم ہوئی تو اسلام اور ایمان کا حصہ خود بخود ثابت ہوگئی۔
2۔
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جو ایمان کی نشوونما کے لیے اعمال کی ضرورت کے قائل نہیں ہیں جبکہ حدیث میں اخروی فلاح کا مدار اس بات کو بتایا گیا ہے کہ اس میں بیان کردہ اعمال وفرائض میں کمی نہ کی جائے۔
(عمدۃ القاری 396/1)
3۔
اس روایت میں اقرار شہادتین کا ذکر نہیں ہے۔
اس کی چند ایک وجوہات ہیں: (الف)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم تھا کہ یہ مسلمان ہے اور دخول اسلام کے لیے اقرارشہادتین ضروری ہیں۔
(ب)
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا ہو لیکن شہرت کی بنا پر راوی نے اسے بیان نہ کیا ہو۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرائع اسلام کے متعلق بتایا۔
(فتح الباري: 143/1)
4۔
حدیث میں ہے کہ سائل پراگندہ بالوں کی صورت میں حاضرخدمت ہوا۔
اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ طالب علم کی عادات واطوار میں سادگی ہونی چاہیے۔
اسے بناؤسنگھار میں وقت ضائع نہیں کرناچاہیے۔
اس کے اندر حصول علم کی ایک دھن ہو۔
اس کے علاوہ اور کسی چیز کی اسے خبر نہ ہو۔
5۔
دینی معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کرنا پھر اہل علم کے حضور زانوئےتلمذ تہ کرنا ایک پسندیدہ عادت ہے۔
ایک طالب علم کے لیے حصول علم کی خاطر اپنا شہر چھوڑنا باعث برکت ہے۔
(عمدۃالقاری 395/1)
حنفیہ نے ایک اور عجیب حیلہ لکھا ہے یعنی اگر کسی عورت کو اس کا خاوند نہ چھوڑتا ہو اور وہ اس کے ہاتھ سے تنگ ہو تو خاوند کے بیٹے سے اگر زنا کرائے تو خاوند پر حرام ہو جائے گی۔
امام شافعی کا مناظرہ اس مسئلہ میں امام محمد سے بہت مشہور ہے۔
اہل حدیث کے نزدیک یہ حیلہ چل نہیں سکتا کیوں کہ ان کے نزدیک مصاہرت کا رشتہ زنا سے قائم نہیں ہو سکتا۔
1۔
اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اگر اس نے سچ کہا ہے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگروہ احکام وفرائض میں کوتاہی نہیں کرے گا اور حیلوں بہانوں کے ذریعے سے فرائض واحکام میں کمی کا مرتکب نہیں ہوگا تو کامیابی کا حقدار ہوگا، اس لیے انسان کو احکام کی بجاآوری میں حیلے بہانے نہیں کرنے چاہئیں۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی نے اسقاط زکاۃ کے لیے حیلہ سازی یا بہانہ گری سے کام لیا تو قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے فرائض سے حیلہ سازی کے ذریعے سے بچنے کی کوشش کر کے کھلی بغاوت کا ارتکاب کیا ہے۔
3۔
واضح رہے کہ حقہ اس اُونٹنی کو کہتے ہیں جو تین سال مکمل کر کے چوتھے سال میں قدم رکھ چکی ہو اور وہ بچہ جننے کے قابل ہو۔
اگر کسی کے پاس ایک سو بیس اونٹ ہوں تو ان میں ایسی دو اونٹنیاں بطور زکاۃ واجب ہیں۔
(صحیح البخاري، الزکاة۔
حدیث: 1454)
اگر کوئی مالد دارآدمی سال پورا ہونے سے ایک دو روز پہلے جان بوجھ کر ان اونٹوں میں سے دو اونٹ ذبح کر ڈالے یا کچھ اونٹ کسی کو ہبہ کر دے یا کوئی حیلہ کر کے زکاۃ سے بچنے کی کوشش کرے تو ایسا انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل گرفت ہوگا۔
لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر سال پورا ہونے سے پہلے نصاب زکاۃ میں کمی کر دے تو اس میں کوئی گناہ نہیں کیونکہ سال پورا ہونے سے پہلے وہ اپنے مال میں جیسے چاہے تصرف کر سکتا ہے جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: اگر کسی کے پاس دو سو درہم ہیں تو اس میں اسقاط زکاۃ کا حیلہ یہ ہے کہ سال پورا ہونے سے پہلے ایک درہم صدقہ کر دے یا اپنے کسی چھوٹے بیٹے کو ہبہ کر دے تا کہ سال پورا ہوتے وقت اس کا نصاب ناقص ہو جائے تو اس صورت میں اس پر زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔
