حدیث نمبر: 5145
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ جَالِسًا ، فَأَقْبَلَ أَبُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهُ بَعْضَ ثَوْبِهِ فَقَعَدَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ أُمُّهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَوَضَعَ لَهَا شِقَّ ثَوْبِهِ مِنْ جَانِبِهِ الْآخَرِ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ أَخُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَقَامَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر بن سائب کا بیان ہے کہ` انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے رضاعی باپ آئے ، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا ، وہ اس پر بیٹھ گئے ، پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا ، وہ اس پر بیٹھ گئیں ، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ کھڑے ہو گئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5145
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19141) (ضعیف الإسناد) » (اس کی سند میں اخیر سے کم سے کم دو راوی ساقط ہیں، عمر بن سائب تبع تابعی ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان۔`
عمر بن سائب کا بیان ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے رضاعی باپ آئے، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئے، پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ کھڑے ہو گئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5145]
فوائد ومسائل:
یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
تاہم رضاعی والدین اور رضاعی بہن بھایئوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی شرعی واجبات میں سے ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5145 سے ماخوذ ہے۔