صحيح البخاري
كتاب جزاء الصيد— کتاب: شکار کے بدلے کا بیان
بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ وَالْمُحْرِمَةِ: باب: احرام والے مرد اور عورت کو خوشبو لگانا منع ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ ، وَلَا الْعَمَائِمَ ، وَلَا الْبَرَانِسَ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ ، وَلَا الْوَرْسُ ، وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ ، وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ " ، تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، وَجُوَيْرِيَةُ ، وَابْنُ إِسْحَاقَ فِي النِّقَابِ وَالْقُفَّازَيْنِ ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَلَا وَرْسٌ ، وَكَانَ يَقُولُ : لَا تَتَنَقَّبْ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ ، وَقَالَ مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : لَا تَتَنَقَّبْ الْمُحْرِمَةُ ، وَتَابَعَهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ .´ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ ! حالت احرام میں ہمیں کون سے کپڑے پہننے کی اجازت دیتے ہیں ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنو نہ پاجامے ، نہ عمامے اور نہ برنس ۔ اگر کسی کے جوتے نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن لے ۔ اسی طرح کوئی ایسا لباس نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہو ۔ احرام کی حالت میں عورتیں منہ پر نقاب نہ ڈالیں اور دستانے بھی نہ پہنیں ۔ لیث کے ساتھ اس روایت کی متابعت موسیٰ بن عقبہ اور اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اور جویریہ اور ابن اسحاق نے نقاب اور دستانوں کے ذکر کے سلسلے میں کی ہے ۔ عبیداللہ رحمہ اللہ نے «ولا ورس» کا لفظ بیان کیا وہ کہتے تھے کہ احرام کی حالت میں عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے استعمال کرے اور امام مالک نے نافع سے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ احرام کی حالت میں عورت نقاب نہ ڈالے اور لیث بن ابی سلیم نے مالک کی طرح روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مردوں کے لیے بھی یہی سب امور ضروری ہیں۔
حیا شرم ملحوظ نہ رہے تو حج الٹا وبال جان بن سکتا ہے۔
آج کل کچھ لوگ عورتوں کے منہ پر پنکھوں کی شکل میں نقاب ڈالتے ہیں، یہ تکلیف بالکل غیر شرعی ہے، احکام شرع پر بلاچون و چرا عمل ضروری ہے۔
(1)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے یہ ثابت کیا ہے کہ محرم مرد یا عورت کسی قسم کی خوشبو کسی صورت میں استعمال نہ کرے کیونکہ اس کا تعلق زینت سے ہے جبکہ حج میں مطلوب اللہ کے حضور نیاز مندی، عجز و انکسار اور ترک زینت کے جذبات پیش کرنا ہے، نیز خوشبو کا استعمال جنسی جذبات کو ابھارتا ہے جو حج و عمرہ جیسی عبادت کے منافی ہے۔
اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں کہ احرام کی حالت میں مرد و عورت کے لیے خوشبو کا استعمال منع ہے۔
امام احمد نے ایک حدیث بایں الفاظ بیان کی ہے: ’’رسول اللہ ﷺ منع فرمایا کرتے تھے کہ عورت احرام کی حالت میں دستانے پہنے یا چہرے پر نقاب ڈالے یا ایسے کپڑے استعمال کرے جنہیں زعفران یا ورس لگی ہو، ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے چاہے پہن سکتی ہے۔
‘‘ (مسندأحمد: 2/22، و فتح الباري: 69/4) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قمیص، شلوار وغیرہ کی ممانعت صرف مردوں کے لیے ہے عورتوں کو پردے کی وجہ سے ان سب کپڑوں کے استعمال کی اجازت ہے، البتہ دستانے پہننے اور منہ پر نقاب باندھنے کی ممانعت ہے لیکن جب اجنبی مرد (غیر محرم)
سامنے آئے تو اپنی چادر یا کسی اور چیز سے انہیں پردہ کر لینا چاہیے۔
(3)
حدیث کے آخر میں چند متابعات کا ذکر ہے جنہیں حافظ ابن حجر ؒ نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 70/4)
(1)
اس حدیث میں ہے کہ محرم آدمی پگڑی نہیں پہن سکتا، اس کا مطلب یہ ہے کہ عام آدمی کو اس کے پہننے کی اجازت ہے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے کوئی صریح حدیث پگڑی کے متعلق پیش نہیں کی۔
شاید انہیں ان کی قائم کردہ شرائط کے مطابق کوئی حدیث دستیاب نہیں ہو سکی۔
