نصف شعبان کی رات کا قیام اور روزہ: کیا شریعت میں ثابت ہے؟
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

کیا شعبان کی پندرہویں رات کا قیام اور روزہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے؟

جواب:

اس سلسلہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت بیان کی جاتی ہے:
”جب نصف شعبان کی رات ہو تو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔“
(میزان الاعتدال 10024، تذكرة الموضوعات 45، کنز العمال 35188)
یہ روایت موضوع ہے، اس کی سند میں ابن ابی سبرہ ہے، جس کے بارے میں امام احمد بن حنبل اور امام یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ یہ روایات گھڑتا ہے۔
لہٰذا یہ روایت موضوع ہے، اس لیے خاص اہتمام کے ساتھ شب براءت کا قیام اور صبح کا روزہ رکھنا درست نہیں ہے۔ البتہ جن لوگوں کا معمول ہے کہ وہ سوموار، جمعرات یا چاند کی 13، 14 اور 15 کا روزہ رکھتے ہیں، جنھیں ایام بیض کہا جاتا ہے، یا ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن روزہ رکھتے ہیں، ان کے معمول میں آ جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن خصوصاً اس رات جاگنا اور صبح روزہ کا اہتمام کرنا درست نہیں ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے