سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ باب: راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4817
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : وَتُغِيثُوا الْمَلْهُوفَ ، وَتَهْدُوا الضَّالَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ` میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا ، آپ نے فرمایا : ” اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان۔`
ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ” اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4817]
ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ” اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4817]
فوائد ومسائل:
ان صفات و خصائل کو معمولی اور اضافی صفات نہیں سمجھنا چاہیئے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ صفات ایمان واسلام کو کامل کرتی ہیں۔
یہ روایت بعض کے نزدیک صحیح ہے۔
ان صفات و خصائل کو معمولی اور اضافی صفات نہیں سمجھنا چاہیئے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ صفات ایمان واسلام کو کامل کرتی ہیں۔
یہ روایت بعض کے نزدیک صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4817 سے ماخوذ ہے۔