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے دیکھا جبکہ آپ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3584)
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے عمامے، یعنی پگڑی کے دونوں سرے اپنے کندھوں کے درمیان لٹکا رکھے تھے۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3587)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ رنگ کا عمامہ پہن رکھا تھا۔
(سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4076) (3)
زمانۂ قدیم سے شریف لوگ پگڑی باندھتے آئے ہیں اور اس کے باندھنے کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں کسی خاص انداز سے پگڑی باندھنا ضروری نہیں ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرم آدمی اوورکوٹ نہیں پہن سکتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کو اوورکوٹ پہننے کی اجازت ہے۔
(1)
حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن میدان محشر میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔
(صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6526)
کہتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شلوار پہنی تھی۔
چونکہ لباس کی اس قسم میں جو آپ نے زیب تن کیا تھا شرمگاہ کی بہت حفاظت ہوتی ہے، اس لیے انہیں قیامت کے دن یہ انعام دیا جائے گا کہ انہیں سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا۔
(عمدة القاري: 15/21) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث سے شلوار پہننے کا جواز ثابت کیا ہے۔
اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شلوار پہننا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں لیکن یہ لباس پردے والا ہے۔
واللہ أعلم
1۔
عنوان سے اس حدیث کی مناسبت اس طرح ہے کہ محرم کو قمیص، پاجامہ اوربارانی استعمال کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ وہ ان سلے کپڑے استعمال کرے اور انھی بغیر سلے احرام والی چادروں میں نماز پڑھے۔
اس سے معلوم ہواکہ نماز کے لیے کپڑے کا سلا ہوا ہوناضروری نہیں، بلکہ اَن سلے کپڑوں میں بھی نماز ہوجاتی ہے، جیسا کہ احرام کی حالت سے ظاہرہے۔
ثابت ہوا کہ کسی خاص کپڑے کی پابندی صحت نمازکے لیے ضروری نہیں حتی کہ اس کا سلا ہواہونا بھی ضروری نہیں، کیونکہ احرام کی حالت میں مردوں کے لیے سلاہوا کپڑاممنوع ہے۔
باب سے مطابقت بایں طور پر بھی ہے کہ اس حدیث کے مطابق قمیص یاپاجامے کی ممانعت صرف محرم کے لیے ہے، خارج از احرام ممانعت نہیں۔
اس سے معلوم ہواکہ غیر محرم ان کپڑوں، یعنی قمیص اورپاجامے میں نماز پڑھ سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
2۔
واضح رہے کہ ابن ابی ذئب نے یہ حدیث دوطریق سے حاصل کی ہے:۔
عن الزهري ؓ، عن سالم عن عبداللہ بن عمر ؓ
۔
عن الزهري، عن نافع، عن عبداللہ بن عمرؓ، قبل ازیں کتاب العلم (حدیث نمبر: 134)
میں طریق نافع بیان کرکے طریق سالم کا اس پر عطف ڈالاتھا اور یہاں اس کے برعکس کیاہے، یعنی طریق سالم بیان کرکے طریق نافع کا اس پرعطف ڈالاہے۔
مقصد یہ ہے کہ اس روایت کے دونوں طریق ایک دوسرے کے موئید ہیں۔
(فتح الباري: 617/1)
(1)
عربوں کے ہاں قمیص پہننے کا بھی رواج تھا، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے متعلق فرمایا کہ وہ قمیص نہ پہنے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چادر سے قمیص زیادہ پسند تھی، چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص سے بڑھ کر اور کوئی کپڑا زیادہ پسند نہ تھا۔
(سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4026)
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آستین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کلائی تک ہوا کرتی تھی۔
(جامع الترمذي، اللباس، حدیث: 1765) (2)
قمیص کے زیادہ پسند ہونے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس میں پردہ زیادہ ہوتا ہے اور چادر کی طرح اسے لپیٹنے اور سنبھالنے کا اہتمام بھی نہیں کرنا پڑتا۔
واللہ أعلم
«. . . عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ؟ فَقَالَ: لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ أَوِ الزَّعْفَرَانُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ . . .»
”. . . ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنے نہ صافہ باندھے اور نہ پاجامہ اور نہ کوئی سرپوش اوڑھے اور نہ کوئی زعفران اور ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہنے اور اگر جوتے نہ ملیں تو موزے پہن لے اور انہیں (اس طرح) کاٹ دے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/بَابُ مَنْ أَجَابَ السَّائِلَ بِأَكْثَرَ مِمَّا سَأَلَهُ:: 134]
ورس ایک قسم کی خوشبودار گھاس ہوتی ہے۔ حج کا احرام باندھنے کے بعد اس کا استعمال جائز نہیں۔ سائل نے سوال تو مختصر سا کیا تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل کے ساتھ اس کو جواب دیا، تاکہ جواب نامکمل نہ رہ جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ استاد کو مسائل کی تفصیل میں فیاضی سے کام لینا چاہئیے تاکہ طلباءکے لیے کوئی گوشہ تشنہ تکمیل نہ رہ جائے۔
الحمدللہ کہ آج عشرہ اول ربیع الثانی 1387ھ میں کتاب العلم کے ترجمہ و حواشی سے فراغت حاصل ہوئی، اس سلسلہ میں بوجہ کم علمی کے خادم سے جو لغزش ہو گئی ہو اللہ تعالیٰ اسے معاف فر مائے۔ «ربنا لا علم لنا الا ماعلمتنا انك انت العليم الحكيم . رب اشرح لي صدري ويسرلي امري آمين ياارحم الراحمين»
1۔
حافظ ابن حجر، ابن المنیر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ جواب کا سوال کے حرف بحرف مطابق ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر سوال میں کسی خاص سبب کا ذکر ہے تو جواب میں بیان کیے گئے حکم کا عام ہونا جائز ہے۔
اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی سائل مفتی سے کسی مخصوص واقعے کے متعلق سوال کرے اور مفتی کو اندیشہ ہو کہ سائل اس جواب سے کوئی غلط فائدہ اٹھا سکتا ہے تو جواب میں اختصار کا طریقہ اختیار نہ کرے بلکہ ایسی تفصیل پیش کرے جس میں دوسرے معنی کا سدباب ہو جائے جیسا کہ حدیث میں جوتا نہ ملنے کی صورت میں موزے پہننے کا حکم ہے۔
سائل نے آپ سے اختیاری حالت کا سوال کیا تھا آپ نے اضطراری حالت کا حکم بھی بتادیا۔
حالت سفر کے لحاظ سے یہ اضطراری حکم کوئی اجنبی چیز نہیں کیونکہ سفر کی حالت میں ایسی مشکلات پیش آسکتی ہیں نیز ارباب اصول اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ جواب کا سوال کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
اس مطابقت سے یہ مراد نہیں کہ جواب کے ساتھ کسی مفید امر کا اضافہ نہ ہو۔
بلکہ مقصد یہ ہے کہ جواب میں سوال کا پورا پورا حل ہو نا چاہیے۔
(فتح الباري: 304/1)
2۔
سوال یہ تھا کہ محرم کے لیے مباح ملبوسات کیا ہیں؟ لیکن جواب میں ان ملبوسات کا ذکر ہے جو محرم کے لیے ناجائز ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ممنوع ملبوسات محدود ہیں جبکہ مباح ملبوسات کی فہرست بہت طویل ہے۔
اگر انھیں بیان کیا جاتا تو جواب بھی طویل ہو جاتا، اس کے ساتھ یہ شبہ بھی پیدا ہوسکتا تھا کہ شاید یہ ملبوسات صرف محرم پہن سکتا ہے غیر محرم کے لیے ان ملبوسات کا استعمال ناجائز ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں وہ طریقہ اختیار فرمایا جو آسان تھا اور اس میں کسی قسم کے اشتباہ کا اندیشہ نہیں تھا۔
(فتح الباري: 304/1)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ سوال سے زیادہ جواب دیا جا سکتا ہے جبکہ اس کی ضرورت ہو۔
سائل نے اپنے سوال میں اختیاری حالت کا ذکر کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جواب میں اختیاری حالت کے ساتھ ساتھ اضطراری حالت کا بھی ذکر کر دیا کہ دوران سفر میں جوتے نہ مل سکیں تو ننگے پاؤں چلنے کے بجائے موزے پہن لیے جائیں۔
اس میں سائل کو تنبیہ بھی ہے کہ تمھیں ان پابندیوں کے متعلق سوال کرنا چاہیے تھا جو احرام کی وجہ سے محرم پر عائد ہوتی ہیں۔
آپ کے جواب کا خلاصہ یہ ہے۔
1۔
سلا ہوا کپڑا استعمال نہ کیا جائے۔
2۔
اپنے سرکوکھلا رکھا جائے۔
3۔
خوشبو استعمال نہ کی جائے۔
اس حکم میں مرد عورتیں تمام شامل ہیں۔
4۔
پاؤں میں کھلا جوتا پہنا جائے۔
