مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وضع حمل کے لیے کافر مرد ڈلیوری کیس

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال:

کیا مسلمان عورت کے لیے جائز ہے کہ وضع حمل کے لیے یہ جانتے ہوئے بھی ہسپتال جائے کہ وہاں پر کافر مرد ڈلیوری کیس کریں گے؟

جواب:

جب وہ مجبور ہو اور کافر ڈاکٹروں کے علاوہ اس کو کوئی (مسلمان مرد یا لیڈی) ڈاکٹر میسر نہ ہو تو ان سے ڈلیوری کروانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ہم پڑھا کرتے ہیں کہ اس کو مسلمان ڈاکٹر کے علاوہ کسی سے بچہ جنوانا جائز نہیں ہے لیکن اس کی دلیل کہاں ہے جبکہ ضرورتوں کے وقت احکام مختلف ہوتے ہیں؟

(مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