گاڑی کی انشورنس کا حکم

تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

گاڑی کی انشورنس کا حکم
انشورنس حرام ہے اور یہی اصل ہے، کیونکہ یہ سود اور غرر (دھوکے) پر مشتمل ہے۔
انشورنس کروانے والا تھوڑا مال دیتا ہے اور زیادہ لے لیتا ہے۔ کبھی کچھ نہیں لیتا اور کسی وقت کمپنی بہت بڑے خسارے سے دو چار ہو جاتی ہے، لیکن یہ نہ کہو میں یہاں سے وہاں سے، ادھر سے اور ادھر سے لے لیتا ہوں، لہٰذا ایک جہت سے نفع ہو جاتا ہے لیکن دوسری طرف کبھی کمپنی انشورنس کی رقم دس ہزار دیتی ہے تو لاکھوں کا نقصان اٹھاتی ہے، یہاں اس میں دھوکا در آتا ہے۔
[ابن باز : مجموع الفتاوى و المقالات : 315/19]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾

گاڑی کی انشورنس کا حکم