حدیث نمبر: 2144
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْمُهَلَّبِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ دَاوُدَ الْوَرَّاقِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي نِسَائِنَا ؟ قَالَ : " أَطْعِمُوهُنَّ مِمَّا تَأْكُلُونَ ، وَاكْسُوهُنَّ مِمَّا تَكْتَسُونَ ، وَلَا تَضْرِبُوهُنَّ وَلَا تُقَبِّحُوهُنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : ہماری عورتوں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو تم خود کھاتے ہو وہی ان کو بھی کھلاؤ ، اور جیسا تم پہنتے ہو ویسا ہی ان کو بھی پہناؤ ، اور نہ انہیں مارو ، اور نہ برا کہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2144
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (في الكبريٰ : 9151), داود الوراق مستور, والحديث السابق (الأصل : 2143) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 11395)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (9151) (صحیح) »