13- خبر واحد عقیدے میں حجت ہے؟
جس انسان کی یہ رائے ہے کہ خبر واحد سے عقیدہ ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ خبر واحد یقین کا فائدہ نہیں دیتی اور صرف ظن و گمان پر عقیدے کی بنیاد نہیں ہو سکتی، ہمارے خیال میں اس کی یہ رائے درست نہیں ہے، اس لیے کہ اس کی بنیاد ہی درست نہیں ہے۔ اس کے صحیح نہ ہونے کی کئی ایک وجوہات بھی ہیں:
① خبر واحد سے علم یقینی حاصل نہیں ہوتا۔ یہ بات مطلقاً درست نہیں، بلکہ بعض اخبار آحاد ایسی ہیں جو خارجی قرائن کی وجہ سے علم یقینی کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ قرائن اس خبر کی صحت پر دلیل ہوتے ہیں، جیسا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
« إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ » (صحيح البخاري، رقم الحديث [1]، صحیح مسلم [1907/155])
”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔“
خبر واحد ہونے کے باوجود ہمیں پورا یقین ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ یہ بات شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے ثابت ہے۔
② نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی آدمی کو مختلف علاقوں کی طرف دعوتِ دین کے لیے بھیجا کرتے تھے اور اس میں عقیدہ بھی شامل ہے کہ وہ ”لا إله إلا الله“ کا اقرار کریں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا اور اکیلے معاذ کی دعوت کو قبول کرنا اہل یمن پر فرض قرار دیا۔
③ اگر خبر واحد سے عقیدہ ثابت نہیں ہوتا تو یہ بھی ممکن ہے کہ عملی احکام بھی خبر واحد سے ثابت نہ ہو سکیں، کیونکہ عملی احکام میں بھی یہ عقیدہ شامل ہے کہ یہ کام کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور یہ کام کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔ اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو شریعت کے بہت سے احکام بے فائدہ ہو کر رہ جائیں گے اور اگر اس قول کو قبول کرنا درست نہیں تو پھر خبر آحاد سے عقیدہ ثابت نہ ہونے والا قول بھی رد کیا جا سکتا ہے، کیونکہ دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں ہے، جیسا کہ ہم اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔
④ رسالت جیسے عظیم مسئلے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ جسے علم نہ ہو وہ اہل علم سے پوچھ لے اور یہ سوال ایک سے بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ سے بھی، حالانکہ مسئلہ رسالت عقیدے کے اہم ترین مسائل میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ [النحل: 44,43]
”اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر مرد، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ سو ذکر والوں سے پوچھ لو، اگر تم شروع سے نہیں جانتے۔ واضح دلائل اور کتابیں دے کر۔“
خلاصہ یہ ہے کہ جب خبر واحد کو خارجی قرائن سے تقویت حاصل ہو جائے تو وہ علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے اور اس سے ہر طرح کے اعمال، خواہ ان کا تعلق عمل سے ہو یا عقیدہ سے، ثابت ہوتے ہیں۔ ان میں فرق کی کوئی دلیل ثابت نہیں ہے اور جس کا یہ دعویٰ ہو کہ فلاں امام نے ان میں فرق کیا ہے تو اس پر یہ بات لازم آتی ہے کہ صحیح سند کے ساتھ اس امام سے ثابت کرے اور یہ بھی ثابت کرے کہ اس امام نے یہ فرق کس دلیل کی بنا پر کیا ہے۔ (ابن عثیمین: مجموع الفتاویٰ والرسائل: 4)