مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حق مہر پر باپ یا بھائی کا حق؟ شرعی وضاحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا کوئی آدمی اپنی بیٹی یا بہن کا حق مہر اپنے پاس رکھنے کی شرط پر اس کا نکاح کر سکتا ہے؟

جواب :

اس کی بیٹی یا بہن کا حق مہر در اصل عورت ہی کا حق ہے اور اسی کی ملکیت ہے، جس میں تصرف کا اختیار باپ یا بھائی کو ہرگز نہیں ہے۔ اگر عورت اپنی مرضی سے اپنا حق مہر سے دے دیتی ہے، یا اس میں سے بعض حصہ باپ یا بھائی کے حوالے کر دیتی ہے تو اسے اس بات کا مکمل اختیار ہے، بشرطیکہ اس پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہ ہو۔ یہ عورت کی طرف سے ہبہ (تحفہ) تصور کیا جائے گا، جو وہ اپنے باپ یا بھائی کو پیش کر رہی ہے۔ اگر عورت اس بات پر راضی نہ ہو تو کسی بھی صورت میں باپ یا بھائی کے لیے جائز نہیں کہ وہ حق مہر مکمل یا اس سے کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرے یا اس کے لیے اپنی شروط رکھے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