حدیث نمبر: 5235
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ , حَدَّثَنَا حَفْصٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي السَّفَرِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ : " مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُطَيِّنُ حَائِطًا لِي أَنَا وَأُمِّي , فَقَالَ : مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , شَيْءٌ أُصْلِحُهُ , فَقَالَ : الْأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، میں اور میری ماں اپنی ایک دیوار پر مٹی پوت رہے تھے ، آپ نے فرمایا : عبداللہ ! یہ کیا ہو رہا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ مرمت ( سرمت ) کر رہا ہوں ، آپ نے فرمایا : معاملہ تو اس سے بھی زیادہ تیزی پر ہے ( یعنی موت اس سے بھی قریب آتی جا رہی ہے ، اعمال میں جو کمیاں ہیں ان کی اصلاح و درستگی کی بھی فکر کرو ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5235
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (5449), الأعمش صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (456)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الزھد 25 (2335)، سنن ابن ماجہ/الزھد 13 (4160)، (تحفة الأشراف: 8650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/161) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2335 | سنن ابن ماجه: 4160

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2335 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´امت محمدیہ کا فتنہ مال ہے۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم اپنا چھپر کا مکان درست کر رہے تھے، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ گھر بوسیدہ ہو چکا ہے، لہٰذا ہم اس کو ٹھیک کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا: میں تو معاملے (موت) کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہا ہوں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2335]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مکان کی لیپا پوتی اور اس کی اصلاح ومرمت نہ کی جائے بلکہ مراد اس سے موت کی یاد دہانی ہے، تاکہ موت ہروقت انسان کے سامنے رہے اورکسی وقت بھی اس سے غفلت نہ برتے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2335 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4160 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اس وقت ہم اپنی ایک جھونپڑی درست کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا: یہ ہماری جھونپڑی ہے، ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے خیال میں موت اس سے بھی جلد آ سکتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4160]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
معاملے کی جلدی سے مراد یہ ہے کہ معلوم نہیں موت کب آجائے۔
شاید مرمت کیے ہوئے گھر میں رہنا نصیب ہو یا نہ ہو۔

(2)
نصیحت میں موقع محل کی مناسبت کا خيال رکھنا چاہیے۔

(3)
سر چھپانے کے لیے مکان کی ضرورت تو ہے لیکن موت کو نہیں بھولنا چاہیے۔
جس طرح دنیا کی ضرورت کے لیے کوشش کرتے ہیں اس سے زیادہ آخرت کے گھر کی فکر ضروری ہے۔

(4)
بے جا تکلفات سے ہر ممکن حد تک بچنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4160 سے ماخوذ ہے۔