الادب المفرد
كتاب الرسائل— كتاب الرسائل
بَابُ: بِمَنْ يَبْدَأُ فِي الْكِتَابِ؟ باب: خط کے شروع میں کس کا نام لکھائے
حدیث نمبر: 1126
وَعَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيِ ابْنِ عُمَرَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِفُلاَنٍ، فَنَهَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَقَالَ: قُلْ: بِسْمِ اللهِ، هُوَ لَهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
انس بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے خط لکھا: «بسم الله الرحمن الرحیم»، فلاں کے نام۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے منع کر دیا اور فرمایا کہ اس طرح لکھو: «بسم اللہ»۔ یہ اس کے نام ہے یعنی هو لکھ کر اس کا نام لکھو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا موقف یہی تھا کہ خط لکھنے والے کو پہلے اپنا نام لکھنا چاہیے، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر اس کے برعکس بھی کر لیتے تھے کیونکہ یہ کوئی حلال و حرام والا مسئلہ نہیں۔ بات افضل اور غیر افضل کی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا موقف یہی تھا کہ خط لکھنے والے کو پہلے اپنا نام لکھنا چاہیے، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر اس کے برعکس بھی کر لیتے تھے کیونکہ یہ کوئی حلال و حرام والا مسئلہ نہیں۔ بات افضل اور غیر افضل کی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1126 سے ماخوذ ہے۔