(فتاویٰ عالمگیری: 391/6)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کے آخر میں ایسے لوگوں کا محاسبہ کیا ہے جو حیلہ سازی سے زکاۃ کی ادائیگی میں راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔
4۔
حافظ ا بن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھا ہے: ’’جوشخص اللہ پر ایمان اور آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ صدقہ روکے یا اپنی چیز ملکیت سے نکال دے تاکہ اس کا نصاب کم ہو جائے اور زکاۃ سے بچ جائے اور نہ صدقے سے بچنے کے لیے کوئی دوسرا حیلہ ہی کرے۔
‘‘ (فتح الباری: 414/12)
(1)
ثَائِرٌ: پراگندہ، بکھرے ہوئے بال۔
(2)
دَوِيّ: دال کی زبر کے ساتھ، دوری اور بعد کی بنا پر آواز کی گنگناہٹ جس سے معنی و مطلب سمجھ میں نہ آ سکے۔
فوائد ومسائل: 1- دن رات میں صرف پانچ نمازیں فرض ہیں، ان کے سوا روزانہ اور کوئی نماز فرض نہیں ہے۔
فرض نمازوں کے آگے اور پیچھے یعنی پہلے اور بعد میں پڑھی جانے والی سنتیں، وہ کوئی اور الگ اور مسقل فرض نہیں ہیں۔
وہ صرف فرض نمازوں کے لیے دل کی حضوری، خشوع وخضوع کے حصول اور فرض میں ہو جانے والی کمی وکوتاہی کے دور کرنے کے لیے پڑھی جاتی ہیں گویا فرض نمازوں میں حسن وکمال پیدا کرنے کا باعث اور ان کا تتمہ وتکملہ ہیں، مستقل فرض نہیں۔
2۔
صرف ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، رمضان کے علاوہ روزے، رفع درجات اور نفس انسانی کے تزکیہ وتطہیر کے عمل کو قائم وبرقرار رکھنے کے لیے رکھے جاتے ہیں، نفلی نمازوں کی طرح، نفلی روزے بھی گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں اور فرض روزے رکھنے کی ہمت واستعداد پیدا کرتے ہیں۔
3۔
دین میں آئینی وقانونی فرض، صرف زکاۃ ہے جو مال کے شکرانہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مال میں زکاۃ کے علاوہ انفاق ایک اخلاقی، سماجی اور معاشرتی فرض ہے، اس لیے قرآن مجید میں آیت بر میں زکاۃ کے ساتھ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ مال کی محبت کے باوجود مال دیا۔
مستقل طور پر بیان کیا گیا ہے۔
4- إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ: میں الا شوافع کے نزدیک استثناء منقطع کے لیے ہے، اس لیے نفل کو پورا کرنا بہتراور افضل ہے لازم نہیں، ضرورت کے وقت نفلی نماز اورنفلی روزہ کو توڑا جاسکتا ہے۔
اور اس کی قضاء، لازم یا واجب نہیں، احناف کے نزدیک الا استثاء متصل کے لیے ہے، اس لیے توڑنے کی صورت میں قضاء فرض یا لازم ہے مگر احناف کے قول کو درست مانا جائے تو فرض نماز کی تعداد پانچ رہتی اسی طرح رمضان کے علاوہ روزے بھی فرض ماننا پڑتے ہیں جو ظاہر ہے کہ درست نہیں۔
(مسئلہ کی تفصیل اپنے محل پر آئے گی)
5۔
لا ازید ولا انقص: میں کمی وبیشی نہیں کروں گا، مقصد یہ ہے کہ میں آپ کی تعلیم و ہدایت کی پوری پوری پابندی کروں گا، اپنی طبیعت ومزاج اور اپنی مرضی وخواہش سے کوئی زیادتی یا کمی نہیں کروں گا۔
6۔
اس حدیث میں حج کا تذکرہ نہیں ہے۔
ممکن ہے یہ سوال وجواب فرضیت حج سے پہلے ہوئے ہوں، کیونکہ حج کی ادائیگی کا موقع، فتح مکہ کے بعد ہی ممکن تھا۔
اور حج مشہور قول کے رو سے 9 ہجری میں فرض ہوا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے موقع محل کی مناسبت سے انہیں ارکان اسلام سے آگا ہ فرمایا ہو۔
بخاری شریف میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں، فاَخْبِرہُ عَنْ شَرَائِعِ الإِسْلَامِ، آپ (ﷺ) نے اسے اسلامی احکام کی خبر دی، اس سے معلوم ہوتا ہے اس روایت میں اختصار ہے۔