دیگر مسائل و احکام کتاب الحج میں بیان کیے جائیں گے۔
3۔
حدیث میں مطلق طور پر رنگین کپڑوں کی ممانعت نہیں ہے جیسا کہ’’امام تدبر‘‘ نے سمجھا ہے بلکہ صرف ورس اور زعفران سے رنگے ہوئے کپڑوں کی ممانعت ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں خوشبودار ہیں۔
اگرانھیں اچھی طرح دھو کر خوشبو کے اثرات زائل کر دیے جائیں تو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
آخر میں ’’امام تدبر‘‘ نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراض جڑ دیا ہے کہ ’’امام صاحب کی رائے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب سائل کے سوال کی ضرورت سے زائد دیا ہےحالانکہ یہ بات درست نہیں۔
‘‘(تدبر حدیث: 234/1)
یہ اعتراض بھی اصلاحی صاحب کا خود ان کی اپنی نافہمی یا پندار علم کا نتیجہ ہے ورنہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی زیر نظر حدیث پر تبویب روز روشن کی طرح واضح ہے ع،دیدہ کو رکو کیاآئے نظر، کیا دیکھے؟
ہر سلا ہوا کپڑا پہننا مرد کو احرام میں ناجائز ہے لیکن عورتوں کو درست ہے۔
خلاصہ یہ کہ ایک لنگی اور ایک چادر، مرد کا یہی احرام ہے۔
یہ ایک فقیری لباس ہے، اب یہ حاجی اللہ کا فقیربن گیا، اس کو اس لباس فقر کا تا زندگی لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
ا س موقع پر کوئی کتنا ہی بڑا بادشاہ مالدار کیوں نہ ہو سب کو یہی لباس زیب تن کر کے مساوات انسانی کا ایک بہترین نمونہ پیش کرنا ہے اور ہر امیر وغریب کو ایک ہی سطح پر آجانا ہے تاکہ وحدت انسانی کا ظاہراً اور باطناً بہتر مظاہرہ ہوسکے اور امراء کے دماغوں سے نخوت امیری نکل سکے اور غرباء کو تسلی واطمینان ہوسکے۔
الغرض لباس احرام کے اندر بہت سے روحانی ومادی وسماجی فوائد مضمر ہیں مگر ان کا مطالعہ کرنے کے لئے دیدہ بصیرت کی ضرورت ہے اور یہ چیز ہر کسی کو نہیں ملتی۔
﴿إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾
(1)
ورس ایک زرد رنگ کی خوشبودار گھاس ہے جس میں کپڑوں کو رنگا جاتا تھا۔
چونکہ اس میں رنگے ہوئے کپڑوں میں خوشبو اور زینت ہے، اس لیے محرم کے لیے ان کا استعمال درست نہیں۔
اسی طرح زعفران میں رنگے ہوئے کپڑے بھی محرم کے لیے ناجائز ہیں۔
گویا احرام ایک سادہ اور فقیرانہ لباس ہے، اسے زیب تن کر کے انسان کو اللہ تعالیٰ کا فقیر بننا چاہیے۔
اس موقع پر جتنا بڑا بادشاہ یا امیر ہو اسے یہی احرام کی دو چادریں پہننا ہوتی ہیں تاکہ وحدتِ انسانی کا مظاہرہ ہو سکے۔
(2)
قمیص اور شلوار سے مراد ہر وہ کپڑا ہے جو بدن کی قد وقامت کے مطابق سلا ہوا ہو، نیز ٹوپی اور پگڑی سے مراد ہر وہ کپڑا ہے جس سے سر ڈھانپا جائے اور موزوں سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے پاؤں چھپائے جائیں۔
(3)
احرام کے متعلق مذکورہ شرائط صرف مردوں کے لیے ہیں، البتہ عورتیں صرف زعفرانی اور ورس زدہ کپڑوں سے اجتناب کریں، اس کے علاوہ نقاب باندھنے پر پابندی ہے لیکن جب غیر محرم سامنے آئے تو پردہ کرنا ضروری ہے۔
(فتح الباري: 507/3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موزے پہننے کی اس وقت اجازت ہے جب اسے جوتا نہ ملے۔
عدم وجدان سے مراد یہ ہے کہ ان کے حاصل کرنے پر قدرت نہ ہو۔
اس کی تین صورتیں ہیں: ان کا نہ ملنا، قیمت کا نہ ہونا اور قیمت کا گراں ہونا۔
ایسے حالات میں موزے پہنے جا سکتے ہیں لیکن یہ اجازت مشروط ہے کہ انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لیا جائے۔
پہلی حدیث میں انہیں کاٹنے کا ذکر نہیں ہے۔
اس اطلاق کو دوسری حدیث سے مقید کیا جائے گا جبکہ بعض ائمہ انہیں کاٹنا ضروری خیال نہیں کرتے۔
واللہ أعلم
(1)
الْمُحْرِمُ: بیت اللہ کی حاضری کے لیے حج یا عمرہ کی خاطر، میقات سے فقیرانہ لباس پہن کر جانے والا۔
(2)
الْقُمُصَ: قمیص کی جمع ہے، الْعَمَائِمَ: عمامة کی جمع ہے پگڑی۔
(3)
سَرَاوِيلَاتِ،: سراويل کی جمع ہے اور یہ سروال کی جمع ہے، شلوار، پاجامہ اور ان سے مراد جسمانی ساخت اور وضع کے مطابق سلے ہوئے کپڑے ہیں، وہ قمیص کرتا، صدری، کوٹ ہو یا شلوار، پاجامہ اور پینٹ یا پتلون۔
