کیا سیدنا معاویہؓ سیدنا حسنؓ کی وفات پر خوش ہوئے؟ سنن ابوداؤد 4131 کی روایت کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوش ہوئے؟ اور کیا ان کی وفات کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق ہے؟

مرزا صاحب کے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ پر دیگر جھوٹے اعتراضات میں سے ایک اعتراض اور الزام یہ بھی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جناب حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوش ہوئے تھے، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ غلط تاثر دینے کے لیے یہ بھی ذکر کیا کرتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو سازش کے تحت زہر دے کر شہید کیا گیا تھا، اور اس کا الزام وہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ پر عائد کرتے ہیں، ویسے تو یہ جھوٹ مرزا صاحب اپنی بہت سی ویڈیوز میں بول چکے ہیں لیکن ہم اس عنوان کے تحت آپ کی ایک ہی ویڈیو جو کہ اس عنوان پر سب سے تفصیلی ویڈیو ہے کو سامنے رکھیں گے جو یوٹیوب پر اس نام کے ساتھ موجود ہے:
Imam HASSAN ka QATIL kon ??? Reply to YAZEEDIs & NASBIs

مرزا صاحب کی پیش کردہ دلیل:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا جناب حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوش ہوئے اس کی دلیل میں آپ سنن ابوداود کی یہ ضعیف روایت بیان کرتے ہیں:
عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ كَرِبَ وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ، فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ: هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ، فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ، فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟ قَالَ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟ قَالَ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟ قَالَ نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللّٰهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ۔
”خالد بن معدان سے روایت ہے کہ حضرت مقدام بن معد رضی اللہ عنہ، عمرو بن اسود اور قبیلہ بنو اسد کا ایک آدمی جو اہل قنسرین میں سے تھا حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے۔ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مقدام رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما وفات پا گئے ہیں؟ تو حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو ایک آدمی نے ان سے کہا: کیا آپ اسے مصیبت سمجھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں اسے (سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کو) مصیبت کیوں نہ سمجھوں جبکہ (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی گود میں بٹھا رکھا تھا اور ارشاد فرمایا: یہ (حسن) مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہے! اسدی آدمی (جو کہ جناب مقدام رضی اللہ عنہ ہی کے ساتھ آیا تھا) نے کہا: دہکتا ہوا انگارہ تھا جسے اللہ عزوجل نے بجھا دیا۔ حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آج تمہیں غصہ دلا کے رہوں گا، اور وہ باتیں کروں گا جو تمہیں بری لگیں گی۔ پھر کہا: اے معاویہ (رضی اللہ عنہ)! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر غلط کہوں تو تردید کر دینا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (ٹھیک ہے) میں ایسے ہی کروں گا۔ جناب مقدام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا ہاں! جناب مقدام رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالیں پہننے اور ان پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ جواب دیا: ہاں! حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے معاویہ (رضی اللہ عنہ) اللہ کی قسم! میں نے یہ سب کچھ آپ کے گھر میں دیکھا ہے! اس پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے مقدام (رضی اللہ عنہ)! مجھے معلوم تھا کہ میں آپ سے ہرگز نہیں بچ سکوں گا۔ جناب خالد بن معدان نے بیان کیا کہ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کے لیے اتنے مال کا حکم دیا جتنا ان کے دوسرے دو ساتھیوں کے لیے نہیں تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، چنانچہ حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، مگر اسدی شخص نے اس میں سے کسی کو کچھ نہ دیا جو کہ آپ نے وصول کیا تھا۔ تو جب یہ بات جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، اور اسدی اپنی اشیاء کی خوب حفاظت کرنے والا ہے“۔ (سنن ابوداؤد:4131)
اس میں کہاں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جناب حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوش ہوئے تھے؟ یا اس بات کا کوئی اشارہ کہ ان کی وفات کے پیچھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی کوئی سازش ہے؟ یہ سب تو آپ کی اپنے منہ کی باتیں ہیں ورنہ اس میں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ پھر یہ روایت بھی ضعیف ہے، اسے شیخ شعیب الأرنؤوط اور مولانا غلام مصطفیٰ امن پوری صاحب نے ضعیف قرار دیا ہے، جو کہ اصولی طور پر درست ہے! اور جو علامہ البانی و زبیر صاحبان نے اسے صحیح کہا ہے اس کی وضاحت بھی آگے آرہی ہے، ان شاء اللہ!

