عبید اللہ طاہر حفظ اللہ
واجب روزے کی نیت طلوع فجر سے پہلے کرنا ضروری ہے
❀ «عن حفصة رضي الله عنها عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من لم يجمع الصيام قبل الفجر، فلا صيام له »
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی روزے کے لیے فجر سے پہلے پختہ ارادہ نہ کرے تو اس کا روزہ نہیں ہے۔“ [سنن ابو داود 2454، سنن ترمذي 730، سنن نسائي 2331، صحيح]
نوٹ: یعنی روزے کے لیے طلوع فجر سے پہلے پہلے نیت کرنا ضروری ہے، نیت رات کے کسی بھی حصے میں کافی ہے اور زبان سے نیت کرنا شرط نہیں ہے۔
یہ حکم رمضان کے روزے، رمضان کی قضاء اور نذر کے روزے کے بارے میں ہے۔ نفل روزے کی نیت طلوع فجر کے بعد بھی جائز ہے۔