صحيح البخاري
كتاب الشهادات— کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان
بَابُ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، فِي الأَمْوَالِ وَالْحُدُودِ: باب: دیوانی اور فوجداری دونوں مقدموں میں مدعیٰ علیہ سے قسم لینا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ إِلَى عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77 ، ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، لَفِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي شَيْءٍ ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ .´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا منصور سے ، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ` عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص ( جھوٹی ) قسم کسی کا مال حاصل کرنے کے لیے کھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس پر غضبناک ہو گا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ( اس حدیث کی ) تصدیق کے لیے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم» ” جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی پونجی خریدتے ہیں ۔ «عذاب أليم» “ تک ۔ پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہماری طرف تشریف لائے اور پوچھنے لگے کہ ابوعبدالرحمٰن ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) تم سے کون سی حدیث بیان کر رہے تھے ۔ ہم نے ان کی یہی حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے صحیح بیان کی ، یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ میرا ایک شخص سے جھگڑا تھا ۔ ہم اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا تم دو گواہ لاؤ ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا ۔ میں نے کہا کہ ( گواہ میرے پاس نہیں ہیں لیکن اگر فیصلہ اس کی قسم پر ہوا ) پھر تو یہ ضرور ہی قسم کھا لے گا اور کوئی پروانہ کرے گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ” جو شخص بھی کسی کا مال لینے کے لیے ( جھوٹی ) قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا ۔“ اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت نازل فرمائی تھی ، پھر انہوں نے یہی آیت تلاوت کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ حنفیہ اتنا غور نہیں کرتے کہ اللہ اور پیغمبر کے کلام کو باہم ملانا بہتر ہے یا ان میں مخالفت ڈالنا، ایک پر عمل کرنا، ایک کو ترک کرنا۔
(وحیدی)
الحمد للہ کہ حرم نبوی مدینۃ المنورہ میں 9 اپریل 1970 ءکو حضور ﷺ کے مواجہ شریف میں بیٹھ کر یہاں تک متن کو بغور پڑھا گیا۔
(1)
مذکورہ بالا مقدمے میں حضرت اشعث بن قیس ؓ مدعی تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا: تمہیں اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے دو گواہ پیش کرنا ہوں گے، بصورت دیگر مدعا علیہ قسم اٹھائے گا اور مقدمہ اس کے حق میں ہو گا۔
بہرحال قسم اٹھانا مدعا علیہ کے ذمے ہے بشرطیکہ مدعی اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے دو گواہ پیش نہ کر سکے، یا کم از کم ایک گواہ اور قسم دے گا۔
اگر ایسا نہ کر سکا تو مدعا علیہ قسم اٹھا کر بری ہو جائے گا۔
(2)
بعض لوگ يمين استظهار کے قائل ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مدعی اپنا دعویٰ گواہوں سے ثابت کر دے تو قاضی مدعی سے قسم لے کہ اس کے گواہوں نے جو ثابت کیا ہے وہ مبنی بر حقیقت ہے، اس میں کوئی دھوکا فریب نہیں ہے۔
قاضی شریح، امام نخعی اور اوزاعی وغیرہ اس کے قائل ہیں لیکن جمہور اہل علم اس سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ قرآن و سنت سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔
واللہ أعلم
عبدا للہ بن ابی اوفیٰ ؓ نے کہا یہ آیت اس شخص کے بارے میں اتری، جس نے بازار میں ایک مال رکھ کر جھوٹی قسم کھا کر یہ بیان کیا کہ اس مال کا اس کو اتنا دام ملتا تھا لیکن اس نے نہیں دیا۔
آیت عام ہے، اب بھی اس کا حکم باقی ہے۔
کتنے لوگ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر ناجائز پیسہ حاصل کرتے ہیں۔
کتنے لوگ جھوٹے مقدمات میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔
یہ سب اس آیت کے مصداق ہیں۔
