حدیث نمبر: 1848
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ ، قَالَ : " الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفُوَيْسِقَةُ وَيَرْمِي الْغُرَابَ وَلَا يَقْتُلُهُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ وَالسَّبُعُ الْعَادِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : محرم کون کون سا جانور مار سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” سانپ ، بچھو ، چوہیا کو ( مار سکتا ہے ) اور کوے کو بھگا دے ، اسے مارے نہیں ، اور کاٹ کھانے والے کتے ، چیل اور حملہ کرنے والے درندے کو ( مار سکتا ہے ) “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1848
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف وقوله يرمي الغربا ولا يقتله منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (838) ابن ماجه (3089), يزيد : ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 21 (838)، سنن ابن ماجہ/المناسک 91 (3089)، ( تحفة الأشراف: 4133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/104، 3/3، 32، 79) (ضعیف) وقولہ: ’’یرمي الغراب ولا یقتلہ‘‘ منکر (یزید ضعیف ہیں) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 838 | سنن ابن ماجه: 3089

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 838 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´محرم کون کون سے جانور مار سکتا ہے؟`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم سرکش درندے، کاٹ کھانے والے کتے، چوہا، بچھو، چیل اور کوے مار سکتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 838]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 838 سے ماخوذ ہے۔