کیا ختم قرآن کی دعا اللهم آنس وحشتي فى قبري حدیث سے ثابت ہے؟
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

عام طور پر قرآن حکیم کے آخر میں ایک دعا: اللهم آنس وحشتي فى قبري ختم القرآن لکھی ہوتی ہے، کیا یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے؟

جواب :

برصغیر پاک و ہند میں عام طور پر جو قرآن حکیم کے نسخے طبع کیے جاتے ہیں ان کے آخر میں درج کردہ دعا: اللهم أنس وحشتي فى قبري اللهم ارحمني بالقرآن العظيم کو دیلمی نے اپنی مسند میں بطریق لیث بن محمد، از احمد بن عبد اللہ بن خالد، از الولید بن مسلم، از سالم الخیاط از حسن از ابی امامہ مرفوع بیان کیا ہے، اس کے ناقابل اعتبار ہونے کی چند وجوہ ہیں:
① اس سند میں احمد بن عبد اللہ الجوبری روایات گھڑنے میں مشہور ہے، ② لیث بن محمد بھی متروک ہے، ③ سالم بن عبد اللہ الخیاط بھی مجہول ہے اور ④ ولید بن مسلم اور حسن بصری دونوں تدلیس کرتے ہیں اور ان کی روایات معلق ہیں، لہذا یہ روایت جھوٹی اور من گھڑت ہے، اس کی کوئی صحیح سند موجود نہیں ہے۔
(مزید دیکھیں سلسلة الأحاديث الضعيفة 63/6 رقم 2548، موسوعة الأحاديث والآثار الضعيفة والموضوعة 470/1)

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے