حدیث نمبر: 1116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ،وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ لَهُ " أَصَلَّيْتَ شَيْئًا ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزْ فِيهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” کیا تم نے کچھ پڑھا ؟ “ ، انہوں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (875)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1114)، (تحفة الأشراف: 2294، 12368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/316) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1114

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1114 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´دوران خطبہ مسجد میں آنے والا کیا کرے؟`
ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے (میرے نزدیک) آنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لی ہے؟ تو انہوں نے کہا: جی نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو، اور ہلکی پڑھو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1114]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ مذکورہ روایت (قبل ان تجيء)
 کے الفاظ کے بغیر صحیح مسلم اور ابوداؤد میں بھی مروی ہے۔
جس کا ذکر صاحب تحقیق نے نیچے حاشہ میں کیا ہے۔
اور سنن ابوداؤد (حدیث: 1116)
میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت (قبل ان تجيء)
 کے الفاظ کے بغیر صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1114 سے ماخوذ ہے۔