یہ روایت بقیہ بن ولید کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے!

مرزا صاحب ان گنت مرتبہ یہ اصول بیان کر چکے ہیں کہ مدلس راوی کی عن والی روایت بغیر سماع کی صراحت کے ضعیف اور غیر ثابت ہوتی ہے، بلکہ ایسی روایات کو یہ جعلی روایات قرار دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ طے شدہ اصول ہے کہ مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے اور اس پر محدثین کا اجماع ہے۔ تو عرض ہے کہ اس کی سند میں ”بقیہ بن ولید“ نامی راوی ہے جو مدلس ہے، اور محدثین نے اس کی تدلیس کو بدترین تدلیس قرار دیا ہے۔ اور یہاں یہ صیغہ عن سے روایت کر رہا ہے۔
اس روایت کی سند یوں ہے:
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ عَنْ خَالِدٍ۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ بقیہ کے متعلق فرماتے ہیں:
وكان كثير التدليس عن الضعفاء والمجهولين وصفه الائمة بذلك۔
”یہ ضعیف اور مجہول راویوں سے بہت زیادہ تدلیس کیا کرتا تھا، ائمہ کرام نے اس کا یہ وصف بیان کیا ہے۔“ (طبقات المدلسین:117)
لہٰذا جب یہ مدلس ہے اور روایت عن کے صیغے سے ہے تو روایت ضعیف ہے، لیکن مرزا صاحب نے اس روایت کو ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور اس ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ بقیہ کی اپنے اس استاد ”بحیر“ سے روایت سماع کی تصریح پر محمول ہوتی ہے۔ یعنی اگرچہ یہ مدلس ہے لیکن جب بحیر سے روایت کرے تو اگر عن کے صیغے سے بھی بیان کرے پھر بھی روایت صحیح ہوتی ہے۔ لیکن اس پوری ویڈیو میں انجینئر صاحب نے اس بات کی کوئی ایک بھی دلیل پیش نہیں کی، جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ لہٰذا ابوداود کی یہ روایت خود انجینئر صاحب کے بیان کردہ اصول کے مطابق ضعیف ہے۔
سماع کی تصریح کے لیے وہ مسند احمد کا یہ طریق بیان کیا کرتے ہیں:
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ [حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ] عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ فَقَالَ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ وَقَالَ: ”هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ“۔
”خالد بن معدان بیان کرتے ہیں کہ حضرت مقدام بن معد رضی اللہ عنہ اور عمرو بن اسود حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مقدام رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما وفات پا گئے ہیں؟ تو حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اسے مصیبت سمجھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں اسے (سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کو) مصیبت کیوں نہ سمجھوں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی گود میں بٹھا رکھا تھا اور ارشاد فرمایا: یہ (حسن) مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہے۔“ (مسند احمد:17189)
کہتے ہیں کہ اس میں بقیہ نے بحیر سے سماع کی صراحت کر دی ہے! لیکن عرض ہے کہ یہ طریق بھی ضعیف ہے، تفصیل سے پہلے یہاں مرزا صاحب کی مکاری اور دوغلہ پن واضح کر دیں کہ مرزا صاحب جب بھی مسند احمد کی کوئی روایت نقل کرتے ہیں تو اس پر علامہ شعیب الأرنؤوط کی تحکیم ضرور نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اسے صحیح یا حسن کہا، مرزا صاحب کے ریسرچ پیپر میں اس کی کافی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ مرزا صاحب نے اس مقام پر کبھی شیخ شعیب کی تحکیم ذکر نہیں کی؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مسند احمد کی تخریج میں اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے آپ کے الفاظ ہیں:
