سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَنْ رَأَى التَّخْفِيفَ فِيهَا باب: ان لوگوں کا ذکر جن کے نزدیک مغرب میں ہلکی سورتیں پڑھنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 813
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ مَا تَقْرَءُونَ وَالْعَادِيَاتِ وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَاكَ مَنْسُوخٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حماد کہتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ` ان کے والد مغرب میں ایسی ہی سورۃ پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو مثلاً سورۃ العادیات اور اسی جیسی سورتیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ۱؎ حدیث منسوخ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ روایت زیادہ صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی سورہ مائدہ، انعام اور اعراف پڑھنے والی حدیث، اگر منسوخ کے بجائے یہ کہا جائے کہ ’’وہ بیان جواز کے لئے ہے‘‘ تو زیادہ بہتر ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ان لوگوں کا ذکر جن کے نزدیک مغرب میں ہلکی سورتیں پڑھنی چاہئے۔`
حماد کہتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ ان کے والد مغرب میں ایسی ہی سورۃ پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو مثلاً سورۃ العادیات اور اسی جیسی سورتیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ۱؎ حدیث منسوخ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 813]
حماد کہتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ ان کے والد مغرب میں ایسی ہی سورۃ پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو مثلاً سورۃ العادیات اور اسی جیسی سورتیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ۱؎ حدیث منسوخ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 813]
813۔ اردو حاشیہ:
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسی اختصار قرأت کو راحج قرار دیا ہے، ورنہ دیگر صحیح روایات سے اس کا نسخ ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس میں «توسع» ہے اور یہ آخری روایت تابعی کا عمل ہے۔ [عون المعبود]
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری قراءت مغرب میں «والمرسلات عرفاً» تھی، جیسا کہ ام الفضل رضی اللہ عنہا کی روایت گزری ہے۔ [حديث۔ 810]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسی اختصار قرأت کو راحج قرار دیا ہے، ورنہ دیگر صحیح روایات سے اس کا نسخ ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس میں «توسع» ہے اور یہ آخری روایت تابعی کا عمل ہے۔ [عون المعبود]
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری قراءت مغرب میں «والمرسلات عرفاً» تھی، جیسا کہ ام الفضل رضی اللہ عنہا کی روایت گزری ہے۔ [حديث۔ 810]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 813 سے ماخوذ ہے۔