نفس فلاح ونجات کا انحصار فرائض وواجبات کی پابندی پر ہے، درجات ومراتب کے حصول کے لیے نوافل اور مستحبات کا اہتمام ضروری ہے، جس قدر نوافل اور استحبات کا اہتمام ہوگا اس قدر درجہ بلند ہوگا، اور اس کی تعمیل وامتثال (اطاعت وفرمانبرداری ہے)
اس لیے آپ (ﷺ) نے فرمایا: اگر اپنی بات میں سچا ہے تو کامیاب وکامران ہوگا۔
مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سنا (یعنی اعرابی کے واقعہ میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قسم ہے اس کے باپ کی، وہ کامیاب ہو گیا اگر وہ سچا ہے، قسم ہے اس کے باپ کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اگر وہ سچا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3252]
اس روایت میں (وابیہ) کا لفظ شاذ اور ضعیف ہے۔
(علامہ البانی) تاہم اس کی یہ تاویل بھی کی جاتی ہے۔
کہ یہ قصہ غیر اللہ کی قسم سے منع کرن سے پہلے کاہے۔
یا یہ کلام عامۃ الناس کے اسلوب پرہے۔
اس میں قسم کا معنی مراد نہیں ہے۔
اور کچھ نے کیا کہ اس میں لفظ رب مخذوف اور اصل یوں ہے۔
(ورب ابیہ) اس کے باپ کے رب کی قسم۔
علامہ سہیلی نے کہا کہ اس میں تعجب کے معنی ہیں۔
(نیل الاوطار باب الحلف باسماء اللہ وصفاتہ257/8)
... تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اسلام) دن رات میں پانچ وقت کی نماز پڑھنی ہے“، اس نے پوچھا: ان کے علاوہ اور کوئی نماز مجھ پر واجب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں إلا یہ کہ تم نفل پڑھو۔“ ... (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود حدیث: 391]
اسلام حجاز کے ماحول میں شروع ہوا تو اجنبی اور نامانوس تھا، مگر جب اس کی حقانیت کا چرچا ہو گیا تو دشت و جبل کے باسیوں کے افکار بھی تبدیل ہو گئے۔ ان پر دنیا کے مال و منال کے بجائے اللہ کے ساتھ تعلق، دین کی استواری اور آخرت کا فکر غالب آ گیا۔ اس سائل کی فطری سادگی نے اسے سمجھایا کہ حق کا راستہ صاف اور مختصر ہے۔ اس سوال و جواب سے معلوم ہوا کہ سنتیں، وتر، تحیۃ المسجد اور نماز عید وغیرہ بنیادی طور پر نوافل ہی ہیں، مگر بقول علامہ سندھی سنتوں کے ترک کو اپنی عادت بنا لینا، دین میں بہت بڑا نقص اور خسارہ ہے۔ یہ لوگ چونکہ جدید الاسلام تھے، اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اسی قدر پر کفایت فرمائی تاکہ دین ان کے لیے بوجھ نہ بنے اور یہ بددل نہ ہو جائیں، مگر جب ان کے سینے کھل گئے تو ا جر و ثواب کے ازحد حریص بن گئے اور نوافل پر عمل ان کے لیے بہت ہی آسان ہو گیا۔ اس لیے ایک مسلمان کو فرائض کے ساتھ نوافل سے ہرگز دل نہیں چرانا چاہیے۔
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی گنگناہٹ سنائی دیتی تھی لیکن سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب وہ قریب ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” دن رات میں پانچ وقت کی نماز “، اس نے کہا: اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں میرے اوپر؟ آپ نے فرمایا: ” نہیں، سوائے اس کے کہ تم نفل (سنت) پڑھنا چاہو “۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5031]
(2) ”کوئی اور نماز، مثلا تہجد،اشراق وضحیٰ وغیرہ کی نمازیں۔یہاں فرضوں سے آگے پیچھے پڑھی جانے والی سنتیں مراد نہیں (جنھیں رواتب کہتے ہیں) کیونکہ یہ تب ہوتا اگر آپ نمازوں کی رکعات کی تعداد بتارہے ہوتے۔
(3) ”کوئی مالی صدقہ“بعض لوگوں نے یہاں سے صدقہ الفطر اور قربانی کےوجوب کی نفی پر استدلال کیا ہے۔ لیکن صحیح باب یہ ہے کہ صدقۃ الفطر نہیں بلکہ صدقۃ النفس ہے۔ اسی طرح قربانی بھی مالی صدقہ نہیں ورنہ اس سے خود کھانا اور امر اء کو کھلانا جائز نہ ہوتا بلکہ یہ الگ عبادت ہے،جیسے حج اگرچہ اس میں مال صرف ہوتا ہے۔