(4)
بَرَانِسَ: برنس کی جمع ہے، وہ کوٹ جس کے سر پر رکھنے کی ٹوپی بھی سلی ہو، برانڈی یا اوور کوٹ، عمائم اور برانس سے اشارہ ہے کہ سر پر کوئی چیز نہیں رکھی جا سکتی، وہ پگڑی، رومال ہو یا ٹوپی اور ہیٹ وغیرہ۔
(5)
خِفَافَ: خف کی جمع ہے، موزہ، یعنی پاؤں کو ڈھانپا نہیں جا سکتا، موزے یا جرابیں پہننا درست نہیں ہے، ہاں اگر جوتا اور چپل وغیرہ میسر نہ ہوتو پھر اس کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہنا جا سکتا ہے۔
(6)
زعْفَرَانُ: معروف چیز ہے اور ورسایک خوشبودار؟زرد بوٹی ہے، مقصود یہ ہے کہ حالت احرام میں خوشبو استعمال نہیں کی جاسکتی اور نہ خوشبودار کپڑا یا تیل استعمال کیا جاسکتا ہے۔
فوائد ومسائل: سائل نے ان کپڑوں کے بارے میں سوال کیا تھا جو محرم پہن سکتا ہے۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ دیا کہ فلاں فلاں کپڑے نہ پہنے تو اس طرح آپﷺ نے جواب میں اس طرف اشارہ کیا کہ پوچھنے کی بات نہیں کہ محرم کون سے کپڑے پہنے، بلکہ یہ دریافت کرنا چاہیے تھا کہ کس قسم کے کپڑے نہیں پہننے چاہئیں کیونکہ ممنوع کپڑے چند ایک ہیں اور جو پہنے جا سکتے ہیں۔
وہ بے شمارہیں، سلے ہوئے کپڑے مردوں کے لیے جائز نہیں ہیں، لیکن عورتوں کے لیے ان کی ممانعت نہیں ہے ہاں خوشبو کی ممانعت ہے وہ موزے پہن سکتی ہے لیکن دستانے استعمال نہیں کرسکتی اور نہ منہ پر نقاب ڈال سکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اجنبی مردوں کے سامنے کھلے چہرے پھرتی رہے، جیسا آج کل یہ فیشن بن چکا ہے، اجنبی مردوں کا سامنا ہو تو وہ اپنی چادر سے یا کسی اور چیز سے اوٹ کر لے جیسا کہ سنن ابی داؤد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے، ’’کہ جب ہمارے سامنے سے مرد گزرتے تو ہم اپنی چادر سر کے اوپر سے لٹکا لیتی تھیں اور اس طرح پردہ کرتی تھیں اور جب مرد آگے بڑھ جاتے تو ہم اپنے چہرے کھول دیتی تھیں۔
‘‘
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑ ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کون کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ قمیص پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے اور نہ موزے، الا یہ کہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ خف (چمڑے کے موزے) پہنے اور اسے کاٹ کر ٹخنے سے نیچے کر لے ۱؎ اور نہ ایسا کوئی کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہو ۲؎، اور محرم عورت نقاب نہ لگائے اور نہ دستانے پہنے “ ۳؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 833]
1؎:
جمہور نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے خف (چمڑے کے موزوں) کے کاٹنے کی شرط لگائی ہے لیکن امام احمد نے بغیر کاٹے خف (موزہ) پہننے کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ((مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ)) جو بخاری میں آئی ہے مطلق ہے، لیکن جمہور نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہاں مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، حنابلہ نے اس روایت کے کئی جوابات دیئے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت منسوخ ہے کیونکہ یہ احرام سے پہلے مدینہ کا واقعہ ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت عرفات کی ہے، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہا کی روایت حجت کے اعتبار سے ابن عباس کی روایت سے بڑھی ہوئی ہے کیونکہ وہ ایسی سند سے مروی ہے جو أصح الاسانید ہے۔
2؎:
ایک زرد رنگ کی خوشبودار گھاس ہے جس سے کپڑے رنگے جاتے تھے، اس بات پر اجماع ہے کہ حالتِ احرام میں مرد کے لیے حدیث میں مذکور یہ کپڑے پہننے جائز نہیں ہیں، قمیص اور سراویل (پاجامے) میں تمام سلے ہوے کپڑے داخل ہیں، اسی طرح عمامہ اور خفین سے ہر وہ چیز مراد ہے جو سر اور قدم کو ڈھانپ لے، البتہ پانی میں سر کو ڈبونے یا ہاتھ یا چھتری سے سر کو چھپانے میں کوئی حرج نہیں، عورت کے لیے حالت احرام میں وہ تمام کپڑے پہننے جائز ہیں جن کا اس حدیث میں ذکر ہے البتہ وہ ورس اور زعفران میں رنگے ہوئے کپڑ ے نہ پہنے۔