اسناده ضعيف، بقية وهو ابن الوليد مدلس ويسوي، وقد عنعن۔
”اس کی سند ضعیف ہے، بقیہ ابن ولید مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کیا کرتا تھا، اور صیغہ عن سے روایت کر رہا ہے۔“
لیکن ہمیشہ حق چھپانے کے باوجود بھی مرزا صاحب حق گو اور نہایت منصف اسکالر ہیں۔ چنانچہ اسی ویڈیو کے شروع میں اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے فرماتے ہیں: ”الحمد للہ اس پلیٹ فارم سے حق گوئی کا جس طریقے سے مظاہرہ ہو رہا ہے اس کی مثال دینا شاید ممکن نہیں ہے، اور اگر آپ کو کوئی مثال ملے تو مجھے ضرور بتایئے گا۔“
خیر یہاں شیخ شعیب الأرنؤوط کا اس روایت کو ضعیف قرار دینا بالکل درست ہے، بقیہ نے اگرچہ اپنے شیخ سے ”حدثنا“ کہہ کر اپنے سماع کی صراحت تو بیان کر دی ہے لیکن یاد رہے بقیہ عام مدلس نہیں بلکہ یہ تدلیس تسویہ کرتا تھا۔
تسویہ میں مدلس صرف اپنے شیخ کو ہی سند سے نہیں گراتا بلکہ اپنے سے اوپر والے راویوں میں دو ثقہ راویوں کے درمیان سے کوئی ضعیف راوی بھی گرا دیتا ہے اور ان دو ثقہ راویوں کے درمیان قال یا عن جیسے الفاظ لاتا ہے۔ لہٰذا ایسے مدلس کی روایت صرف اسی صورت میں قابل قبول ہوتی ہے کہ وہ اپنے استاد سے سماع کی صراحت کے ساتھ ساتھ استاد اور آگے اس کے استاد کے سماع کی بھی صراحت کرے، یعنی پوری سند میں حدثنا، اخبرنا اور سمعت وغیرہ جیسے الفاظ لائے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ واقعی ان تمام راویوں نے ایک دوسرے سے سنا ہے اور درمیان میں سے کسی ضعیف راوی کو گرایا نہیں گیا ہے، اور اگر سند میں کسی جگہ بھی عن یا قال وغیرہ ہوا تو روایت اصولاً ضعیف ہو گی۔
مرزا صاحب جس تدلیس کی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے، شاید انہیں صرف اسی کا پتہ ہے جبکہ یہ (تدلیس تسویہ) اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے، اور اس کے متعلق شرائط اس سے بھی سخت ہیں۔ اور سب سے زیادہ اس تدلیس کا مرتکب بقیہ بن ولید ہی کو قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا مسند احمد کی روایت میں ”بحیر عن خالد“ تو پھر بھی موجود ہے لہٰذا یہ سند بھی ضعیف ہے۔
آگے چلنے سے پہلے یہاں ایک بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ ابوداؤد اور مسند احمد دونوں کی روایات آپ کے سامنے ہیں غور کریں کیا مسند احمد میں وہ باتیں ہیں جو ابوداؤد کی روایت میں ہیں؟ تو بالفرض ہم مان لیتے ہیں کہ ابوداؤد والی روایت میں بقیہ عن سے روایت کر رہا ہے وہ تو روایت ہوئی ضعیف، تو جس کتاب سے آپ سماع کی تصریح لا رہے ہیں جو آپ کے بقول صحیح سند ہے تو پھر مسند احمد کی صحیح روایت کو چھوڑ کر ضعیف سند والی روایت ہی کیوں بیان کی جاتی ہے؟ جس کی سند اصولی طور پر ضعیف ہے۔ وہ اس لیے کہ اس میں مرزا صاحب کو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنے کے لیے زیادہ مواد مل رہا ہے، مسند احمد میں تو وہ باتیں ہیں ہی نہیں کہ جس میں بقیہ کے سماع کی تصریح ہے۔ اور روایت تو صرف وہی صحیح ہو گی نہ کہ جس میں مدلس سماع کی تصریح کے ساتھ بیان کر رہا ہے، اور جس میں سماع کی تصریح نہیں اس روایت میں اضافی باتیں بھی ہیں، تو اس روایت سے یہ روایت کیسے صحیح ہو گئی بھئی؟
بہر حال ہمارا مدعا یہ ہے کہ بقیہ بن ولید عام مدلس نہیں بلکہ تدلیس تسویہ کرتا تھا اور اس کے لیے صرف اپنے استاد سے سماع کی تصریح کر دینا کافی نہیں کیوں کہ تدلیس تسویہ کرنے والے کے لیے یہ اصول ہے کہ وہ ساری سند میں سمعت یا حدثنا یا اخبرنا جیسے الفاظ استعمال کرے گا۔ درج ذیل ائمہ ومحدثین نے بقیہ بن ولید پر تدلیس تسویہ کا الزام لگایا ہے، اور صراحت کی ہے کہ یہ سند کے کسی بھی حصے سے سخت ضعیف راوی گرا دیا کرتا تھا: