حدیث نمبر: 5036
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْدَةَ أَوْ عُبَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِيهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُشَمِّتُ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُشَمِّتَهُ فَشَمِّتْهُ ، وَإِنْ شِئْتَ فَكُفَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبید بن رفاعہ زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھینکنے والے کا جواب تین بار دو اس کے بعد اگر جواب دینا چاہو تو دو ، اور نہ دینا چاہو تو نہ دو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5036
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2744), عبيدة لا يعرف حالھا (تقريب التهذيب: 8638) وأبو خالد الدالاني يزيد بن عبد الرحمٰن مدلس, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 174
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9746)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 5 (2744) (ضعیف) » (سند میں راوی یزید بن عبدالرحمن کثیر الخطاء اور حمیدہ یا عبیدہ بنت عبید مجہول راوی ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2744

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2744 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟`
عبید بن رفاعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " چھینکنے والے کی چھینک کا جواب تین بار دیا جائے گا، اور اگر تین بار سے زیادہ چھینکیں آئیں تو تمہیں اختیار ہے جی چاہے تو جواب دو اور جی چاہے تو نہ دو۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2744]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’یزید بن عبد الرحمن ابوخالدالدالاني‘‘ بہت غلطیاں کرجاتے تھے، اور ""عمر بن إسحاق بن أبي طلحة‘‘ اور ان کی ماں ''حمیدہ یا عبیدہ'' دونوں مجہول ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2744 سے ماخوذ ہے۔