حدیث 19: متعہ کرنا
صحيح البخاري، النكاح ، باب نهي النبي عن نكاح المتعة أخيرا، حديث : 5115
طلوع اسلام والے نے متعہ کے متعلق روایات جمع کر کے ہر ایک کے ساتھ بریکٹ میں معاذ اللہ، نعوذ باللہ اور استغفر اللہ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اسی طرح متعہ کی احادیث کو باطل بتا کر تمام احادیث سے انکار کرنے کا دروازہ کھولنا چاہا ہے۔ ان کے نزدیک روایات متعہ پر چند غلط نتائج مرتب ہوئے ہیں جو درج ذیل ہیں:
➊ متعہ کی اجازت عہد نبوی میں صرف دوران جنگ کے زمانے سے مخصوص نہ تھی۔
➋ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اور تابعین میں متعہ کا عام رواج تھا۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کو بار بار منع کر کے آخر میں ابدی حرمت کا اعلان کیا لیکن پھر بھی آپ کے عہد، دور صدیقی اور عہد فاروقی میں کھلم کھلا یہ کام ہوتا رہا۔
➍ یہ کام صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کی شان و شوکت کے خلاف ہے، لہذا (بخاری مسلم کی) یہ تمام روایات متعہ موضوع ہیں۔
➎ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اس کے جواز پر استدلال میں
فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ
”جو تم اس نکاح کے ذریعے سے فائدہ حاصل کرتے ہو۔“
(4-النساء:24)
پیش کرنا موضوعیت کے ساتھ ساتھ مجوسی سازش کا نتیجہ ہے۔
جواب :
اس بات سے ہمارا اتفاق ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں اس سے صراحتاً منع فرمایا لیکن جو نتائج طلوع اسلام نے مرتب کیے ہیں، وہ غلط ہیں۔ پہلے نتیجے میں یہ نقص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلامی فوج کو رخصت متعہ صرف جنگ کی حالت میں ضرورت کی بنا پر دی گئی تھی۔ اس کے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ نے چند احادیث بیان کی ہیں۔
➊ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
إن النبى صلى الله عليه وسلم نهى عن المتعة وعن لحوم الحمر الأهلية زمن خيبر
”بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔“
صحيح البخاري، النكاح، باب نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن نكاح المتعة أخيراً، حديث: 5115
➋ ابو جمرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے عورتوں سے متعہ کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا تو انہوں نے رخصت دی۔ ان کے آزاد کردہ غلام نے ان سے کہا: یہ حکم تو اس وقت ہے جب حالات سخت ہوں اور عورتوں کی قلت ہو، یا ایسی کوئی بات کہی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں۔
صحيح البخاري، النكاح، باب نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن نكاح المتعة أخيراً، حديث: 5116
➌ جابر بن عبد اللہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ہم ایک لشکر میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا:
إنه قد أذن لكم أن تستمتعوا فاستمتعوا
”تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، پس تم متعہ کرو۔“
صحيح البخاري، النكاح، باب نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن نكاح المتعة أخيراً، حديث: 5117-5118
➍ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا:
أيما رجل وامرأة توافقا فعشرة ما بينهما ثلاث ليال فإن أحبا أن يتزايدا أو يتتاركا تتاركا فما أدري أشيء كان لنا خاصة أم للناس عامة قال أبو عبد الله وقد بينه على رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه منسوخ
”جو کوئی مرد اور عورت باہم موافقت کر لیں تو ان کے درمیان تین دن اور تین رات کی معاشرت ہوگی، پھر اگر وہ دونوں مدت بڑھانا چاہیں تو بڑھا لیں یا چھوڑ دیں۔“ میں نہیں جانتا کہ یہ چیز ہمارے لیے خاص تھی یا تمام لوگوں کے لیے عام۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا ہے کہ یہ منسوخ ہے۔
صحيح البخاري، النكاح، باب نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن نكاح المتعة أخيراً، حديث: 5119
ان احادیث میں سے حدیث دوم سے صراحتاً معلوم ہوا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک متعہ کا جواز ضرورت کے ساتھ خاص تھا، عام نہیں تھا۔ حدیث سوم سے معلوم ہوا کہ یہ لشکر، یعنی حالت جنگ کے ساتھ خاص تھا اور اس حدیث سوم کو امام بیہقی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے جس میں تخصیص کی تصریح کی ہے اور کہا ہے کہ ہمیں (لشکر والوں کو) صرف تین دن کی رخصت دی گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔
حدیث اول میں مذکور ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن اس سے منع فرما دیا تھا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ متعہ کی رخصت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حالت جنگ کے ساتھ خاص تھی اس کی عام اجازت نہیں دی گئی۔ امام نووی رحمہ اللہ اور دیگر اہل علم نے فرمایا ہے کہ متعہ کی تحریم اور اجازت دو مرتبہ ہوئی۔ خیبر سے پہلے حلال تھا تو خیبر میں حرام کیا گیا، پھر یوم اوطاس (فتح مکہ کے قریب) صرف تین دن کے لیے اجازت دی گئی اور پھر قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔ ابو داود کی روایت میں جو ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر اس سے منع فرمایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حرمت پہلے اوطاس کے روز سے تھی لیکن اس حرمت کا عام اعلان خطبہ حجۃ الوداع میں کیا گیا۔
◈ نوٹ: میرے نزدیک نکاح متعہ کی حرمت مکہ مکرمہ میں مکی سورتوں میں نازل ہوئی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿٥﴾ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ﴿٦﴾ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ﴿٧﴾
”اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں مگر اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں سے نہیں کیونکہ (ان سے مباشرت کرنے میں) ان پر کوئی ملامت نہیں، پس جو شخص اس کے سوا خواہاں ہو تو ایسے لوگ حد سے نکل جانے والے ہیں۔“
(23-المؤمنون:5-7)
نکاح متعہ سے جو بیوی حاصل ہوتی ہے وہ عرف میں زوجہ نہیں ہے کیونکہ زوجیت میں دوام کا معنی مضمر ہے جبکہ متعہ میں دوام کی نیت نہیں ہوتی اور لونڈیوں کو بھی عرف میں زوجہ نہیں کہتے، نیز نکاح متعہ میں لونڈیاں داخل نہیں۔ معلوم ہوا کہ نکاح متعہ جو اس (بیوی اور لونڈی) کے سوا ہے، حرام میں داخل ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح متعہ غزوہ خیبر تک حلال تھا اور خیبر میں منع کیا گیا، اس کی مثال یہ ہے کہ مردار، خون، خنزیر اور جو چیز غیر اللہ کے نام پر ذبح کی جائے، یہ تو ابتدا ہی سے حرام تھیں لیکن سورۂ انعام، نحل، بقرہ اور مائدہ میں اس کے متعلق خصوصی اعلان کیا گیا کہ خصوصاً جو چیز غیر اللہ کے نام پر مشہور کی جائے وہ شرک ہے۔ مزید برآں بخاری شریف کی روایت سے ثابت ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے بھی غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ نہیں کھایا کرتے تھے کیونکہ یہ شرک ہے۔ اسی طرح متعہ پہلے حرام تھا لیکن ہو سکتا ہے کہ خیبر میں کسی نے متعہ کرنے کا ارادہ کیا ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتاً اس سے منع کر دیا ہو۔
◈فائدہ: ابن عباس، ابن مسعود اور جابر رضی اللہ عنہم کو دائمی ممانعت کی روایت نہیں پہنچی تھی اس لیے وہ متعے کے جواز کے قائل تھے۔ جب ان کو یہ روایت پہنچ گئی تو انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا جیسا کہ امام ترمذی نے اسے بیان فرمایا ہے۔
سوال :
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے اور ہمارے لیے کوئی چیز نہیں تھی تو ہم نے عرض کیا:
فقلنا ألا نستخصي فنهانا عن ذلك ثم رخص لنا أن ننكح المرأة بالثوب ثم قرأ علينا يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا
”کیا ہم اپنے آپ کو خصی نہ کر لیں؟ تو آپ نے ایسا کرنے سے ہمیں منع فرمایا، پھر آپ نے کپڑے کے عوض عورت سے نکاح کرنے کے بارے میں ہمیں اجازت مرحمت فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اے ایمان والو! ہم نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرو۔“
صحيح البخاري ، النكاح، باب ما يكره من التبتل والخصاء حديث : 5075 ، والتفسير باب قوله تعالى:يايها الذين آمنوا لا تحرموا المآئدة 87:5 ، حديث: 4615
جواب :
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن کے عموم سے متعے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ حقیقت کی نظر سے دیکھیں اس سے بالکل واضح معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم سفر میں تھے اور کثرت شہوت کی وجہ سے وہ اس حالت تک پہنچ گئے تھے کہ انہوں نے آپ سے اجازت طلب کی کہ وہ اپنے آپ کو خصی کر لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ اضطراری حالت دیکھ کر انہیں خصی ہونے کے بارے میں اجازت نہ دی بلکہ متعے کی اجازت مرحمت فرمائی لیکن یہ اسلام کے آغاز کا واقعہ ہے، پھر منسوخ ہو گیا جیسا کہ امام محمد نے کتاب الآثار میں متعے کی رخصت کے بارے میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی روایت پیش کی ہے کہ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کو ایک غزوہ میں متعے کی اجازت دی گئی تھی جب انہوں نے ازواج نہ ہونے کی شکایت کی تھی۔ اس کے بعد آیت نکاح، میراث اور مہر کے متعلق آیات نازل ہوئیں تو متعے کو منسوخ کر دیا گیا۔ ہو سکتا ہے اس آیت کا مصداق زمانہ رخصت متعہ ہو اور اس وقت اسے حرام کہنا منع تھا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ طلوع اسلام کے وہ نتائج اخذ کرنا کہ احادیث میں متعے کی اجازت عام ہے، صحابہ کرام رضي اللہ عنہم میں اس کا عام رواج تھا اور دور صدیقی اور عہد فاروقی میں کھلم کھلا چل رہا تھا، یہ نتائج سب کے سب باطل ہیں۔ یہ احادیث سے انکار کرنے کا راستہ کھولنے کی بے ہودہ کوشش ہے اور اس سے روافض کا جواز متعہ کے لیے استدلال بھی غلط ہے۔