دین فروشی اور عہد شکنی قیامت کے دن محرومی کا باعث ہوگی۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس آدمی نے جھوٹی قسم کے ذریعے سے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے آگ واجب کردی اور اس پر جنت حرام کردی۔
" راوی نے عرض کی: اللہ کے رسولﷺ!اگروہ چیز معمولی سی ہو؟ (تب بھی اس کے لیے آگ واجب ہوگی؟)
آپ نے فرمایا: "ہاں! اگرچہ وہ درخت کی سبز ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔
" (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 353(137)
بہرحال آیت کریمہ میں عہد شکنی پر پانچ وعیدیں مذکور ہیں۔
واللہ المستعان۔
اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعیٰ علیہ سے قسم لے اگر مدعیٰ علیہ جھوٹی قسم کھاتا ہے تو وہ سخت گنہگار ہوگا، مگر عدالت میں بہت لوگ جھوٹ سے بچنا ضروری نہیں جانتے حالانکہ جھوٹی گواہی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
ایسی ہی جھوٹی قسم کھاکر کسی کا مال ہڑپ کرنا اکبر الکبائر یعنی بہت ہی بڑا کبیرہ گناہ ہے۔
اس حدیث کے مطابق عدالت کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے مدعی سے گواہ طلب کرے، اگر وہ گواہ یا دعویٰ کے لیے کوئی ثبوت نہ پیش کر سکے تو مدعا علیہ سے قسم لے۔
اگر وہ جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تو وہ سخت گناہ گار ہو گا اور اگر اس کا جھوٹ ثابت ہو جائے تو عدالت اسے سزا دے سکتی ہے کیونکہ جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہے۔
اور جھوٹی قسم اٹھا کر کسی کا مال ہڑپ کرنا اس سے بڑا جرم ہے۔
کوئی شخص غلط بیانی کرکے جھوٹی قسمیں کھاکر فیصلہ اپنے حق میں کرالے، حالانکہ وہ ناحق پر ہے تو ایسا شخص عنداللہ ملعون ہے، وہ اپنے پیٹ میں آگ کا انگارہ کھارہا ہے۔
قیامت کے دن وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوگا۔
اس کو یہ حقیقت خوب ذہن نشین کرلینی چاہئے۔
جو لوگ قاضی کے فیصلہ کو ظاہر و باطن ہر حال میں نافذ کہتے ہیں، ان کی غلط بیانی کی طرف بھی یہ اشارہ ہے۔
(1)
اس عنوان کے تحت مذکورہ احادیث سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جھوٹ بولنا تو ہر وقت منع ہے لیکن جھوٹی قسم اٹھانا بہت بڑا جرم ہے۔
خاص طور پر عدالت کے روبرو جھوٹی قسم اٹھانا اور جھوٹی گواہی دینا بہت بڑا گناہ ہے۔
جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر اپنے حق میں فیصلہ کرا لیتا ہے ایسا شخص اللہ کے نزدیک ملعون ہے۔
قیامت کے دن وہ اللہ کے عذاب میں گرفتار ہو گا۔
جھوٹی قسم اٹھانے والے کو یہ حقیقت خوب ذہن نشین کر لینی چاہیے۔
(2)
آیت کریمہ کے نزول کے متعلق دونوں احادیث میں بظاہر مخالفت ہے، اس کے متعلق دو طرح سے جواب دیا گیا ہے: ٭ حضرت ابن ابی اوفی ؓ کو اشعث بن قیس ؓ کے واقعے کی اطلاع نہیں ہو سکی، اس لیے انہوں نے اپنی معلومات بیان کی ہیں۔
٭ دونوں واقعات بیک وقت رونما ہوئے اور مذکورہ آیت دونوں واقعات کے بعد نازل ہوئی۔
آیت کے الفاظ دونوں کو شامل ہیں، ان میں کوئی مخالفت نہیں۔
واللہ أعلم
باب کا یہی مقصد ہے کہ مقدمہ سے متعلق مدعی اور مدعی علیہ عدالت میں اپنے اپنے دلائل واضح کردیں، اس کا نام غیبت نہیں ہے۔
(1)
مقصد یہ ہے کہ کسی مقدمے کی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں مدعی اور مدعا علیہ آپس میں سخت کلامی سے پیش آتے ہیں اور عدالت ان کا کوئی نوٹس نہیں لیتی، تو ایسا ممکن ہے بشرطیکہ وہ گفتگو فحش کلامی اور کردار کشی پر مبنی نہ ہو، ہاں اگر کوئی اپنی گفتگو سے عدالت کا احترام مجروح کرتا ہے تو اس کا نوٹس لیا جائے گا۔
اس حدیث کے مطابق حضرت اشعث ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہودی کے متعلق یہ بیان دیا کہ وہ جھوٹی قسم اٹھا کر میرا مال لے اڑے گا۔
چونکہ حضرت اشعث ؓ اس یہودی کے کردار سے واقف تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بیان پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
(2)
عدالت کے سامنے ایسا بیان جس پر کوئی تعزیر یا حد واجب نہ ہو، اسے حرام غیبت میں شمار نہیں کیا جائے گا اور نہ اسے مدعا علیہ کی کردار کشی ہی پر محمول کیا جائے گا۔
(فتح الباري: 93/5)
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ عَلَيْهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ . . .»
". . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی ایسی جھوٹی قسم کھائے جس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کے مال پر ناحق قبضہ کر لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر بہت زیادہ غضب ناک ہو گا . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ: 2357]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہڑپ لینا بہت بڑا گناہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی کی پیلو کی ایک ٹہنی بھی ہڑپ لی اس پر آگ واجب ہو گئی۔ [مسلم: كتاب الايمان: مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ]
(1)
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جب کنویں کا جھگڑا پیش ہوا تو آپ نے مدعی سے گواہ طلب کیے۔
جب وہ گواہ پیش کرنے سے عاجز آ گیا تو آپ نے مدعا علیہ سے قسم طلب کی کیونکہ اسلام کا عدالتی قانون ہے کہ مدعی اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لیے گواہ پیش کرے جبکہ قسم اٹھانا مدعی علیہ کا حق ہے۔
چونکہ شہادت حق اس امت کا امتیاز ہے، اس لیے جھوٹ بولنا، جھوٹی قسم اٹھانا اور جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ کنوؤں میں ملکیت جاری ہوتی ہے، عدالت اس سے متعلقہ مقدمات سننے کی مجاز ہے، پھر اسے حق کے مطابق فیصلہ کرنے کا بھی اختیار ہے۔
اگر یہ تمام لوگوں کے لیے مشترکہ متاع ہے تو اس کے متعلق مقدمہ کیا ہو سکتا ہے، عدالت کیا سماعت کر سکتی ہے؟ (3)
ہمارے معاشرے میں فریقین کے جھگڑے کا فیصلہ پنچائیت میں اکثر و بیشتر اس طرح کیا جاتا ہے کہ کوئی تیسرا فرد مدعا علیہ کی طرف سے قسم دیتا ہے، یہ طریقہ اس حدیث کے مخالف ہونے کی وجہ سے سراسر غلط ہے۔
قسم مدعا علیہ ہی دے گا اور مدعی کو اس کی قسم کا اعتبار کرنا چاہیے اگر وہ جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تو اللہ کے ہاں سزا پائے گا۔
: (1)
قَضِيبٌ: چھڑی، شاخ۔
يَمِين صَبْرٍ: جس پر قسم اٹھانے والا اپنے آپ کو روکتا ہے، جس پر فیصلہ کا انحصار ہے۔
(2)
يَقْتَطِعُ: دباتا ہے، مارتا ہے، مالک سے کاٹ لیتا ہے۔
فوائد ومسائل:
کسی شخص کا حق مارنا یا مال دبانا، خصوصی طور پر جبکہ وہ اپنا دینی بھائی مسلمان ہواتنا بڑا جرم ہے (جبکہ اس کےلیے اللہ کی جھوٹی قسم بھی اٹھائی گئی ہو، یہ حق معمولی ہو یا زیادہ)
کہ اس کا مرتکب، اسلام جو ہمدردی اور خیر خواہی کا نام ہے کو پامال کرتا ہے۔
اور اللہ کے مقام ومرتبہ کی بے حرمتی کرتاہے، اس لیے اگر اس کو معافی نہ مل سکے تو وہ اس سزا کا مستحق ہے کہ دوزخ میں جائے، اور سیدھا جنت میں جانے کے شرف سے محروم ہو جائے۔