مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا صدقہ اور شیطان کے درمیان بھی کوئی تعلق ہے ؟

فونٹ سائز:
تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ

جواب :
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما يخرج رجل شيئا من الصدقة حتى یفک عنہا لحيي سبعین شيطانا
”آدمی جو بھی صدقہ نکالتا ہے، وہ اسے ستر شیاطین کے جبڑوں سے چھڑا کر ہی نکالتا ہے۔ “ [ مسند أحمد (350/5 )رقم الحديث (23021 )صحيح ابن خزيمة( 2/248/1 )المعجم الأوسط للطبراني (1 / 90 / 1) المستدرك للحاكم، رقم الحديث( 577/1) رقم الحديث( 1521 )البيهقي فى شعب الإيمان، رقم الحديث (257/3) رقم الحديث (3474)]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الصحیحۃ( 264/3) میں اسے صحیح کہا ہے۔ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئے صدقہ کرتا ہے تو شیاطین کو شدید جھٹکا لگتا ہے اور انھیں اپنی تمام کوششیں رائیگاں ہوتی دکھائی دیتی ہیں، کیوں کہ ان کی حرص یہ ہوتی ہے کہ مسلمان بخیل ہو جائیں اور صدقہ نہ کریں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