ہشام بن عروہ پر اعتراضات اور عید والی روایت کا تحقیقی جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد الحق اثری کی کتاب اسلام اور موسیقی پر اشراق کے اعتراضات کا جائزہ سے ماخوذ ہے۔

ہشام بن عروہ پر بحث:

کسی راوی کی عدالت پر اس حیثیت سے نقد تو اربابِ اشراق نہ کر سکے مگر تہذیب کے حوالہ سے فرمایا: کہ ہشام عراق جانے کے بعد غیر محتاط ہو گئے تھے۔ اور امام حاکم نے (معرفۃ علوم الحدیث:ص 105) میں ان کا اپنا اعتراف نقل کیا ہے کہ میں نے اپنے والد سے صرف ایک روایت سنی ہے باقی تمام روایات میں نے نہیں سنیں۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ نادر تحقیق بھی ذکر کر دی کہ یہ روایت ان سے شعبہ، حماد بن سلمہ، معمر، ابو معاویہ، عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ نے نقل کی ہے جو سب اہل عراق میں سے ہیں۔ (اشراق:ص20، 21۔ اپریل2006ء)

بلاشبہ امام یعقوب بن شیبہ نے فرمایا ہے کہ عراق جانے کے بعد وہ اپنے والد سے روایات نقل کرنے میں غیر محتاط ہو گئے تھے۔ لیکن عراق سے مراد کیا اقلیم عراق ہے یا کوفہ؟ (تہذیب:ص 50، ج11) ہی میں یہ تفصیل موجود ہے کہ کوفہ میں ہشام تین مرتبہ آئے اور معتنن روایات وہ دوسری اور تیسری بار آمد پر بیان کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ محرم مچھر مار سکتا ہے یا نہیں؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اہل عراق مچھر کے بارے میں پوچھتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے نواسے کو شہید کرتے ہیں۔ (بخاری:3753) ظاہر ہے کہ یہاں عراق سے مراد کوفہ ہے پورا اقلیم عراق نہیں۔ عراق اور عراقی روایات کے بارے میں جس قدر آثار واقوال ہیں ان میں سے اکثر وبیشتر مراد یہی الکوفہ ہے پورا اقلیم عراق نہیں۔ بلکہ ہم نے عرض کیا کہ ہشام بن عروہ کے بارے میں یہ اعتراض کوفہ میں دوسری اور تیسری بار آمد سے متعلق ہے۔ اس لئے اسے پورے اقلیم عراق سے نتھی کرنا درست نہیں، ہشام سے روایت کرنے والوں کی فہرست میں حماد بن سلمہ اور معمر دونوں بصری شاگرد ہیں کوفی قطعاً نہیں، اس لئے ہشام کی روایت کو ضعیف قرار دینے کی کوشش قابلِ التفات نہیں۔ اسی طرح (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص105) کےحوالے سے ہشام کا یہ قول کہ میں نے اپنے والد سے صرف ایک حدیث سنی ہے اور اسی بنا پر یہ فرمایا کہ ہشام کی روایت کو یقینی طور پر متصل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (اشراق:ص61۔ اپریل2006ء)

اس سلسلے میں اولاً ہماری گزارش یہ ہے کہ امام حاکم نے یہ قول [محمد بن صالح الہاشمی ثنا أبو جعفر المستعینی ثنا علی بن عبد اللہ المدینی قال: قال أبی: وسمعت یحیی یقول کان ہشام] کی سند سے ذکر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سند میں علی بن عبد اللہ المدینی کون سا راوی ہے؟ اگر اس سے مراد معروف امام علی بن عبد اللہ بن جعفر المدینی ہیں، جو معروف امام ہیں تو ان کے والد ضعیف ہیں (تقریب: ص260) معرفۃ علوم الحدیث کے حاشیہ میں بعض نسخوں سے نقل کیا ہے کہ یہ علی بن عبد اللہ بن علی بن المدینی ہے، لیکن یہ علی بن عبد اللہ بن علی اور اس کا والد کون ہیں اور ان کو کس نے ثقہ کہا ہے؟ ایک احتمال یہ ہے کہ صحیح عبد اللہ بن علی بن عبد اللہ المدینی ہے، جو امام علی ابن المدینی کے صاحبزادے ہیں اور اپنے والد کے اقوال ذکر کرتے ہیں، مگر عبد اللہ بن علی کی توثیق وتعدیل تتبعِ بسیار کے باوجود نہیں ملی۔ یہی بات علامہ البانی رحمہ اللہ نے (الارواء:ص93 ج6)،(معجم اسامی الرواۃ: ص241 ج2) میں کہی ہے۔ اسی طرح ابو جعفر المستعینی کا ترجمہ بھی ہمیں نہیں ملا۔ [ولعل الله يحدث بعد ذلك أمراً]

