نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کا شرعی حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا نشے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ قرآن و سنت کی رو سے رہنمائی کریں۔

جواب :

کتاب و سنت کے کئی ایک دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ سکر و نشہ کی حالت میں کہی ہوئی بات پر شرعی حکم لاگو نہیں ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾
(النساء : 43)
”اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ تم جان لو جو تم کہہ رہے ہو۔ “
اللہ تعالیٰ نے نشئی کا قول غیر معتبر قرار دیا ہے، اس لیے کہ حالت نشہ میں وہ جو بات کہہ رہا ہوتا ہے اس کا اسے علم نہیں ہوتا۔ اسی طرح صحیح بخاری میں علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے سکر و نشہ کی حالت میں علی رضی اللہ عنہ کی اونٹنیوں کو کاٹ ڈالا تو نبی صلى الله عليه وسلم آکر انھیں ملامت کی، پھر اس پر نظر دوڑائی تو پتا چلا کہ وہ تو نشہ کی حالت میں ہیں۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
”تم تو میرے باپ کے غلام ہو۔ تو نبی صلى الله عليه وسلم ان کی یہ حالت دیکھ کر واپس پلٹ آئے۔“
بخاري، كتاب المغازي، باب شهود الملائكة بدرا (1003)
بہر کیف حمزہ رضی اللہ عنہ نے جو بات حالت نشہ میں کہی اس کا اعتبار نہیں کیا گیا، اگر یہ بات نشہ نہ کرنے والا کہتا تو ارتداد و کفر تھا۔ ابن ابی شیبہ میں عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجنون اور نشئی کی طلاق کا اعتبار نہیں ہے۔ عطاء، طاؤس، قاسم بن محمد اور عمر بن عبد العزیز وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے امام ابن القیم کی زاد المعاد (210/5 تا 214) ملاحظہ کریں۔ راجح قول یہ ہے کہ نشہ کی حالت میں کہی ہوئی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، لہٰذا سکران (نشی) کی طلاق غیر معتبر ہے۔