کیا علماء کی سیاہی شہداء کے خون سے افضل ہے؟ روایت کی اسنادی حیثیت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

ایک خطیب صاحب نے امام ابن الجوزی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ علماء کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے افضل ہے۔ کیا یہ بات واقعی درست ہے کہ شہادت کا مقام اہل علم کی سیاہی سے کم ہے؟ صحیح صورتحال سے آگاہ فرمائیں۔

جواب :

مقام شہادت ایسا مرتبہ ہے جو فضیلت میں تمام امکان کا محتاج نہیں ہے اور شہادت کے فضائل و محامد سے کتب احادیث بھری پڑی ہیں۔ جہاد دشمنی میں حضرت الخطیب نے جو روایت ذکر کی ہے، یہ بالکل جعلی اور من گھڑت ہے، ایسی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں۔ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”العلل المتناهية“ میں اس معنی کی ایک روایت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کر کے لکھا ہے کہ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہے۔ یہ روایت تاریخ بغداد (2/193)، میزان الاعتدال (3/517) اور الجامع الصغیر از سیوطی (2/195) میں بھی موجود ہے۔
امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وضعه محمد بن الحسن العسكري
”اسے محمد بن حسن عسکری نے وضع کیا ہے۔“
(التلخيص الملل المتناهية رقم 31، ص 34)
میزان میں فرماتے ہیں:
حدث عن العباس البحراني بخبر موضوع متنه يوزن جبر العلماء قال الخطيب نراه من وضعه
اس نے عباس بحرانی سے موضوع خبر بیان کی ہے، جس کا متن یہ ہے: ”علماء کی سیائی کا وزن کیا جائے گا۔” خطیب نے کہا ہم اس روایت کو اس کی وضع کردہ خیال کرتے ہیں۔“
بہ روایت دیلمی میں ”یحیی بن محمد بن حبیش الأفریقی حدثنا اسحاق بن القاسم حدثني أبي حدثنا عبد العزيز بن أبي داود عن نافع عن ابن عمر“ کے طریق سے بھی مروی ہے۔
(الفردوس 485/5)
اس سند کے بارے میں علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إسحاق بن القاسم وأبوه لم أعرفهما
”اسحاق بن القاسم اور اس کے باپ کو میں نہیں پہچانتا۔“
(السلسلة الضعيفة 383/10 القسم الأول)
یحیی بن محمد کے بارے میں علامہ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:صاحب مناكير (ميزان الاعتدال 408/4)” یعنی منکر روایتیں بیان کرنے والا۔“ اسی طرح سعید بن معن کے ترجمہ میں اسے ”مختلق“یعنی روایت وضع کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔
(ميزان الاعتدال 109/2)
خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وفي حديثه غرائب ومناكير
”یہ غریب و منکر حدیثیں بیان کرتا ہے۔“
(تاريخ بغداد 223/17)
علامہ ابو الحسن علی بن محمد الکنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اتهمه أبو سعيد النقاش بالوضع
”ابو سعید نقاشی نے اسے رواتیں گھڑنے والا قرار دیا ہے۔ “
(تنزيه الشريعة المرفوعة 128/1 رقم 38) نیز دیکھیں الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث (842، ص 281)
لہذا یہ روایت موضوع و مختلق اور وضاعین کے ہاتھ کا کرشمہ معلوم ہوتی ہے۔