مضمون کے اہم نکات
مسئلہ حاضر و ناظر
حفیظ الرحمن قادری بریلوی صاحب لکھتے ہیں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر ناظر ماننا شرک ہے؟ سرکار دو عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مزار پرانوار میں زندہ ہیں اور ساری کائنات کو ملاحظہ فرمارہے ہیں اور جسمانی طور پر جہاں تشریف لے جانا چاہیں تشریف لے جاسکتے ہیں بلکہ ایک وقت میں کئی جگہ تشریف فرما ہو سکتے ہیں۔ (شرک کیا ہے صفحہ : 76)
الجواب :
قارئین محترم ! آپ نے قادری صاحب کا عقیدہ و نظریہ تو ملاحظہ فرما لیا۔ خود ہی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں اور جہاں چاہیں تشریف لے جاسکتے ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ پر موجود نہیں ہیں ورنہ جہاں چاہیں تشریف لے جائیں کے کیا معنیٰ ہیں؟ اگر ہر مقام پر پہلے سے ہی حاضر و ناظر ہیں۔
تو پھر کسی جگہ سے کہیں جانے کی ضرورت ہی کیوں درپیش آئی؟ جبکہ آپ کے عقیدے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ پر حاضر و ناظر ہیں تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ جہاں پر آپ تشریف لے جائیں گے وہاں پہلے سے موجود نہیں تھے ورنہ تشریف لانے کے کیا معنیٰ ہیں؟
حاضر و ناظر کا منطقی نتیجہ
حاضر و ناظر کے معنیٰ موجود دیکھنے والا ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کے پاس موجود ہیں تو پھر سب صحابی بن جائیں گے کیونکہ ایمان کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں جو بیٹھا وہ صحابی ہے خواہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو۔ کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے بھی تھے جو نابینا تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا مگر صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھنے کی وجہ سے صحابی بن گئے۔
جیسے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ اس سے ثابت ہوا کہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی حالت میں دیکھ لیں وہ بھی صحابی ہو جاتا ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں تو پھر ہر مسلمان صحابی ہو گیا۔ اس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دوسرے مسلمانوں پر امتیازی فضیلت ختم ہو جاتی ہے۔
مکی و مدنی نسبت کا استدلال
اس پر بھی غور فرمائیں کہ قرآن کریم میں صرف دو طرح کی سورتیں ہیں، کچھ مکی اور کچھ مدنی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے اس وقت نازل ہونے والی سورتیں مکی ہیں اور جب مدینہ تشریف لے گئے اس کے بعد نازل ہونے والی سورتیں مدنی ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا میں ہر جگہ موجود تھے تو باقی مقامات والی سورتوں کا تذکرہ کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف مکی مدنی سرکار ہی کیوں کہا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چینی، ہندی، سندھی، ایرانی، ہندوستانی، پاکستانی، افغانی یا پوری دنیا کے دوسرے شہروں کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا جاتا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں، ہر شہر کے باشندے ہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم عربی ہی کیوں کہا جاتا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عجمی کیوں نہیں کہا جاتا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عجم میں بھی ہر جگہ ہر وقت مقیم و موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان صرف عربی ہی کیوں تھی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے تمام شہروں میں موجود ہیں پھر ہر ملک اور ہر علاقے کی زبان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں بولتے تھے؟
زیارتِ مدینہ و دیگر شہروں کا سوال
نعت خواں حضرات اپنی نعتوں میں صرف مکہ اور مدینہ کی تعریف کیوں کرتے ہیں، دنیا کے دوسرے شہروں کی تعریف کیوں نہیں کرتے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ہر شہر میں حاضر و ناظر تھے اور بقول آپ کے آج بھی موجود ہیں؟
لوگ عقیدت و محبت سے سفر کر کے مکہ اور مدینہ کی طرف کیوں جاتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاکستان کے ہر شہر میں موجود ہیں، انڈیا کے ہر شہر میں موجود ہیں، سرکار تو لاہور میں بھی موجود ہیں، پھر مکہ مدینہ کا اتنا طویل سفر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
آنے جانے کا فلسفہ اور نعتوں کے اشعار
نعت پڑھنے والے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ ان اللہ کے بندوں سے کوئی پوچھے کہ سرکار تو پہلے سے یہاں موجود حاضر و ناظر ہیں تو آ کہاں سے گئے؟ آتے تو وہ ہیں جو پہلے موجود نہ ہوتے۔ یہ تمہارا کیا عجیب فلسفہ ہے؟
اندھی عقیدت اور حقیقت کی تلاش
کچھ نعت خواں حضرات یوں کہتے ہیں کہ سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں، میرے گھر میں بھی ہو جائے چراغاں یا رسول اللہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عاشق کے گھر پہلے تشریف نہیں لائے تھے۔ میں سوچتا ہوں کہ اس نے سنا کس سے ہے؟ یہ بھی جھوٹ ہے۔ کبھی میں بھی یہ پڑھا کرتا تھا مگر میں نے کسی سے سنا ہوا نہیں تھا۔ پھر قابل غور بات یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف عاشقوں کے گھر حاضر و ناظر ہوتے ہیں، غیر عاشقوں کے گھر، غیر مسلموں کے گھر حاضر و ناظر نہیں ہوتے؟ پھر ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں تو پھر تشریف لانے کے کیا معنیٰ ہیں؟ جب بندہ ضد، تعصب، عناد کو دل سے نکال کر سچائی پر غور کرتا ہے۔
تو اس پر حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے مگر اندھی عقیدت کے پردے سمجھنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں۔ میں خود اس مسئلہ پر اہل حدیث کا بہت مخالف تھا مگر جب عقیدت کے پردوں کو آنکھوں سے ہٹا کر دیکھا تو حقیقت کچھ اور تھی۔ قرآن و حدیث میں تحقیق کی تو اللہ تعالیٰ نے سمجھ عطا فرمائی۔
ہجرتِ نبویﷺ اور موجودگی کا مسئلہ
