صحيح البخاري
كتاب الوكالة— کتاب: وکالت کے مسائل کا بیان
بَابُ الْوَكَالَةِ فِي الْحُدُودِ: باب: حد لگانے کے لیے کسی کو وکیل کرنا۔
حدیث نمبر: 2315
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عنه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " .مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عبیداللہ نے ، انہیں زید بن خالد اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ضحاک اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا ، اے انیس ! اس خاتون کے یہاں جا ۔ اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اسے سنگسار کر دے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
2315. حضرت زید بن خالد اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اے انیس! تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کرے تو اسے رجم کردو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2315]
حدیث حاشیہ: ترجمہ باب اس سے نکلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انیس کو حد لگانے کے لیے وکیل مقرر فرمایا۔
اس سے قانونی پہلو یہ بھی نکلا کہ مجرم خود اگر جرم کا اقرار کر لے تو اس پر قانون لاگو ہوجاتا ہے۔
اس صورت میں گواہوں کی ضرور ت نہیں ہے۔
اور زنا پر حد شرعی سنگساری بھی ثابت ہے۔
اس سے قانونی پہلو یہ بھی نکلا کہ مجرم خود اگر جرم کا اقرار کر لے تو اس پر قانون لاگو ہوجاتا ہے۔
اس صورت میں گواہوں کی ضرور ت نہیں ہے۔
اور زنا پر حد شرعی سنگساری بھی ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2315 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2315. حضرت زید بن خالد اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اے انیس! تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کرے تو اسے رجم کردو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2315]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان سے ایسے خالص حقوق اللہ میں وکالت کو ثابت کیا ہے جو عبادت کے علاوہ ہیں۔
واضح رہے کہ عبادات محضہ، مثلاً: نماز، روزہ اور طہارت وغیرہ میں وکالت جائز نہیں۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت انیس کو حد قائم کرنے کے لیے بھیجا کیونکہ وہ اس عورت کے قبیلے سے تھے، اگر کسی دوسرے قبیلے کہ شخص کو حد قائم کرنے کے لیے بھیجا جاتا تو ممکن تھا کہ وہ اس حکم سے نفرت کرتے۔
حضرت انیس اور ملزمہ عورت کا تعلق قبیلۂ اسلم سے تھا۔
(3)
اس حدیث سے قانونی پہلو یہ برآمد ہوتا ہے کہ اقرار جرم سے گواہوں کی ضرورت ساقط ہوجاتی ہے، نیز یہ بھی معلوم ہواکہ شادی شدہ زانی یا زانیہ کےلیے زنا کی حد سنگسار ہی ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان سے ایسے خالص حقوق اللہ میں وکالت کو ثابت کیا ہے جو عبادت کے علاوہ ہیں۔
واضح رہے کہ عبادات محضہ، مثلاً: نماز، روزہ اور طہارت وغیرہ میں وکالت جائز نہیں۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت انیس کو حد قائم کرنے کے لیے بھیجا کیونکہ وہ اس عورت کے قبیلے سے تھے، اگر کسی دوسرے قبیلے کہ شخص کو حد قائم کرنے کے لیے بھیجا جاتا تو ممکن تھا کہ وہ اس حکم سے نفرت کرتے۔
حضرت انیس اور ملزمہ عورت کا تعلق قبیلۂ اسلم سے تھا۔
(3)
اس حدیث سے قانونی پہلو یہ برآمد ہوتا ہے کہ اقرار جرم سے گواہوں کی ضرورت ساقط ہوجاتی ہے، نیز یہ بھی معلوم ہواکہ شادی شدہ زانی یا زانیہ کےلیے زنا کی حد سنگسار ہی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2315 سے ماخوذ ہے۔