3- دین اسلام کی حقیقت کیا ہے؟
دین اسلام کی حقیقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو جواب دیتے ہوئے بیان فرمائی ہے۔ جب جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے متعلق سوال کیا تو فرمایا:
« اَلْإِسْلَامُ: أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ، وَتُقِيْمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيْلًا » (صحیح مسلم [8/1])
”اسلام یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ دے، رمضان کے روزے رکھے، اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت ہو تو حج کرے۔“
اور حقیقت میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایمان لانا شامل ہے، جیسا کہ احسان بھی اس میں شامل ہے۔ احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ تو اللہ کو دیکھ رہا ہے، اگر ایسا نہ ہو سکے تو یہ ضرور ہو کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے، کیونکہ لفظ اسلام ان تمام چیزوں کو شامل ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ [آل عمران: 19]
”بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔“
اور دوسری دلیل حدیث جبریل علیہ السلام ہے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت بھی فرمائی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے یہ سوال لوگوں کو دین سکھانے ہی کے لیے کیا تھا۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ دین اسلام اللہ تعالیٰ کے حکموں کی ظاہری اور باطنی طور پر فرمانبرداری کرنے اور منع کردہ چیزوں سے ظاہری اور باطنی طور پر رکنے کا نام ہے۔ (اللجنة الدائمة: 1988)