مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز میں جاندار کی تصویر والی جیکٹ پہننا جائز؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا نماز پڑھتے وقت ایسی جیکٹ یا قمیض پہنی جا سکتی ہے جس پر کسی پرندے یا کسی اور جاندار کی تصویر ہو؟

جواب :

کسی بھی جاندار، ذی روح پرندے وغیرہ کی تصویر بالکل ناجائز اور حرام ہے، اس پر بے شمار احادیث صحیحہ موجود ہیں۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا، اس نے کہا:
میں تصویر بناتا ہوں، آپ اس کے متعلق مجھے فتویٰ دیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور فرمایا: ”تمھیں اس بات کی خبر دوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، آپ نے فرمایا: ہر تصویر بنانے والا جہنمی ہے، اس کے لیے ہر صورت کے بدلے جو اس نے بنائی تھی ایک نفس بنایا جائے گا، وہ اسے جہنم میں عذاب دے گا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر تو ضرور تصویر بنانے والا ہے تو درخت کی تصویر بنا یا اس چیز کی جس میں روح نہیں۔“
(مسلم، کتاب اللباس، باب تحريم تصوير الحيوان الخ 2110)
معلوم ہوا کہ جاندار کی تصویر حرام ہے۔ ایسا لباس مطلق طور پر پہننا ہی نہیں چاہیے، خواہ نماز کے لیے ہو یا غیر نماز کے لیے۔ اگر ان تصاویر کے چہرے مسخ کر دیے جائیں تو پھر ان کا استعمال درست ہے۔ تفصیل کے لیے راقم کی کتاب ”ٹی وی معاشرے کا کینسر“ ملاحظہ ہو۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