اس قول کے غلط ہونے کی یہ بات بھی برہانِ قاطع ہے کہ یہ روایت بخاری اور مسلم کی ہے بلکہ شیخین نے تقریباً تین سو روایات ہشام بن عروہ کی سند سے ذکر کی ہیں۔ کیا اس قول کی بنا پر سمجھ لیا جائے کہ یہ سب روایات یقینی طور پر متصل نہیں ہیں۔ صحیحین میں تو مدلسین کا عنعن محمول علی السماع قرار دیا گیا ہے۔ مگر ہشام کی یہ روایت غیر متصل ہے، سبحان اللہ۔ اس قول کے غلط ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ بخاری شریف میں ہشام أخبرنی أبی، ہشام حدثنی أبی، ہشام سمعت أبی کی سند سے جس میں تصریح بسماع ہے، روایات موجود ہیں۔ ملاحظہ ہوں، حدیث 43، 293، 325، 347، 584، 951، 890، 998، 1148، 1786، 1727، 1928، 1942، 1954، 1996 وغیرہ، یہ ابتدائی دو ہزار احادیث میں چودہ احادیث ہیں جن میں ہشام اپنے باپ سے سماع کی صراحت کرتے ہیں۔ صحیح بخاری، مسلم اور مسانید وسنن وغیرہ کی روایات میں تصریحِ سماع اس پر مستزاد ہے۔ لیکن افسوس کہ ادارۂ اشراق اپنے غلط موقف کے لئے ایک ایسے قول کا سہارا لینے پر ادھار کھائے بیٹھا ہے جس کی اپنی سند محلِ نظر ہے اور اس کا نتیجہ بھی بالکل غلط اور حقائق کے منافی ہے۔

مزید برآں یہ بھی دیکھیے کہ صحیح بخاری کی یہ حدیث جو عبید اللہ بن إسماعيل عن أبي أسامة عن هشام عن عروة کی سند سے مروی ہے۔ تنہا یہی روایت اس سند سے منقول نہیں بلکہ اس کے علاوہ تیرہ احادیث اور بھی ہیں جو من وعن اسی سند سے مروی ہیں۔ ملاحظہ ہو: تحفۃ الاشراف (ص 129۔135 ج 14) ادارۂ اشراق تو اپنی جرأتِ رندانہ کے تحت کہہ سکتا ہے کہ یہ سب یقینی طور پر متصل نہیں، اور یہ بھی عراقی کوفی شاگرد حماد بن اسامہ ابو اسامہ سے مروی ہیں، اس لئے یہ سب متصل نہیں ہیں، لیکن حدیث کا ذوقِ سلیم رکھنے والا کوئی طالبِ علم یہ بات نہیں کہہ سکتا۔

چلیے ہم فرض کرتے ہیں کہ آخری دور میں عراق جانے کے بعد ہشام بن عروہ غیر محتاط ہو گئے تھے، لیکن کیا دلیل ہے کہ یہ روایت ہشام نے اسی غیر محتاط دور میں بیان کی تھی؟ تہذیب التہذیب کے حوالہ سے ہشام کے اس غیر محتاط دور کا ذکر تو اربابِ اشراق نے کر دیا مگر اسی تہذیب میں یہ صراحت بھی ہے کہ اس دور میں ہشام سے وکیع، ابن نمیر اور محاضر نے سنا ہے۔ چناں چہ اس کے الفاظ ہیں: [سمع منه بآخره وكيع وابن نمير ومحاضر] (التہذیب: ص50 ج11)

بتلائیے کہ امانت و دیانت کی یہ کیا معراج ہوئی کہ اپنے موقف کی تائید میں ہشام کی روایت کو ضعیف قرار دینے کے لئے ایک بات تو نقل کر دی جائے اور جس سے اس کی کمزوری کا ازالہ ہوتا ہو اسے نظر انداز کر دیا جائے۔ صحیح بخاری اور مسلم میں جب یہ روایت وکیع، ابن نمیر اور محاضر کے علاوہ ہشام کے دیگر متقدمین تلامذہ سے مروی ہے تو ہشام کی روایت کو اس اعتراض کی بنا پر غیر متصل قرار دینا قطعاً قرینِ انصاف نہیں۔

محدثین کے ہاں یہ بات تقریباً طے شدہ ہے کہ صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایات محمول علی السماع ہیں اور مختلطین کی روایات قبل از اختلاط مروی ہیں۔ اگر کہیں ایسے راوی سے روایات لی ہیں تو دیگر شواہد کی تائید کی بنا پر لی ہیں، کیوں کہ شیخین کا اس حوالے سے تتبع معروف ہے۔ کجا ائمۂ حدیث کا یہ فیصلہ اور کجا ادارۂ اشراق کا ہشام عن عروۃ کے بارے میں ایک روایت کے علاوہ باقی روایات کو غیر متصل قرار دینا اور فرمانا کہ عراق جانے کے بعد ہشام کی روایات کو اکابر محدثین تسلیم نہیں کرتے۔ (اشراق: ص60، اپریل2006ء) غور فرمائیے کہ اگر اکابر محدثین کی یہی رائے تھی تو کیا اصحابِ الصحاح عراقی تلامذہ سے ہشام کی روایات کو اپنی کتابوں میں ذکر کرتے؟ اور ائمۂ فن ان روایات کو صحیح قرار دیتے؟ ہمیں بتلایا جائے کہ وہ کون سے اکابر محدثین ہیں جنہوں نے صحیحین میں ہشام عن عروہ کی روایات کو غیر متصل قرار دیا ہے؟ بلکہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ: [في حديث العراقيين عن هشام أوهام تحتمل] ہشام سے عراقیوں کی حدیث میں اوہام محتمل ہیں۔ (السير: ص46 ج6)

لہٰذا علیٰ الاطلاق ہشام سے عراقیوں کی روایات پر کلام کرنا درست نہیں۔

ادارۂ اشراق کا نیا اصول

اسی بحث کے ضمن میں ادارۂ اشراق نے ایک اور خود ساختہ اصول بھی یہاں ذکر کیا کہ اس روایت میں عروہ سے ابو الاسود کی روایت تو زیادہ مضبوط ہے کیوں کہ ان سے صرف ایک راوی عمرو بن الحارث اسے نقل کرتے ہیں اور عمرو سے ان کے ایک ہی شاگرد عبد اللہ بن وہب روایت کرتے ہیں اور راویوں کے محدود ہونے کے باعث متن مختلف راویوں کے تصرفات سے محفوظ رہا۔ اس کے برعکس ابن شہاب اور ہشام بن عروہ سے ان کے متعدد شاگردوں نے اس متن کو نقل کیا ہے۔ جس کی وجہ سے متن میں راویوں کے شخصی رجحانات کا اثر نمایاں ہے۔ جیسے صحیح ابن حبان میں ابن شہاب سے اسحاق بن راشد نے متن میں یہ الفاظ داخل کئے ہیں: [فسبهما وخرق دفيهما] یا جیسے ابو اسامہ نے [قالت: وليستا بمغنيتين] کا اضافہ ہشام کی روایت میں کیا ہے۔ (اشراق: ص61-62)

ایک حدیث کا متن مختلف راویوں سے مروی ہو تو قاعدہ یہ ہے کہ تمام ثقہ راویوں کی بیان کردہ روایت کو ملایا جاتا ہے اور مختلف اجزا کو جمع کر کے ایک مکمل روایت کو معین کیا جاتا ہے، بشرطیکہ ثقہ کا بیان کیا ہوا کوئی جملہ یا حصہ شاذ نہ ہو۔ اس بحث میں حصہ لینے والے اشراق کے مقالہ نگار جناب محترم عمار خان صاحب اپنے داداجان ہی سے دریافت فرما لیتے کہ ثقہ کی زیادتی کا کیا حکم ہے تو وہ اس قدر طول بیانی بلکہ لن ترانی میں اپنا وقت ضائع نہ کرتے۔ چناں چہ مولانا سرفراز صاحب صفدر نقل فرماتے ہیں کہ زیادتیِ ثقہ کی بالاتفاقِ جملہ محدثین صحیح و معتبر ہے۔ (احسن الکلام: ص194 ج1)

مولانا انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں:

[اعلم أن الحديث لم يجمع إلا قطعة قطعة فتكون قطعة منه عند واحد وقطعة أخرى عند واحد فليجمع طرقه وليعمل بالقدر المشترك ولا يجعل كل قطعة منه حديثا مستقلا]

اور خوب جان لو کہ حدیث کو ٹکڑوں کی صورت میں جمع کیا گیا ہے۔ پس ایک ٹکڑا ایک راوی کے پاس، اور دوسرا دوسرے راوی کے پاس ہوتا ہے، لہٰذا چاہیے کہ حدیث کی تمام سندیں (اور متون) جمع کر کے قدرِ مشترک پر عمل کیا جائے اور ہر ٹکڑے کو مستقل حدیث نہ بنایا جائے۔ (فیض الباری: ص455 ج3)