غور فرمائیں کہ پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے معنیٰ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانے کے ہیں۔ اس بات کو ابتدائی جماعت کا طالب علم بھی بخوبی جانتا ہے کہ ہجرت کے کیا معنیٰ ہیں۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ والوں نے ہجرت پر مجبور کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آبائی وطن چھوڑنا پڑا۔
مکہ کی محبت اور ہجرت کی حقیقت
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تو کتنا پاکیزہ اور دل پسند شہر ہے اور تو مجھے کتنا محبوب ہے، اگر میری قوم نے مجھے نکالا نہ ہوتا تو تجھے چھوڑ کر کسی اور جگہ سکونت اختیار نہ کرتا۔ (معارف الحدیث ج 4 ص279 مشکوٰۃ ص 238 باب حرم مکہ)
غور فرمائیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کو مخاطب کر کے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو چھوڑا ہی نہیں تھا تو پھر ہجرت نبوی کا انکار لازم آتا ہے کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے تو مدینہ میں نہ تھے اور جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو مکہ میں نہ تھے، پھر ہر جگہ حاضر کیسے ہوئے؟
مشرکین کا گھیراؤ اور حضورﷺ کی عدم موجودگی
ہجرت کی رات مشرکین نے منصوبے کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کا گھیراؤ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نازک ترین لمحے میں مشرکین کی امانتیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیں، اپنی چادر عنایت فرمائی اور حکم دیا کہ میرے بستر پر سو جاؤ، تمہیں کفار تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے۔ (سیرت ابن ہشام ج 1 ص182 بحوالہ الرحیق المختوم ص284)
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ پر موجود ہوتے تو مشرکین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف ایک مکان کا گھیراؤ کرنے کی کیا ضرورت تھی بلکہ وہ دنیا کی ہر جگہ کا گھیراؤ کرتے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک ہی گھر میں موجود تھے اس لیے اس جگہ کا گھیراؤ کیا گیا۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اپنے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سونے کا حکم کیوں دیا؟ وہ خود اپنے بستر پر بھی موجود ہوتے، مدینہ میں بھی موجود ہوتے، خود مشرکین کو ان کی امانتیں واپس کرتے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ چھوڑنا نہ پڑتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں اپنے بستر پر عدم موجودگی کی واضح دلیل ہے مگر عقلمندوں کے لیے۔
اللہ کی معیت اور حاضر و ناظر کی حقیقت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ(سورۃ المجادلہ : 7)
نہیں ہوتے تین مشورہ کرنے والے مگر اللہ چوتھا ہوتا ہے ان کا اور نہیں مشورہ کرتے پانچ مگر چھٹا ان کا اللہ ہوتا ہے نہ ہوتے اس سے کم اور نہ زیادہ مگر اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں وہ ہوں پھر اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن ان کے اعمال کی خبر دے گا، بے شک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
تین افراد میں چوتھا اللہ تعالیٰ، پانچ افراد میں چھٹا اللہ تعالیٰ، تین سے کم ہو یا اس سے زیادہ ان گنت تعداد میں اللہ تعالیٰ کی معیت حاحر ہونے پر قیامت کے دن مخلوق کے ہر عمل کی خبر دینا ناظر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر شخص کے پاس حاضر و ناظر ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں نہ فرما دیا کہ جہاں تین ہوں چوتھا میرا نبی ہوتا ہے اور پانچواں میں ہوتا ہوں، جب پانچ ہوں تو چھٹا میرا نبی ہوتا ہے اور ساتواں میں ہوتا ہوں؟ اس آیت مبارکہ میں تو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کی واضح نفی فرما دی ہے۔ یہ صفت علم و قدرت کے اعتبار سے صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔
اللہ کی وسعتِ علم کے دلائل
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ(سورۃ البقرہ : 115)
اور اللہ تعالی کے لیے مشرق و مغرب ہے پس جدھر منہ کرو ادھر اللہ تعالی کی ذات ہے۔
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ(سورۃ یونس : 61)
اور تم جس حال میں بھی ہوتے ہو یا قران میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی اور کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں۔
حصر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فرمان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہر وقت علم و قدرت کے اعتبار سے حاضر و ناظر صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، مخلوق میں سے کسی کی یہ صفت نہیں۔
غیب کی خبریں اور عدمِ موجودگی کا بیان
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ذَٰلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ(سورۃ آل عمران: 44)
یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس موجود نہیں تھے جبکہ وہ قلموں کو ڈالتے تھے کہ ان میں سے کون بی بی مریم کی پرورش کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی ان کے پاس موجود نہیں تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس وقت عالم ارواح میں تھی، اس دنیا میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ جب حضرت مریم علیہا السلام کی کفالت کا جھگڑا ہوا اور قلموں کے ذریعے فیصلہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ میں موجود حاضر و ناظر نہ تھے۔
انبیاء سابقین کے مواقع پر عدمِ حاضری
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ(سورۃ یوسف : 102)
ایک مقام پر اللہ تعالیٰ کا کلام :
وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنْتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ(سورۃ القصص : 44)
اور آپ طور کی مغربی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے موسی علیہ السلام کو احکام دیے اور نہ ہی آپ حاضرین میں سے تھے۔
نقلی و عقلی خلاصۂ ادوارِ نبوی