(4) ”زیادہ کروں گا نہ کم“ یعنی نفل نمازیں، روزے اور صدقات کی ادائیگی کا عہد نہیں کرتا اور فرائض میں کمی نہیں کروں گا۔ ان الفاظ سے نوافل کی ادائیگی نہیں ہوتی جیساکہ ظاہر بین شخص سمجھتا ہے۔ تفصیلی بحث پیچھے گز چکی ہے۔دیکھیے (حدیث: 459)
(5) امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصود شعب ایمان بیان کرنا ہے جن میں زکاو ایک اہم حیثیت رکھتی ہے۔
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پراگندہ بال آیا، (اور) اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” پانچ (وقت کی) نمازیں، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفل پڑھنا چاہو “، پھر اس نے کہا: مجھے بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ماہ رمضان کے روزے، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفلی (روزے) رکھنا چاہو “، (پھر) اس نے پوچھا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2092]
(2) ”نہ کمی کروں گا“ یعنی ظاہر گنتی وغیرہ کے لحاظ سے، ورنہ ادائیگی میں نقص نہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
(3) ”اگر یہ اپنی بات پر پکا رہا“ یعنی وہ فرائض میں کمی نہ کرے گا۔ (نہ یہ کہ ان سے زیادتی نہ کرے گا کیونکہ نوافل کی ادائیگی تو مطلوب ہے اور بیان میں مذکور بھی ہے۔ اور یہی مشکل چیز ہے۔) یا مطلب یہ ہے کہ وہ فرائض میں اپنی طرف سے اضافہ نہ کرے گا۔
... نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان کا روزہ ہے“، اس نے پوچھا: اس کے علاوہ بھی کوئی روزہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، الا یہ کہ تم نفل رکھو“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا، تو اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، الا یہ کہ تم نفل صدقہ دو“ ... (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي، حدیث: 459]
➋چونکہ وہ سائل پہلے سے مسلمان تھا، شہادتین کا اقرار کرچکا تھا، اس لیے آپ نے اس کو دوسرے ارکان اسلام بیان فرمائے۔ حج کا ذکر نہیں فرمایا کہ وہ ابھی تک فرض نہ ہوا تھا۔ محقق بات یہ ہے کہ حج 9ہجری میں فرض ہوا۔
➌”مگر یہ کہ تو نفل کرے۔“ گویا اصل سوال فرائض کے بارے ہی میں تھا۔ فلاح کا مدار بھی فرائض ہی پر ہے، باقی رہے سنن و نوافل، تو وہ فرائض کی تکمیل کے لیے ہیں۔ فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی کمی سنن و نوافل سے پوری ہوتی ہے۔ شاید ہی کوئی شخص فرائض کی مکمل ادائیگی کا دعویٰ کر سکے، اس لیے سنن و نوافل خصوصاً رواتب کی پابندی بڑی اہمیت کی حامل ہے، اس لیے بھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پابندی فرمائی ہے اور ہمارے لیے آپ کی سنن کی اتباع لازم ہے، نیز رواتب (فرض نماز کی اگلی پچھلی سنتیں) فرض کے تابع ہیں، الگ نہیں، لہٰذا سفر، مرض اور انتہائی مصروفیت کے علاوہ ان پر دوام کیا جائے۔ باقی رہا بعض لوگوں کا یہ قول کہ ’’نفل نماز یا روزہ شروع کرنے سے بھی واجب ہو جاتا ہے کیونکہ راستے میں چھوڑ دینے سے بطلان عمل ہو گا اور قرآن مجید میں ہے: ﴿ولاتبطلوا اعمالکم﴾ [محمد47: 33]
تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزعمل اور احادیث سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفلی روزہ مکمل کرنے سے پہلے افطار کیا۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 1154]
اس لیے جمہور اہل علم کے مطابق شروع کرنے سے نفل فرض نہیں بن جاتا، البتہ تکمیل بہتر ہے۔ باقی رہی آیت مبارکہ تو اس کا سیاق و سباق بعض لوگوں (احناف) والا معنی لینے سے مانع ہے کیونکہ اس آیت میں خلاف سنت کام کرنے کو باطل کہا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
