کیا عورت بھی سجدہ اور جلسہ میں پاؤں کھڑا رکھے گی؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا عورت بھی سجدہ اور جلسہ میں پاؤں کھڑا رکھے گی؟

جواب:

جی ہاں، مرد کی طرح عورت بھی پاؤں کھڑا رکھے گی۔ رکوع اور سجدے کا جو طریقہ مرد کے لیے ہے، وہی عورت کے لیے ہے، فرق پر کوئی دلیل نہیں۔
❀ فرمان نبوی ہے:
صلوا كما رأيتموني أصلي
”میری طرح نماز پڑھیں۔“
(صحيح البخاري: 631)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عام ہے، ہر مرد و عورت کو شامل ہے، کسی صحیح مرفوع یا موقوف روایت میں بھی مرد و عورت کے طریقہ نماز میں فرق ثابت نہیں ہے۔ شریعت نے نماز کے بعض مسائل میں عورتوں کے لیے مخصوص احکام صادر کیے ہیں، مثلاً لباس، امام کو لقمہ دینے کے لیے ہاتھ پر ہاتھ مارنا، امامت کی صورت میں صف کے درمیان کھڑے ہونا، صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہونا وغیرہ، لیکن یہ صورتیں شرعی دلائل کی روشنی میں مستنبط کی گئی ہیں، نیز یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ان کا طریقہ نماز سے کوئی تعلق نہیں۔
❀ حنفی مذہب کی معتبرترین کتاب میں لکھا ہے:
”ہر ایک حکم، جو مردوں کے لیے ثابت ہو، وہی حکم عورتوں کے لیے بھی ثابت ہوتا ہے، کیونکہ عورتیں مردوں کی نظائر ہیں، سوائے اس حکم کے، جس پر کوئی (خاص) نص وارد ہو جائے۔“
(البحر الرائق لابن النجيم الحنفي: 43/1)