3؎:
محرم عورت کے لیے نقاب پہننا منع ہے، مگر اس حدیث میں جس نقاب کا ذکر ہے وہ چہرے پر باندھا جاتا تھا، برصغیر ہند و پاک کے موجودہ برقعوں کا نقاب چادر کے پلو کی طرح ہے جس کو ازواج مطہرات مردوں کے گزرتے وقت چہروں پر لٹکا لیا کرتی تھیں اس لیے اس نقاب کو عورتیں بوقت ضرورت چہرے پر لٹکا سکتی ہیں اور چونکہ اس وقت حج میں ہروقت اجنبی مردوں کا سامنا پڑتا ہے اس لیے ہر وقت اس نقاب کو چہرے پرلٹکائے رکھ سکتی ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! احرام میں آپ ہمیں کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہن لے جو ٹخنوں سے نیچے سے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگا ہو، اور محرمہ عورت نہ نقاب پہنے، اور نہ دستانے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2682]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: ” محرم قمیص (کرتا) ٹوپی، پائجامہ، عمامہ (پگڑی) اور ورس اور زعفران لگا کپڑا نہ پہنے ۱؎، اور موزے نہ پہنے اور اگر جوتے میسر نہ ہوں تو چاہیئے کہ دونوں موزوں کو کاٹ ڈالے یہاں تک کہ انہیں ٹخنوں سے نیچے کر لے “ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2668]
(2) ”برانڈی“ وہ کوٹ یا کرتا جس کے ساتھ ٹوپی بھی ہوتی ہے۔
(3) ”موزے“ یعنی چمڑے کے موزے۔ صحیح قول کے مطابق موزوں کا پہننا جائز ہے، خواہ وہ کٹے ہوئے نہ بھی ہوں۔ دراصل احرام کی حالت میں موزے پہننے کی بابت دو قسم کی روایات آتی ہیں: ایک یہ کہ انھیں کاٹ کر پہنا جائے اور دوسری یہ کہ موزوں کو ان کی اصل حالت میں پہنا جائے، البتہ جس حدیث میں موزے کاٹنے کا حکم ہے وہ ابتدائے احرام کا ہے جبکہ دوسرا حکم عرفے کے دن کا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کاٹنے کا حکم منسوخ ہے۔ واللہ أعلم! دیکھیے: (صحیح البخاري، جزاء الصید، حدیث: 1841، وصحیح مسلم، الحجد، حدیث: 1178)
(4) سوال تھا کیا پہنے؟ جواب ملا، فلاں فلاں چیز نہ پہنے۔ کیونکہ یہ پہنی جانے والی چیزیں قلیل ہیں اور پہنی جانے والی کثیر، لہٰذا اختصار کی خاطر ایسے جواب دیا۔ یہ بھی بلاغت کی ایک بہترین صورت ہے کہ جواب کے ساتھ ساتھ سوال کی تصحیح کر دی جائے۔
(5) حدیث میں مذکور لباس کی ممانعت اور دو سادہ ان سلے کپڑے پہننے میں حکمت یہ ہے کہ آدمی خشوع وتذلل کی صفت سے متصف اور رفاہیت سے دور رہے تاکہ اسے یاد دہانی رہے کہ وہ محرم ہے، اس لیے وہ کثرت اذکار اور عبادت کی طرف متوجہ رہے اور ممنوعات کے ارتکاب سے باز رہے، نیز اس سے مساوات اور اتحاد کا درس ملے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے، نہ ٹوپیاں، نہ موزے، البتہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہو، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں ورس زعفران لگے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2676]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم نہ قمیص پہنو نہ عمامے نہ پائجامے، نہ ٹوپیاں اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو جوتے نہ مل پائیں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے سے کر لے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2670]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” احرام میں نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے (پگڑیاں) نہ ٹوپیاں، نہ موزے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2679]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور اس نے پوچھا: جب ہم محرم ہوں تو کیا پہنیں؟ تو آپ نے فرمایا: ” نہ قمیص پہنو، نہ عمامے (پگڑیاں)، نہ ٹوپیاں، نہ پائجامے، نہ موزے البتہ اگر جوتے نہ ہوں تو ایسے موزے پہنو جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور نہ ورس اور زعفران لگے ہوئے کپڑے پہنو۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2678]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کس طرح کے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامہ، نہ ٹوپیاں سوائے اس کے کہ کسی کے پاس جوتے موجود نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگے ہوں اور محرم عورت نہ نقاب پہنے اور نہ ہی دستانے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2674]
