حدیث نمبر: 4817
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : وَتُغِيثُوا الْمَلْهُوفَ ، وَتَهْدُوا الضَّالَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ` میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا ، آپ نے فرمایا : ” اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4817
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن حجير العدوي مستور (تق : 8461) و روي له الضياء المقدسي في المختارة, وللحديث شواهد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10673) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان۔`
ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4817]
فوائد ومسائل:
ان صفات و خصائل کو معمولی اور اضافی صفات نہیں سمجھنا چاہیئے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ صفات ایمان واسلام کو کامل کرتی ہیں۔
یہ روایت بعض کے نزدیک صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4817 سے ماخوذ ہے۔