باب: تقسیم وغیرہ کے کام میں ایک ساجھی کا اپنے دوسرے ساجھی کو وکیل بنا دینا۔
حدیث 2299–2300
باب: اگر کوئی مسلمان دار الحرب یا دار الاسلام میں کسی حربی کافر کو اپنا وکیل بنائے تو جائز ہے۔
حدیث 2301–2301
باب: صرافی اور ماپ تول میں وکیل کرنا۔
حدیث 2302–2303
باب: چرانے والے نے یا کسی وکیل نے کسی بکری کو مرتے ہوئے یا کسی چیز کو خراب ہوتے دیکھ کر (بکری کو) ذبح کر دیا یا جس چیز کے خراب ہو جانے کا ڈر تھا اسے ٹھیک کر دیا، اس بارے میں کیا حکم ہے؟
حدیث 2304–2304
باب: حاضر اور غائب دونوں کو وکیل بنانا جائز ہے۔
حدیث 2305–2305
باب: قرض ادا کرنے کے لیے کسی کو وکیل کرنا۔
حدیث 2306–2306
باب: اگر کوئی چیز کسی قوم کے وکیل یا سفارشی کو ہبہ کی جائے تو درست ہے۔
حدیث 2307–2308
باب: ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو کچھ دینے کے لیے وکیل کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنا دے، اور وکیل نے لوگوں کے جانے ہوئے دستور کے مطابق دے دیا۔
حدیث 2309–2309
باب: کسی عورت کا اپنا نکاح کرنے کے لیے بادشاہ کو وکیل بنانا۔
حدیث 2310–2310
باب: کسی نے ایک شخص کو وکیل بنایا پھر وکیل نے (معاملہ میں) کوئی چیز (خود اپنی رائے سے) چھوڑ دی (اور بعد میں خبر ہونے پر) موکل نے اس کی اجازت دے دی تو جائز ہے اسی طرح اگر مقرر مدت تک کے لیے قرض دے دیا تو یہ بھی جائز ہے۔
حدیث 2311–2311
باب: اگر وکیل کوئی ایسی بیع کرے جو فاسد ہو تو وہ بیع واپس کی جائے گی۔
حدیث 2312–2312
باب: وقف کے مال میں وکالت اور وکیل کا خرچہ اور وکیل کا اپنے دوست کو کھلانا اور خود بھی دستور کے موافق کھانا۔
حدیث 2313–2313
باب: حد لگانے کے لیے کسی کو وکیل کرنا۔
حدیث 2314–2316
باب: قربانی کے اونٹوں میں وکالت اور ان کا نگرانی کرنے میں (بیان)۔
حدیث 2317–2317
باب: اگر کسی نے اپنے وکیل سے کہا کہ جہاں مناسب جانو اسے خرچ کرو، اور وکیل نے کہا کہ جو کچھ تم نے کہا ہے میں نے سن لیا۔
حدیث 2318–2318
باب: خزانچی کا خزانہ میں وکیل ہونا۔
حدیث 2319–2319
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