(2) ”دستانے نہ پہنے“ مقصد یہ ہے کہ وہ ہاتھ ننگے رکھے تاکہ دوران حج و عمرہ میں کوئی تنگی نہ ہو۔ معلوم ہوا اس دور میں خواتین پردے کے لیے دستانے بھی استعمال کرتی تھیں۔ مشہور تو یہی ہے کہ دستانے ہاتھوں کو سردی، گرمی یا پانی سے بچانے کے لیے ہوتے ہیں مگر بعض اہل لغت نے اس سے زیور بھی مراد لیا ہے جس کے ساتھ ہاتھ چھپ جاتے ہیں۔ خیر! احرام میں ہاتھ ننگے رہنے چاہئیں۔
«. . . 219- وبه: أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يلبس المحرم من الثياب؟ فقال صلى الله عليه وسلم: ”لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الأخفاف، إلا أحدا لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين، ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران ولا الورس.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: احرام باندھنے والا کون سے کپڑے پہنے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حالتِ احرام میں) نہ قمیضیں پہنو اور نہ عمامے (پگڑیاں باندھو)، نہ شلواریں پہنو اور نہ ٹوپیاں (یا سر کے رومال) اور نہ بند جوتے (موزے) پہنو سوائے اس کے کہ اگر کسی کے پاس کھلے جوتے نہ ہوں تو موزے (بوٹ) پہن لے اور ٹخنوں سے نیچے والے حصے کو کاٹ دے۔ کپڑوں میں سے ایسا کوئی کپڑا نہ پہنو جس پر زعفران یا ورس (ایک خوش بودار بوٹی) لگی ہو ئی ہو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 315]
تفقه
➊ احرام دو سفید (اَن سلی) چادروں کو کہتے ہیں جن میں سے ایک کو حج یا عمرہ کرنے والا بطورِ ازار باندھتا ہے اور دوسری چادر کو اوڑھ لیتا ہے، یہ حکم مردوں کے لئے ہے۔ عورتوں کا عام لباس ہی ان کا احرام ہے۔
➋ اس حدیث میں جن اشیاء سے حالتِ احرام میں منع کیا گیا ہے، اس پر اتفاق ہے کہ یہ ممنوع ہیں۔
➌ احرام کے دوران میں ممنوع کام تین طرح کے ہیں: قسم اول: درج ذیل کام، مردوں اور عورتوں دونوں پر (حالت احرام میں) حرام ہیں: ① سر اور سارے جسم کے کسی حصے سے بال مونڈنا یا جان بوجھ کر گرانا۔ (اگر سر یا داڑھی کے بعض بال خارش کے دوران میں گر جائیں تو کوئی گناہ نہیں اور نہ اس سے دم واجب آتا ہے)
② ہاتھوں اور پاؤں کے ناخن تراشنا۔ [نيز ديكهئیے ح224]
③ احرام باندھنے کے بعد جسم یا (احرام کے) کپڑے پر خوشبو لگانا۔
④ (اپنی بیوی سے) جماع کرنا یا جماع کی طرف دعوت دینے والی حرکات کرنا مثلاً: نکاح کرنا یا باندھنا، شہوت سے دیکھنا یا بوسے لینا۔ وغیرہ
⑤ (حلال جانوروں کا) شکار کرنا۔
⑥ دستانے پہننا۔
قسم دوم:
درج ذیل چیزیں صرف مردوں پر حرام ہیں عورتوں پر حرام نہیں ہیں: ① سلے ہوئے کپڑے پہننا مثلاً بنیان، (انڈروئیر، پاجامہ) شلوار وغیرہ۔
② کسی چپکی ہوئی چیز (مثلاً ٹوپی، رومال وغیرہ) کے ساتھ سر کو ڈھانپنا۔
قسم سوم:
عورتوں پر (حالتِ احرام میں) درج ذیل کام حرام ہیں: ① نقاب پہننا، اسے عربی میں ”برقع“ بھی کہتے ہیں۔ (عورتوں پر میقات سے گزرنے کے بعد دستانے پہننا اور نقاب اوڑھنا حرام ہے) عورت اپنے ہاتھ کپڑے وغیرہ سے ڈھانپ سکتی ہے۔ اگر اجنبی مرد نزدیک ہوں تو ان سے اپنا چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں چھپانا واجب (یا افضل) ہے کیونکہ یہ عورت (پر لازم کیا گیا یا جائز قرار دیا گیا) ہے۔ [حاجي كے شب و روز ص33، 34]
➍ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے ”حاجی کے شب وروز“ [ص 15، 29، 33، 47، 56، 76]
