کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: ان لوگوں کا ذکر جن کے نزدیک مغرب میں ہلکی سورتیں پڑھنی چاہئے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ مَا تَقْرَءُونَ وَالْعَادِيَاتِ وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَاكَ مَنْسُوخٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حماد کہتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ` ان کے والد مغرب میں ایسی ہی سورۃ پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو مثلاً سورۃ العادیات اور اسی جیسی سورتیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ۱؎ حدیث منسوخ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ روایت زیادہ صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی سورہ مائدہ، انعام اور اعراف پڑھنے والی حدیث، اگر منسوخ کے بجائے یہ کہا جائے کہ ’’وہ بیان جواز کے لئے ہے‘‘ تو زیادہ بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ،عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ الْمُفَصَّلِ سُورَةٌ صَغِيرَةٌ وَلَا كَبِيرَةٌ إِلَّا وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ بِهَا فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` مفصل ۱؎ کی چھوٹی بڑی کوئی سورت ایسی نہیں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرض نماز میں لوگوں کی امامت کرتے ہوئے نہ سنا ہو ۔
وضاحت:
۱؎: صحیح قول کی رو سے سورۃ ’’ق‘‘ سے اخیر قرآن تک کی سورتیں ’’مفصل‘‘ کہلاتی ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَنَّهُ " صَلَّى خَلْفَ ابْنِ مَسْعُودٍ الْمَغْرِبَ ، فَقَرَأَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ` انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پیچھے مغرب پڑھی تو انہوں نے «قل هو الله أحد» پڑھی ۔