حماد بن اسامہ ابو اسامہ بالاتفاق ثقہ و ثبت ہیں، ان کا بیان کیا ہوا جملہ روایت کے مخالف نہیں، امام بخاری اور امام مسلم کا اپنی صحیح میں اسے بیان کرنا اس پر مستزاد ہے، بلکہ ادارۂ اشراق کے علاوہ تمام علمائے امت کا اس کی صحت پر اتفاق ہے۔ متقدمین میں سے کسی صاحبِ علم سے اس پر اعتراض منقول نہیں۔ ادارۂ اشراق نے محض اوہام کی بنا پر اس پر حرف گیری کی ہے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔

رہے صحیح ابن حبان کی روایت کے الفاظ جس میں اسحاق بن راشد نے متن میں یہ الفاظ داخل کئے ہیں۔ [فسبهما وخرق دفيهما] کا ذکر کرتے ہیں تو یہ جملہ بالخصوص [وخرق دفيهما] کے الفاظ بلاشبہ محلِ نظر ہیں، اس لئے کہ اسحاق بن راشد گو ثقہ ہیں تاہم امام زہری سے روایت کرنے میں ان کے کچھ اوہام ہیں۔ چناں چہ حافظ ابن حجر کے الفاظ ہیں: [ثقة في حديثه عن الزهري بعض الوهم] (التقریب: ص 35)

اور یہ روایت بھی اسحاق بن راشد نے امام زہری سے ہی بیان کی ہے۔ اس لئے ادارۂ اشراق کا اس حوالے سے اعتراض قطعاً درست نہیں۔ رہی یہ بات کہ زیادہ مضبوط متن وہ ہے جو ابو الاسود کی روایت کرتے ہیں اور ان سے عمرو بن الحارث نقل کرتے ہیں اور عمرو سے ان کے صرف ایک شاگرد ابن وہب ہی روایت کرتے ہیں اور اس کے متن میں راوی کے تصرف کا شبہ نہیں، ہمارے نزدیک ابو الاسود یا ہشام یا زہری کا بیان کیا ہوا متن جو ثقہ راویوں سے منقول ہے ان میں بھی کوئی معنوی اشکال نہیں، جیسا کہ ان شاء اللہ آئندہ اس کی وضاحت آئے گی۔

یہ بات بھی عجیب ہے کہ ابو الاسود کے طریق سے متن راویوں کے قیاسات اور تصرفات سے محفوظ ہے۔ شاید انہوں نے توجہ نہیں فرمائی کہ ابو الاسود کی اسی سند سے اس کے متصل بعد یہ الفاظ بھی ہیں کہ عید کے روز حبشی لوگ برچھیوں سے کھیل رہے تھے۔ [فبما سألت النبی صلی اللٰه عليه وآله وسلم وإما قال:تشتهين تنظرين] پھر میں نے آپ سے ان کو دیکھنے کے بارے میں سوال کیا یا آپﷺ نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا)! کیا تم دیکھنا چاہتی ہو؟

اس ابو الاسود کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ تر دو منقول ہے، دونوں میں کون سی بات راجح ہے؟ جس طرح دوسری روایات سے متعین کیا جائے گا بالکل اسی طرح ابو الاسود کی روایت میں جو جواری یعنی گانے والی کون اور کیسی تھیں؟ کی وضاحت اگر ہشام کی روایت سے ہو گئی ہے کہ وہ مغنیہ نہ تھیں تو دونوں میں کوئی منافات نہیں۔ ابو الاسود کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے تردد کا حل اگر دوسری روایات سے درست ہے تو گانے والیوں کے بارے میں وضاحت نا قابلِ قبول کیوں ہے؟

ہماری اس وضاحت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہشام کی روایت میں ابو اسامہ کا اضافہ ثقہ و ثبت راوی کا ہے جو کسی لفظ کے منافی نہیں اس لئے یہ بالکل صحیح ہے۔ شیخین کا اسے اپنی الصحیح میں ذکر کرنا اور کسی قابلِ اعتبار محدث کا اس پر اعتراض نہ کرنا اس کے صحیح ہونے کی برہان ہے۔ اور ہشام بن عروہ کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا وہ بے بنیاد اور تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور وساوس پر مبنی ہیں۔ جس طرح ابو الاسود کی روایت [قالت دخل علی رسول الله صلی اللٰه عليه وآله وسلم… قالت: وكان يوم عيد]۔ (بخاری:کتاب الجہاد، باب الدرق:2907) میں دونوں جگہ یہ مقولہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہے حالاں کہ [بخاری:کتاب العیدین:رقم 949] میں دوسری جگہ پر قالت نہیں۔ اسی طرح ہشام کی روایت [قالت دخل] اور [قالت ولیستا بمغنيتين] بھی مقولہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہے۔ یہاں اس کا انکار بے معنی اور محض باطل اعتراض پر مبنی ہے۔