حدیث نمبر: 2830
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ الْمَعْنَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ : قَالَ نُبَيْشَةُ نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ، قَالَ : " اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا ، قَالَ : إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتَكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ " ، قَالَ نَصْرٌ : اسْتَحْمَلَ لِلْحَجِيجِ ذَبَحْتَهُ فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ ، قَالَ خَالِدٌ : أَحْسَبَهُ ، قَالَ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ : فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ ، قَالَ خَالِدٌ : قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ كَمْ السَّائِمَةُ قَالَ : مِائَةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا : ہم جاہلیت میں رجب کے مہینے میں «عتيرة» ( یعنی جانور ذبح ) کیا کرتے تھے تو آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” جس مہینے میں بھی ہو سکے اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرو ، اللہ کے لیے نیکی کرو ، اور کھلاؤ “ ۔ پھر وہ کہنے لگا : ہم زمانہ جاہلیت میں «فرع» ( یعنی قربانی ) کرتے تھے ، اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر چرنے والے جانور میں ایک «فرع» ہے ، جس کو تمہارے جانور جنتے ہیں ، یا جسے تم اپنے جانوروں کی «فرع» کھلاتے ہو ، جب اونٹ بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے ( نصر کی روایت میں ہے : جب حاجیوں کے لیے بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے ) تو اس کو ذبح کرو پھر اس کا گوشت صدقہ کرو - خالد کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے کہا : مسافروں پر صدقہ کرو - یہ بہتر ہے “ ۔ خالد کہتے ہیں : میں نے ابوقلابہ سے پوچھا : کتنے جانوروں میں ایسا کرے ؟ انہوں نے کہا : سو جانوروں میں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2830
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (1478)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الفرع والعتیرة 1 (4233)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 2 (3137)، (تحفة الأشراف: 11586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/75، 76) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3167 | سنن نسائي: 4233 | سنن نسائي: 4234 | سنن نسائي: 4236 | سنن نسائي: 4237

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4233 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عتیرہ کی تفسیر۔`
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4233]
اردو حاشہ: مقصود یہ ہے کہ نیکی کے لیے کسی مہینے کی قید نہیں، کسی بھی وقت غریبوں کو کھلایا جا سکتا ہے۔ رجب کی قید مناسب نہیں۔ اپنی طرف سے کسی مہینے، دن یا وقت کو متعین کر لینا اور پھر اس کو واجب یا افضل خیال کرنا صحیح نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی نیکی کے لیے خاص اوقات وایام اور ماہ وسال مقرر کرنا کسی انسان کاحق ہے نہ اس کی ذمہ داری، بلکہ نیکی کے لیے وقت کی تعیین صرف اﷲ تعالیٰ کا حق ہے۔ اس میں تصرف کا اختیار کسی اور کو نہیں۔ مزید برآں یہ بھی ضروری ہے کہ نیکی کی کیفیت اور مقدار وہی معتبر ہوگی جو شریعت نے مقرر کر دی ہے۔ اس سے تجارز بدعات اور ایجادِ بندہ قرار پائیں گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4233 سے ماخوذ ہے۔