سوال :
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ راتیں ایسی ہیں کہ ان میں کوئی دعا رد نہیں ہوتی: ① رجب کی پہلی رات ② نصف شعبان کی رات ③ جمعہ کی رات④ عید الفطر کی رات اور⑤ عید قربان کی رات۔ (مکاشفۃ القلوب) کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
جواب :
مندرجہ بالا روایت ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے تاریخ مدینة دمشق (408/10) اور مسند الفردوس (199/2، رقم 2975) میں موجود ہے۔ ابن عساکر نے اسے بندار بن عمر بن أحمد أبو سعيد الروياني کے طریق سے ابراهيم بن أبى يحيى عن أبى قعنب عن أبى أمامة الباهلي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خمس ليال لا ترد فيهن الدعوة، أول ليلة من رجب وليلة النصف من شعبان، وليلة الجمعة، وليلة الفطر، وليلة النحر روایت کیا ہے۔
یہ روایت موضوع ہے، کیونکہ بندار بن عمرو الرویانی کذاب راوی ہے۔ ابن عساکر نے عبد العزیز سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا: لا تسمع منه فإنه كذاب اس سے حدیث نہیں سنی جائے گی، اس لیے کہ یہ کذاب ہے۔
(تاریخ مدينة دمشق 408/10)
اسی طرح اس کی سند میں ابراہیم بن ابی یحییٰ بھی کذاب ہے۔ امام مالک، یحییٰ بن سعید اور ابن معین وغیرہ نے اسے کذاب قرار دیا ہے۔
(كتاب الضعفاء والمتروكين 51/1، كتاب المجروحين لابن حبان 105/1) ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ متروک ہے۔“(تقريب التهذيب 98/1)
تیسری علت یہ ہے کہ ابو قعنب مجہول ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔
(سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة 649/3، حدیث 1452)