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جس وقت ہم نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی، نبوت عطا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طور پہاڑ پر موجود نہ تھے۔ ان آیات سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک عالم ارواح میں تھی، ہر وقت ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں تھی۔ یہ دور تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے۔ دوسرا دور: حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے گھر پیدا ہو کر 63 سال کی زندگی اس دار فانی میں گزاری۔ تیسرا دور: اس دنیا فانی سے انتقال کر کے موت کو لبيك کہتے ہوئے عالم برزخ اعلیٰ علیین میں روح پہنچ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان تینوں ادوار میں سے کسی ایک دور میں بھی ہر وقت ہر جگہ موجود حاضر و ناظر نہ تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ موجود حاضر و ناظر ہیں تو پھر مدینہ جانے کا تجسس کیسا؟
مسئلہ حاضر ناظر احادیث کی روشنی میں
1) قصرِ نماز اور سفر کا ثبوت
عن يحيى قال سألت أنس بن مالك عن قصر الصلاة فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خرج مسيرة ثلاثة أميال أو ثلاثة فراسخ صلى ركعتين (صحیح مسلم شریف ج1 ص242 کتاب صلوٰة المسافرین وقصرها)
یحیی روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین میل یا تین فرسخ کی مسافت تک جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز قصر کرتے، دو رکعتیں پڑھتے۔
غور فرمائیں اگر بریلوی عقیدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ پر حاضر ناظر ہیں تو پھر سفر پر جانے کا کیا فلسفہ ہے کہ تین فرسخ کے فاصلے پر جاتے تو نماز قصر کرتے؟ کیا آپ وہاں مسافر ہوتے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر ناظر ہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ مقیم ہیں، کسی جگہ پر مسافر ہی نہیں تو نماز قصر کی کیا منطق؟ ہمیشہ چار رکعتیں ہی پڑھتے۔
2) سفرِ نبوی اور عدمِ حاضری کا ثبوت
دوسری حدیث مبارکہ میں ہے : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں ساتھی رہا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں سے زیادہ نماز نہ پڑھی۔ (مسلم شریف ج1 ص233)
اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جاتے آتے رہتے تھے، ہر جگہ پر حاضر ناظر نہ تھے۔
3) امہات المؤمنین کی باریاں اور حاضری کا سوال
حدیث مبارکہ ہے :
عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يستأذن فى مرضه الذى مات فيه أين أنا غدا أين أنا غدا يريد يوم عائشة فأذن له أزواجه يكون حيث شاء فكان فى بيت عائشة حتى مات عندها(مشکوٰة ص279 باب القسم الفصل الاولیٰ)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی دریافت فرمایا کرتے تھے میں کل کہاں ہوں گا، میں کل کہاں ہوں گا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا ارادہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی ازواج نے اجازت دے دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں رہائش رکھیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہنے لگے حتیٰ کہ وہاں وفات پائی۔
قارئین محترم ! غور فرمائیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر ناظر ہوتے، ہر ایک کے پاس موجود ہوتے تو باریاں مقرر کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ ایک ہی وقت میں سب ازواج کے پاس موجود ہوتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ایک ہی وقت میں اپنی گیارہ ازواج کے پاس حاضر ناظر نہ رہتے تھے تو اب ہر جگہ ہر امتی کے پاس بعد از وفات کیسے حاضر و ناظر ہوتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں قبروں میں بیک وقت بعد از وفات کیسے موجود و حاضر ہیں۔
خدارا تعصب کو چھوڑ کر ان حقائق پر غور فرمائیں، آخر ایک دن اس دنیا کو چھوڑ کر ہم نے ضرور جانا ہے اور اپنے ہر ایک عمل کا جواب بھی دینا ہے۔
4) اعتکافِ نبویﷺ اور مقید حاضری
ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے :
عن عائشة قالت كان النبى صلى الله عليه وسلم يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله ثم اعتكف أزواجه من بعده(بخاری شریف ج1 ص271 باب الاعتکاف فی العشر الاواخر)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے اعتکاف کیا۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر ناظر تھے تو اعتکاف کیسے ہوا؟ ابوداؤد میں حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعتکاف مسجد کے علاوہ نہیں ہوتا۔ اگر ہر آن ہر گھڑی ہر پل موجود حاضر ناظر ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتکاف کیسے ہوا؟ اعتکاف تو تب ہوتا ہے کہ صرف اسی مسجد میں رہیں جہاں اعتکاف بیٹھتے تھے، ہر گلی کوچہ، ہر شہر بازار گھر تک جانے کی رخصت نہیں، صرف اسی مسجد میں ہوں تب اعتکاف ہوگا۔
5) جبریلِ امین کا توقف اور عدمِ علم کا ثبوت
ایک حدیث مبارکہ اس طرح ہے کہ جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا وعدہ کیا مگر وہ نہ آئے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی کے نیچے کتا تھا۔
فقال يا عائشة متى دخل هذا الكلب ههنا
اے عائشہ رضی اللہ عنہا اس جگہ پر کتا کب داخل ہوا؟
فقالت والله ما دريت
کہنے لگیں اللہ کی قسم میں نہیں جانتی۔
جبریل علیہ السلام نے کہا ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو۔(مسلم شریف ج2 ص9 باب تحریم التصویر)
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ موجود حاضر ناظر ہوتے تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری جگہ ملاقات کر لیتے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی گھر میں موجود تھے، کسی اور جگہ حاضر ناظر نہ تھے۔ اگر غیب دان ہوتے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتے کے داخل ہونے کا علم ہوتا مگر ام المومنین رضی اللہ عنہا کو بھی علم نہ تھا کہ کتا کب داخل ہوا۔
قابل غور بات ہے کہ یہ کتا بھی مدینے کا تھا، اللہ تعالیٰ ہمیں کسی شہر کا کتا نہ بنائے، انسان ہی رکھے اور کملی والے صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام بنا کر رکھے۔ آمين
6) بستر سے غیبت اور تلاشِ نبوی
فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة من الفراش فالتمسته(صحیح مسلم شریف ج1 ص192 حدیث 486)
ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر سے گم پایا اور ان کو تلاش کرنے لگی۔
ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا، پھر ہم نے کہا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنوں یا انسانوں نے پراسرار طور پر حملہ کر دیا ہو۔ ہم نے وہ رات سخت ترین پریشانی اور اذیت میں گزاری، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حراء کی جانب سے تشریف لائے۔ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا اور تلاش کرتے رہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں نہ ملے، لہٰذا ہم نے پوری رات سخت ترین پریشانی میں گزاری۔(صحیح مسلم ج1 ص184 حدیث 450)
مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ہر جگہ حاضر ناظر موجود نہ تھے۔ ورنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بستر سے تلاش کرنے کی ضرورت نہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین رضی اللہ عنہا کے بستر پر بھی موجود ہوتے، غائب نہ ہوتے۔ دوسری حدیث سے بھی ظاہر ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حراء میں تشریف لے گئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کتنا علاقہ چھان مارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں اور ساری رات پریشانی میں گزاری۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ پر موجود حاضر ناظر تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس حاضر کیوں نہیں تھے؟ جس علاقے میں تلاش کرتے رہے اس میں موجود حاضر ناظر کیوں نہیں تھے؟ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حراء میں تشریف فرما تھے اور کسی جگہ پر موجود نہیں تھے۔ یہ حاضر ناظر نہ ہونے کے بین ثبوت ہیں مگر ضد ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ اس سے ایک بات یہ بھی واضح ہوئی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غیب کا علم نہیں جانتے تھے، اگر جانتے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پا کر پریشان نہ ہوتے بلکہ ان کو علم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حراء میں ہیں، تلاش نہ کرتے۔
7) غارِ حراء واقعہ اور تلاشِ صحابہ
ایک اور حدیث مبارکہ ہے :
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز میں کچھ لوگوں کو گم پایا۔ (مسلم شریف ج1 ص232 حدیث 651)
8) مسجد کے خادم کی وفات اور عدمِ اطلاع
أن امرأة سوداء كانت تقم المسجد أو شابا ففقدها رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأل عنها أو عنه فقالوا مات(صحیح مسلم شریف ج1 ص309 حدیث 956)
ایک سیاہ فام عورت یا نوجوان مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایا تو اس کے بارے میں دریافت کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اس کی وفات ہو گئی ہے۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر ناظر موجود ہوتے تو اس مسجد کے خادم کی موت کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ کیوں نہ چلا؟ اس کے پاس حاضر ناظر موجود تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھوں کے سامنے ہونے والا جنازہ کیوں نہ دیکھا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسلمان کی قبر میں آتے ہیں موجود ہوتے ہیں تو پھر اس کی قبر میں کیوں نہ آئے؟ اگر آئے تو اس کی موت کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہ ہوئی؟ قابل غور بات ہے۔
9) ثابت بن قیس کا گم ہونا
حدیث مبارکہ میں ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو گم پایا، ایک آدمی نے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں آگاہ کرتا ہوں، وہ شخص آیا تو دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں۔(صحیح بخاری ج1 ص510 حدیث 3613)
10) قضاءِ حاجت اور اوجھل ہونا
مزید حدیث مبارکہ پیش ہے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مغیرہ! پانی والا برتن پکڑو۔ میں نے برتن پکڑ لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے گئے حتیٰ کہ مجھ سے چھپ گئے اور قضائے حاجت سے فارغ ہوئے۔(صحیح بخاری ج1 ص62 حدیث 363؛ مسلم ج1 ص133 حدیث 274)
11) عمومی دلائل: عدمِ حاضری اور عملی زندگی
ان احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ میں بھی ہر جگہ حاضر و ناظر نہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کبھی گم ہو جایا کرتے تھے۔ اگر ہر جگہ ہوتے تو گم کیسے ہوتے؟ وہ ہستی جو دوسروں سے اتنا دور ہو جائے کہ ان کی آنکھوں سے اوجھل ہو جائے وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہوتی ہے؟ عقلی طور پر بھی محال اور ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہوں کیونکہ ہر جگہ میں تو گندگی اور غلاظت والی جگہیں بھی شامل ہیں نیز لوگوں کی خلوت گاہیں اور ایسی جگہیں بھی شامل ہیں جن کو ایک عام مسلمان بھی دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ کسی مسلمان کے لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے پاس حاضر و ناظر ہوتے ہوئے اپنی زندگی کے سارے معاملات انجام دے سکے؟ بہت سے جائز معاملات ایسے ہیں کہ ایک مسلمان مر تو سکتا ہے لیکن ان کو کسی دوسرے مسلمان بھائی کے سامنے بھی انجام نہیں دے سکتا چہ جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ہوتے ہوئے وہ ایسا کام کرے۔ بعض تو شرعی کام عبادت کے کام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جماعت کرواتے ہوئے جب پتہ چلا تو نماز سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ (بخاری کتاب الاذان حدیث 664)
12) امامتِ نبوی کا قرآنی قاعدہ
اور آج کا مولوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر موجود جانتے ہوئے بھی جماعت خود کرواتا ہے۔
جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خود فرمایا :
وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ (سورۃ النساء: 102)