”. . . سیدنا طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک نجدی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے (اس نے آپ سے کچھ کہنا شروع کیا) ہم اس کی بھنبھناہٹ اور گنگناہٹ کی آواز تو سنتے تھے مگر (آواز کے صاف نہ ہونے یا دوری فاصلہ کی وجہ سے) ہم اس کی بات نہیں سمجھ رہے تھے یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گیا تو وہ آپ سے اسلام کے بارے میں کچھ دریافت کر رہا تھا . . .“ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مشكوة المصابيح: 16]
[صحیح بخاری 46]، [صحيح مسلم 100]
فقہ الحدیث
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کامیابی کا دارومدار اعمال اور فرائض کی ادائیگی پر ہے۔ تاہم سنن و نوافل کو بھی نہیں چھوڑنا چاہئیے جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔ جب فرائض میں کمی ہو گی تو سنن و نوافل کام آئیں گے، نیز احکام اسلام کما حقہ بجا لانے کی فضیلت بھی واضح ہو رہی ہے۔
➋ اہل نجد والا آدمی کون تھا، حدیث میں اس کی صراحت نہیں ہے۔ ابن بطال اور ابن العجمی وغیرہما کا خیال ہے کہ وہ ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [شرح ابن بطال 97/1 والتوضيح لمبهمات الجامع الصحيح لابن العجمي، قلمي ص13]
➌ اسلام فرائض و اعمال کا نام ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ مرجیہ کا عقیدہ باطل ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ اعمال ایمان سے خارج ہیں۔
➍ اس حدیث میں حج کا ذکر نہیں ہے، جبکہ دوسری احادیث سے حج کا فرض ہونا ثابت ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ اگر ایک دلیل میں کوئی مسئلہ مذکور نہیں اور دوسری دلیل میں وہ مسئلہ مذکور ہے تو اسی کا اعتبار ہو گا، اس حالت میں عدم ذکر کو نفی ذکر کی دلیل نہیں بنایا جائے گا۔
➎ بعض علماء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ وتر واجب نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے۔ اس کی تائید سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درج ذیل قول سے بھی ہوتی ہے: «ليس الوتر بحتم كالصلٰوة ولٰكنه سنة فلا تدعوه»
وتر (فرض) نماز کی طرح (واجب) نہیں ہے، لیکن یہ سنت ہے اسے نہ چھوڑو۔ [مسند أحمد 107/1 ح 842 وسنده حسن]
ایک شخص ابومحمد نامی نے کہا: وتر واجب ہے تو سیدنا عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ (بدری صحابی) نے فرمایا: «كذب أبومحمد» ابومحمد نے جھوٹ (یعنی غلط) کہا۔ [سنن ابي داؤد: 1420 وسنده حسن، مؤطا امام مالك 123/1 وصححه ابن حبان، موارد: 252، 253]
➏ عربی زبان میں بلند و سخت جگہ کو «نجد» اور پست اور نچلی زمین کو «غور» کہتے ہیں۔ دیکھئے: [القاموس الوحيد ص 1611، 1189]
عرب کے علاقے میں بہت سے نجد ہیں۔ مثلا نجد برق، نجد خال، نجد عفر، نجد کبکب اور نجد مریع ديكهئے: [معجم البلدان 262/5]
تہامہ سے عراق کی زمین تک نجد ہے۔ [لسان العرب 413/3]
جن احادیث میں قرن الشیطان، زلزلوں اور فتنوں والے نجد کا ذکر ہے، ان سے مراد نجد العراق ہے۔ دیکھئے: ”اكمل البيان فى شرح حديث نجد قرن الشيطان“ از حكيم محمد اشرف سندهو اور ”فتنوں کی سرزمین نجد یا عراق“ از رضاءالله عبدالكريم
نیز دیکھئے: راقم الحروف کی کتاب «الاتحاف الباسم تحقيق وشرح موطأ امام مالك رواية ابن القاسم» [ص 351۔ 352]
حدیث ہذا میں جس نجدی کا ذکر ہے وہ جلیل القدر صحابی (ضمام بن ثعلبة) رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ اوپر [نمبر ➋] گزرا ہے نیز دیکھئے: [الاصابة ص 627 ت 4342]