➎ قاسم بن محمد بن ابی بکر نے فرمایا: (حالت احرام میں) ہمیان (روپے پیسے کی تھیلی یا پٹی باندھنا، لٹکانا) جائز ہے۔ [ابن ابي شيبه فى المصنف 3/393 ح15448، وسنده صحيح]
مجاہد بھی اسے جائز سمجھتے تھے۔ [ابن ابي شيبه: 15453، وسنده صحيح]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا احرام باندھنے والا کیا لباس پہنے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وہ قمیص، پگڑی، شلوار و پاجامہ، کٹ ٹوپ اور موزے نہ پہنے۔ لیکن اگر کسی شخص کے پاس جوتے نہیں تو وہ موزے پہن لے اور اسے چاہیئے کہ دونوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے اور ایسا کوئی کپڑا نہ پہنے جسے زعفران اور کیسو (ایک زرد رنگ کی خوشبودار بوٹی) لگا ہوا ہو۔ “ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 596]
«السَّرَاوِيل» شلوار۔
«الْبَرَانِسَ» یہ «برنس» کی جمع ہے۔ برنس کی ”با“ اور ”نون“ پر ضمہ اور دونوں کے درمیان ”را“ ساکن ہے۔ یہ ہر اس کپڑے کو کہتے ہیں جس کا کچھ حصہ ٹوپی وغیرہ پر مشتمل ہو، خواہ کوئی زرہ یا جبہ یا اوورکوٹ وغیرہ ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ لمبی ٹوپی ہے جو ابتدائے اسلام میں حج کرنے والے پہنتے تھے۔
«الْخِفِافَ» ”خا “ کے نیچے زیر ہے۔ «خف» کی جمع ہے، یعنی موزے۔
«فَلْيَقْطَعْهُمَا أسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ» انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے تاکہ وہ جوتے کہ حکم میں ہو جائیں۔ اور اس سے مقصود یہ ہے کہ احرام کے دوران میں ٹخنے ننگے رہیں۔ اور کعب سے مراد وہ ابھری ہوئی دو ہڈیاں ہیں جو پاؤں اور پنڈلی کے جوڑ کے قریب دائیں بائیں ہوتی ہیں۔
«اَلْوَرْس» ”واؤ“ پر زبر اور ”را“ ساکن ہے۔ زرد رنگ کی خوشبو دار گھاس جس میں کپڑے رنگے جاتے ہیں۔ زعفران اور ورس کے رنگ سے رنگے ہوئے لباس کی ممانعت اس لیے ہے کہ ان میں خوشبو ہوتی ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ احرام کے وقت قمیص، پاجامہ، شلوار، ٹوپی، برانڈی اور موزے پہننا درست نہیں۔
➋ جوتے اگر میسر نہ ہوں، صرف موزے ہوں تو اس حدیث کی رو سے انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لینا چاہیے، تاہم فقہا کے مابین اس بارے میں اختلاف ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ موزے کو پہننے کو جائز قرار دیتے ہیں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں موزوں کو کاٹنے کا حکم منسوخ ہے کیونکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ابتدائے احرام کے وقت تھی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں کاٹنے کا حکم نہیں اور یہ حکم آپ نے عرفات میں بیان فرمایا تھا، اس لیے کاٹنے کا حکم منسوخ ہے۔ اور یہی رائے راجح اور درست معلوم ہوتی ہے، نیز شیخ البانی رحمہ اللہ اور سعودی علمائے کرام کی بھی یہی رائے ہے۔ «والله اعلم»
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [فتاويٰ اسلاميه، اردو 331/2]
امام احمد رحمہ اللہ اور اکثر شوافع چادر نہ ہونے کی صورت میں مطلقاً شلوار پہننے کے قائل ہیں اور ان کا استدلال بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہے جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ اس کے قطعاً قائل نہیں۔ البتہ امام محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ اور بعض شوافع کا کہنا ہے کہ اگر چادر میسر نہ ہو شلوار کو پھاڑ کر چادر نما بنا کر پہننا جائز ہے، مگر ان کا یہ قول محض قیاس پر مبنی ہے جس پر کوئی نص نہیں، اس لیے شلوار کے بارے میں صحیح موقف امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ ہی کا معلوم ہوتا ہے کہ چادر نہ ہونے کی بنا پر احرام میں شلوار پہننا جائز ہے۔
➍ زعفران اور ورس سے رنگا ہوا لباس بھی احرام میں جائز نہیں۔ یہ ممانعت رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ خوشبو کی وجہ سے ہے کیونکہ احرام کے بعد خوشبو لگانا بالاتفاق حرام ہے، البتہ اگر اسے دھو کر اس کی خوشبو زائل کر دی جائے تب جائز ہے۔