اور اے محبوب جب آپ ان میں تشریف فرما ہوں پھر نماز میں ان کی امامت کرو۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہوں تو امامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے پاس موجود مانتے ہیں، امامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہیں کروانے دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کے اس حکم کے مطابق امامت کیوں نہیں کرواتے؟
13) سیرتِ نبوی کے ادوار اور حضور و عدمِ حضور
قارئین محترم! غور فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے حالات و واقعات پر نظر دوڑائیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیدا ہونا، رضاعت کے لیے دائی حلیمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں جانا پھر واپس آنا، دادا کے پاس رہنا پھر چچا کی کفالت میں رہنا، تجارت کے سفر کرنا پھر واپس آنا، غار حراء میں جانا پھر کچھ وقت کے بعد گھر تشریف لانا، کوہ صفا پر چڑھ کر توحید کا اعلان کرنا پھر توحید ربانی کی پاداش میں شعب ابی طالب میں قید رہنا، کئی مکانوں اور بند کمروں میں تبلیغ کرنا، طائف کا سفر کرنا اور پھر واپس آنا، معراج کی رات مکہ کو چھوڑ کر بیت المقدس جانا پھر بیت المقدس کو چھوڑ کر آسمان پر جانا، پہلے سے دوسرے پھر دوسرے سے تیسرے آسمان پر جانا حتیٰ کہ ساتویں آسمان پر جانا اور قرب الٰہی کی منازل طے کرنا، مکہ چھوڑ کر مختلف علاقوں میں جانا اور پیچھے اپنی جگہ امامت کے لیے کسی کو مقرر کرنا، نماز کے لیے مسجد جانا پھر گھر واپس آنا، ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کے لیے الگ الگ گھر بنانا اور ان میں باری باری جانا، بیماری کی حالت میں مسجد نہ جا سکنا بلکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ امامت کے لیے مقرر کرنا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وفات پا جانا اور رفیق اعلیٰ سے جا ملنا۔ غرض ہر واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جگہ حاضر ناظر ہونے کی نفی کرتا ہے۔ اگر دل میں تعصب نہ ہو تو ان واقعات سے مسئلہ حاضر ناظر بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ جو ہر جگہ موجود ہو وہ کسی جگہ جاتا آتا نہیں، جو جائے اور آئے وہ ہر جگہ حاضر ناظر نہیں ہوتا۔ ان باتوں سے معلوم ہوا کہ ہر جگہ حاضر ناظر ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت ہرگز نہیں۔
14) واقعۂ افک اور عدمِ علمِ غیب
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر جب تہمت لگی اس واقعہ سے بھی حاضر ناظر ہونے کی نفی روز روشن کی طرح واضح ہے چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ(سورۃ النور : 11)
بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں سے ایک جماعت ہے۔
سید المفسرین بریلویہ اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں بڑا بہتان سے مراد حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا ہے۔
15) غزوہ بنی المصطلق کے شواہد
غزوہ بنی المصطلق سے واپسی کے وقت قافلہ قریب مدینہ ایک پڑاؤ پر ٹھہرا تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ضرورت کے لیے کسی گوشہ میں تشریف لے گئیں، وہاں آپ کا ہار ٹوٹ گیا، اس کی تلاش میں مصروف ہو گئیں۔ ادھر قافلے نے کوچ کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کا محمل (ہودج) شریف اونٹ پر کس دیا اور انہیں یہی خیال رہا کہ ام المومنین رضی اللہ عنہا اس محمل شریف میں ہیں۔ قافلہ چل دیا، آپ رضی اللہ عنہا آکر قافلے کی جگہ بیٹھ گئیں اور آپ رضی اللہ عنہا نے خیال کیا کہ میری تلاش میں قافلہ ضرور واپس ہوگا۔ قافلے کے پیچھے گری پڑی چیز کو اٹھانے کے لیے ایک صاحب رہا کرتے تھے، اس موقع پر حضرت صفوان رضی اللہ عنہ اس کام پر تھے، جب وہ آئے اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو بلند آواز سے إنا لله وإنا إليه راجعون پکارا، آپ رضی اللہ عنہا نے کپڑے سے پردہ کر لیا، انہوں نے اپنی اونٹنی بٹھائی، آپ رضی اللہ عنہا اس میں سوار ہو کر لشکر تک پہنچیں۔ منافقین سیاہ باطن نے اوھام فاسدہ پھیلائے اور آپ رضی اللہ عنہا کی شان میں بدگوئی شروع کی، بعض مسلمان بھی ان کے قریب آگئے اور ان کی زبان سے بھی کوئی کلمہ بیجا سرزد ہوا، ام المومنین رضی اللہ عنہا بہت بیمار ہو گئیں اور ایک ماہ تک بیمار رہیں۔
اس زمانے میں انہیں اطلاع نہ ہوئی کہ ان کی نسبت منافقین کیا بک رہے ہیں، ایک روز ام مسطح سے انہیں یہ خبر معلوم ہوئی اور اس سے آپ رضی اللہ عنہا کا مرض اور بڑھ گیا اور اس صدمے میں اس طرح روئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنسو نہ تھمتے تھے اور نہ ایک لمحے کے لیے نیند آتی تھی۔
اس حال میں سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ (حاشیہ رضا خانی ترجمه خزائن العرفان ص632)
بریلوی دوستو ! ذرا سوچ کر جواب دو کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنی المصطلق کے لیے تشریف لے گئے تو کیا غازی و مجاہدین اور مسجد نبوی کے نمازیوں کو یعنی دونوں جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نماز پڑھایا کرتے تھے یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف قافلہ مجاہدین کو نماز پڑھاتے تھے اور مسجد نبوی میں کوئی دوسرا نائب امام تھا؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ہی حاضر و موجود تھے تو پھر قریب مدینہ پہنچنے کا مطلب کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کہ ہر جگہ موجود و حاضر اور عالم الغیب تھے تو پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہار ٹوٹنے، تلاش کرنے، پیچھے رہ جانے اور خالی محمل کی روانگی وغیرہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر کیوں نہ دی؟
منافقین نے جو بہتان باندھا اس کی تکذیب اور باطل ہونے کا اعلان یہ کہہ کر کیوں نہ کر دیا کہ ہم تو خود صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھے، تم کیوں افتراء کرتے ہو؟
اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر اور عالم الغیب جانتے ہوتے تو پھر سچے مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم منافقین کے فریب میں کیوں آتے؟ بلکہ منافقین کو یہ بہتان عظیم افتراء کرنے کی جرأت ہی نہ ہوتی۔
16) بریلوی مذہب کے بانیوں کی تصریحات
بریلوی دوستو! حقیقت آپ کے بانیان مذہب کے قلم سے نقل کرتے ہوئے ناصحانہ گزارش ہے کہ خدارا ہوش کرو، جھوٹے واعظوں کے بہکاوے میں آکر اپنی عاقبت خراب نہ کرو، وقت ہے سوچو، کچھ ٹھنڈے دل سے غور کرو ضد و ہٹ دھرمی کو قریب بھی نہ آنے دو۔
یا نہ رکھ منزل یوسف میں قدم اے طالب
یا نہ کر شرط کہ واں گرگ نہ ہو چاہ نہ ہو
17) ہندو مظاہر کی مثالیں اور بریلوی استدلال
احمد رضا خان صاحب بریلوی تو ہندو کے بھی کئی جگہ پر حاضر ناظر ہونے کے قائل تھے۔ چنانچہ ان سے سوال کیا گیا عرض اولیاء ایک وقت میں چند جگہ حاضر و ناظر ہونے کی قوت رکھتے ہیں؟ ارشاد : اگر وہ چاہیں تو ایک وقت میں دس ہزار شہروں میں دس ہزار جگہ دعوت قبول کر سکتے ہیں۔
دوسرا سوال عرض حضور اس سے یہ خیال ہوتا ہے کہ عالم مثال سے اجسام مثالیہ اولیاء کے تابع ہو جاتے ہیں اس لیے کہ ایک وقت میں متعدد جگہ ایک ہی صاحب نظر آتے ہیں۔
اگر یہ ہے تو اس پر شبہ ہوتا ہے کہ مثل تو شے کا غیر ہوتا ہے، امثال کا وجود شے کا وجود نہیں اور ان اجسام کا وجود اس جسم کا وجود نہ ٹھہرے گا۔ ارشاد: اگر ہوں گے تو جسم کے، ان کی روح پاک ان تمام اجسام سے متعلق ہو کر تصرف فرمائے گی اور از روئے روح و حقیقت وہی ایک ذات ہر جگہ موجود ہے۔ یہ بھی تو ظاہر میں ورنہ سبع سنابل شریف میں حضرت سیدی فتح محمد قدس سرہ الشریف کا وقت واحد میں دس ہزار مجلسوں میں تشریف لے جانا تحریر فرمایا ہے اور اس پر کسی نے عرض کی حضرت نے وقت واحد میں دس جگہ تشریف لے جانے کا وعدہ فرمایا ہے یہ کیوں کر ہو سکے گا؟ فرمایا کہ کرش گھنیا کافر تھا اور ایک وقت میں کئی سو جگہ موجود ہو گیا، فتح محمد اگر چند جگہ ایک وقت میں ہو گیا تو تعجب ہے۔ یہ ذکر کر کے فرمایا: کیا گمان کرتے ہو کہ شیخ ایک جگہ موجود تھے باقی جگہ مثالیں؟ حاشا بلکہ شیخ بذات خود ہر جگہ موجود تھے۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت احمد رضا حصہ اول صفحہ 142 مطبوعہ مشتاق بک کارنر اردو بازار لاہور)
بریلوی دوستو ! ایمانداری سے کہو کہ کرش گھنیا کی حاضری سے دلیل پکڑنا کیا ہندو ازم ہے یا نہیں؟ اگر یہ آپ کے نزدیک عین اسلام ہے تو پھر قرآن و حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یا خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا احد میدان جنگ میں مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی مساجد میں پنجگانہ نماز کی امامت کرانا، فیصلے کرنا اور مسائل بتانا وغیرہ ثابت کر کے دکھاؤ۔
احمد مرسل کی باتوں کی کہاں توقیر ہے
اب تو ہر جا قول مرشد یا طریقہ پیر ہے
18) تماشائی شیخ اور بے حیا مرید
کرشن گھنیا کی مثال سے احمد رضا خان صاحب کا مقصد دراصل اپنے پیر ومشائخ کو ہر جگہ حاضر ناظر ثابت کرنا تھا اس لیے احمد رضا خان صاحب نے دوسری مثال یوں پیش کی عبد العزیز دباغ رحمہ اللہ آپ کے پیرو مرشد تشریف فرما ہیں اور فرماتے ہیں احمد عالم ہو کر انہیں سیدی احمد سلجماسی رحمہ اللہ کے دو بیویاں تھیں سیدی عبدالعزیز دباغ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ رات کو تم نے ایک بیوی کے جاگتے ہوئے دوسری بیوی سے ہم بستری کی یہ نہیں چاہئے۔
عرض کیا حضور وہ اس وقت سوتی تھی فرمایا سوتی نہ تھی سوتے میں جان ڈال دی تھی عرض کیا حضور کو کس طرح علم ہو فرمایا وہ سو رہی تھی کوئی اور پلنگ بھی تھا عرض کی ہاں، ایک پلنگ خالی تھا فرمایا اس پر میں تھا تو کسی وقت شیخ مرید سے جدا نہیں ہر آن ساتھ ہے۔(ملفوظات المحضرت حصہ دوم صفحه 202)
قارئین محترم غور فرمائیں اس سے بڑھ کر اور بے حیائی کیا ہوگی کہ بریلوی حضرات اپنے بزرگوں کے سامنے جماع کرتے ہیں اور پیر صاحب تماشائی کی حیثیت سے یہ پورا ماجرا سامنے دیکھ رہا ہے کیونکہ بقول خان صاحب شیخ مرید سے کسی وقت جدا نہیں ہوتا ہر آن ساتھ ہے۔
بریلوی دوستو! یہ حیا سوز مسائل وحرکات کیا اسلامی تعلیم کا نچوڑ ہیں؟
چنانچہ ملفوظات کے اندر ہی دوسرے مقام پر یوں منقول ہے۔
انبیاء علیہم السلام کی قبور مطہرات میں ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں۔ وہ ان کے ساتھ شب باشی فرماتے ہیں۔ (ملفوظات الملحضرت حصہ دوم صفحہ310)
جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوب
اب معترض اس دین پہ ہر ہرزہ سرا ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر ناظر موجود ہیں تو پھر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کو قبروں میں پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بریلوی دوستو ! اگر یہ اسلامی مسئلہ ہے تو پھر کتب احادیث و سیرت و تفاسیر معتبرہ سے دکھا دیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم جو کہ ایک مدت تک زندہ رہیں کبھی ان میں سے ایک بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مرقد انور کے اندر حاضر ہوئیں ہوں؟ اسلامی تعلیمات سے اس کی دلیل ہرگز نہیں ملتی اصل بات یہ ہے کہ بریلویت کے افکار وعقائد بعید از عقل اور انسان کے فہم سے بالاتر میں انہی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر ناظر ہیں اور ایک وقت میں اپنے جسم مبارک سمیت کئی مقامات پر موجود ہو سکتے ہیں۔
حقیقت میں یہ عقیدہ نہ صرف کتاب وسنت کی صریح مخالفت پر مبنی ہے بلکہ عقلی وخرد اور فہم تدبر سے بھی عاری ہے شریعت اسلامیہ میں اس قسم کے خود ساختہ عقائد ونظریات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ان کے عقائد اور قرآن وحدیث کے درمیان وسیع تضاد پایا جاتا ہے شریعت اسلامیہ اور افکار بریلویہ کا نقطہ نظر اور نہج فکر الگ الگ ہے ۔ دونوں کے درمیان کسی قسم کی مطابقت نہیں ہے اللہ سب کو ہدایت کی توفیق دے اور حق کی معرفت نصیب فرمائے۔ آمين
حفیظ الرحمن قادری بریلوی کے حاضر ناظر پر دلائل کی حقیقت
① پہلی دلیل اور اسکا جواب :
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ(سورۃ الانبیاء : 107)
ہم نے آپ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
قادری صاحب لکھتے ہیں کہ اس ایک آیت مبارکہ میں کافی مسائل کا حل موجود ہے کہ جس طرح اللہ عز وجل رب العالمین ہے یعنی سارے جہانوں کے پالنے والا ہے۔ ہر ایک کو رزق دینے والا اب یہ اس صورت میں ہے کہ اللہ عزوجل کے قریب بھی ہو اور اختیار ہو ۔ الحمد اللہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ کی رحمت ہر جگہ موجود ہے ہر ایک کو رزق پہنچا رہا ہے تو اس طرح عزوجل کی عطا سے اس کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ للعالمین ہیں ۔ (شرک کیا ہے صفحہ 76 )
الجواب :
حقیقت یہ ہے کہ قادری صاحب نے صغرے کبرے تو خوب ملائے مگر اس آیت مبارکہ سے ان کا خود ساختہ مذہب ہرگز ثابت نہیں ہو تا قرون اولیٰ کی تمام تر قرآنی تفاسیر اٹھا کر دیکھیں یہ عقیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا نہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کسی مسلمان مفسر نے یہ تفسیر نہیں کی رحمت للعالمین یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان کی گئی ہے رحمت صفت کا کسی میں پایا جانا ہر جگہ موجود اور حاضر ہونے کی دلیل ہر گز نہیں ہے۔
اس طرح تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ(سورۃ الإسراء : 82)
قرآن مومنوں کے لیے رحمت ہے۔
اور تورات کو بھی رحمت فرمایا۔ (سورۃ الأنعام : 154)
اور اسی طرح قصاص میں تخفیف کو بھی رحمت فرمایا۔
تو کیا ہر وہ چیز جس پر اللہ تعالیٰ نے رحمت کا اطلاق کر دیا وہ جہانوں کو محیط اور حاضر ناظر ہو جائے گی؟
مومنوں کے بارے میں فرمایا:
فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ (سورۃ النساء : 175)
پس اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔
رحمت اگر جہانوں کو محیط ہے تو کیا خیال ہے وہ مومن جو رحمت کے بیچ میں ہوں گے وہ بھی جہانوں کو محیط اور ہر جگہ حاضر ناظر ہو جائیں گے؟
بارش کے لیے بھی اللہ نے لفظ رحمت استعمال کیا چنانچہ ارشاد فرمایا :
بُشْرًا بَيْنَ يَدَىْ رَحْـمَتِهٖ(سورۃ النمل: 63)
جو اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔
اگر رحمت کا لفظ بارش پر اطلاق ہوا ہے کیا بارش ہر وقت ہر جگہ برستی رہتی ہے؟ حالانکہ کئی جگہ پر بارش ہوتی ہے کئی جگہوں پر نہیں ہوتی۔
رحمت للعالمین سے تمام جہانوں کے اندر موجود ہونے کا استدلال درست نہیں ہے کیونکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہونے کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنا باعث رحمت ہے۔ اگر رحمت ہونے کا مقصد تمام جہانوں میں موجود ہونا لیا جائے تو پھر جو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے بارے میں ارشاد فرمایا :
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ(سورۃ آل عمران: 96)
بلاشبہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے یہ گھر با برکت ہے اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت ہے۔
بیت اللہ تمام جہان والوں کے لیے ہدایت کا مرکز ہے تو کیا بیت اللہ جو مکہ میں واقع ہے یہ تمام جہانوں میں موجود ہے حالانکہ یہ صرف مکہ میں موجود ہے باقی دنیا کے کسی شہر میں بیت اللہ کا وجود نہیں پھر بھی هدي للعالمين ہے اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں مدفون ہیں جو مدینہ منورہ میں ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے۔
② حفیظ الرحمن قادری کی دوسری دلیل اور اس کا جواب :۔
قادری صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت عزرائیل علیہ السلام ایک ہیں اور ایک وقت میں کتنے افراد کی روح قبض کرتے ہیں اور اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا :
قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ(سورۃ السجدة : 11)
تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے۔
حضرت عزرائیل علیہ السلام اللہ عزوجل کی مخلوق ہیں اور ایک وقت میں مختلف جگہوں پر حاضر ہونا ثابت ہے تو یہ شان ہے خدمت گاروں کی سردار کا عالم کیا ہوگا۔ ( کتاب مذکور صفحہ : 76 )
الجواب :
عزرائیل نام ہی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں اور نہ قرآن سے، قادری صاحب نے ملک الموت کو حاضر ناظر ثابت کرنے کے لیے یہ آیت تحریر کی ہے یہ مفتی احمد یار بریلوی کے چبائے ہوئے لقمے دوبارہ چبانے کی کوشش کی گئی ہے خود تو کشادہ نظری سے قرآن کا مطالعہ کیا نہیں بلکہ وہی مخصوص رٹی رٹائی باتیں کی ہیں جو پہلے بریلوی کرتے رہے اگر قرآن کا مطالعہ کیا ہوتا تو ان کو معلوم ہوتا کہ روح ایک ہی فرشتہ نہیں نکالتا بلکہ بے شمار فرشتے نکالتے ہیں۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :
حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ(سورۃ الأنعام : 61)
یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔
اس آیت میں رسل جمع کا صیغہ استعمال ہوا آگے وهم لا يفرطون اور وہ کمی نہیں کرتے یہ بھی جمع ہے۔
دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ (سورۃ النساء : 97)
بیشک جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :
فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ(سورۃ محمد : 27)
تو اس وقت ان کا کیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان نکالیں گے، ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارتے جائیں گے۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ موت کے فرشتے بہت ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بڑی طاقت اور قوت پرواز بخشی ہے لیکن وہ عالم الغیب یا حاضر ناظر ہر جگہ ہر گز نہیں اگر وہ زمین پر ہیں تو آسمان پر نہیں اگر وہ آسمان پر ہیں تو زمین پر نہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر ناظر ثابت کرنے کے لیے کبھی شیطان کی طرف بھاگتے ہیں کبھی عزرائیل کی مثالیں دیتے ہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اتنا دور کیوں اندھیرے میں ٹکریں مارتے ہو صرف ایک دلیل اللہ کے قرآن سے پیش کر دو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی وقت میں اپنی حیات طیبہ میں اتنی جگہ بیک وقت موجود ہوئے ہم مان لیں گے یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحیح صریح حدیث مبارکہ پیش کر دو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی وقت میں اتنی جگہ موجود ہوئے ہم فورا مان لیں گے اگر نہیں تو اللہ کا خوف کرو۔
③ قادری صاحب کی تیسری دلیل اور اس کا جواب :۔
قبر میں انسان سے تین سوالات ہوتے ہیں جس میں ایک سوال یہ بھی ہوتا ہے۔
وما كنت تقول فى حق هذا الرجل (بخاری جلد 1 صفحه 184)
تو اس مرد کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا۔
هذا قريب اشارہ ہے سرکار قبر میں جلوہ گر ہوتے ہیں اور قبر والے سے پوچھا جاتا ہے۔ اب ایک وقت میں کتنے افراد انتقال کرتے ہیں۔ (شرک کیا ہے صفحہ : 78)
الجواب :
جب انسان دار فانی سے اپنا وقت پورا کر کے قبر کی آغوش میں پہنچتا ہے تو منکر نکیر جو سوالات کرتے ہیں ان میں سے ایک سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی ہوتا ہے۔ اور یہ بات کسی حدیث میں مذکور نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لاتے ہیں اور نہ ہی اس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔
قادری صاحب نے اسم اشارہ قریب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر میں موجود ہونے پر استدلال کیا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ کیوں کہ حضور دو قسم کا ہوتا ہے ایک حضور ذہنی اور دوسرا حضور شخصی یہاں حضور ذہنی مراد ہے شخصی نہیں یہ ملاعلی قاری حنفی نے (مرقاۃ شرح مشکوۃ میں تحریر کیا ہے صفحہ 340 ج 1)
اس کے علاوہ قرآن مجید اور کتب احادیث میں کئی مثالیں موجود ہیں کہ هذا اسم اشارہ کو بعید کے معنوں میں استعمال کیا گیا اور یہ ضروری نہیں کہ جس کی طرف هذا کا اشارہ ہو اور وہ پاس ہی موجود ہو قرآن مجید میں ہے کہ ملائکہ قوم لوط علیہ السلام کو غرق کرنے کے لیے تشریف لائے تو پہلے ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے آنے کا سبب پوچھا تو وہاں فرشتوں نے کہا :
قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ ۖ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ (سورۃ العنكبوت : 31)
ہم اس بستی کے باشندوں کو ہلاک کرنے والے ہیں کیوں کہ یہ ظالم ہیں۔
لوط علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام فلسطین میں تھے بستی سدوم پاس موجود نہیں تھی لیکن فرشتے هذا کا اشارہ کر کے کہتے ہیں کیوں کہ سدوم ابراہیم علیہ السلام اور ملائکہ علیہم السلام کے ذہن میں تھا اس طرح صحیح بخاری ج 1 ص 550 مسلم ج 2 ص 97 میں مروی ہے کہ ہرقل روم نے بیت المقدس میں جب سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا :
ايكم اقرب نسبا بهذا الرجل (مسلم وبخاری حواله مذکور)
تم میں سے اس آدمی کے نسبی لحاظ سے کون زیادہ قریب ہے؟
یہاں پر بھی هذا کا اشارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال ہوا یہ بھی حضور ذہنی تھے۔
بیت المقدس سے مدینہ تقریباً 710 میل کی مسافت پر ہے لا محالہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ حضور ذہنی تھا شخصی نہیں تھا کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو کے وقت وہاں موجود نہیں تھے۔
اس طرح صلح حدیبیہ میں بدیل بن ورقاء مشرکین مکہ کی طرف سے شرائط صلح نامہ طے کرنے کے لیے سفیر بن کر آیا اور گفتگو کر کے واپس مکہ پہنچا تو اُس نے کہا کہ :
انا قد جئنا كم من عند هذا الرجل (بخاری شریف ج 1 ص 378)
ہم تمہارے پاس اس آدمی سے ہو کر آئے ہیں۔
اسی طرح صحیح بخاری میں دوسرے مقام پر سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا چرچا سنا تو تحقیق حال کے لیے اپنے بھائی کو بھیجا اور کہا:
اركب الى هذا الوادى فاعلم لى علم هذا الرجل(بخاری ج 1 ص 44: مسلم 297)
تو اس وادی کی طرف سوار ہو مجھے اُس آدمی کے بارے میں معلومات فراہم کر۔
اس قسم کی بہت سی مثالیں کتب احادیث میں موجود ہیں کہ هذا اسم اشارہ کو دور اور حضور ذہنی کے لیے استعمال کیا گیا ہے اسی طرح قبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال کیا جاتا ہے اور اس میں لفظ هذا استعمال ہوا ہے وہ بھی حضور ذہنی کے لیے ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر میں کسی مردے کے پاس حاضر ہونے کی صراحت کسی صحیح حدیث میں نہیں بلکہ حاضر نہ ہونے کے شواہد ضرور ملتے ہیں جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالا مرد یا عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا یا ایک کالی عورت دیا کرتی تھی وہ مرگئی یا مر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مرنے کی خبر نہ ہوئی ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یاد فرمایا اور پوچھا وہ کدھر ہے لوگوں نے عرض کیا وہ فوت ہو گیا یا ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھ کو خبر کیوں نہیں دی اور لوگوں نے کچھ وجہ بتائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب مجھے اس کی قبر بتاؤ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔(صحیح بخاری جلد 1 ص 578 کتاب الجنائز حديث 1256)
غور فرمائیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں مردے کے پاس حاضر ہوتے تو مسجد کے خادم یا خادمہ کی موت کا علم ہوتا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شکوہ نہ کرتے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قبر دریافت نہ کرتے کیونکہ سوال و جواب کے وقت خادم کے پاس موجود تھے پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ وہ کہاں ہے مجھے کیوں نہیں بتایا اس کی قبر کہاں ہے اس سے روز روشن کی طرح بات عیاں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے پاس قبر میں موجود نہیں ہوتے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر ناظر تھے تو پھر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس خادم مسجد کا جنازہ پڑھا اس وقت ان کے پاس حاضر و ناظر کیوں نہیں تھے۔ اگر تھے تو پھر یہ کیوں کہا کہ مجھے کیوں نہیں بتایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قادری صاحب کے اسم اشارہ هذا سے حاضر کا مسئلہ بالکل ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی هذا اسم اشارہ کا اس سے کوئی تعلق ہے یہ اشارہ قریب اور دور دونوں کی جگہ قرآن وحدیث میں استعمال ہوا ہے۔
قارئین محترم ہماری آپ سے درخواست ہے کہ مذکورہ بالا دلائل پر غور فرمائیں پھر فیصلہ خود کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں یا نہیں یہ عقیدہ درست ہے یا غلط اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو صحیح عقیدہ سمجھنے اور اپنانے کی توفیق دے۔ آمين