موسیقی کی حرمت اور مصادرِ دین کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد الحق اثری کی کتاب اسلام اور موسیقی پر اشراق کے اعتراضات کا جائزہ سے ماخوذ ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمدلله والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد:

دینِ اسلام کی بنیاد قرآنِ مجید اور حدیثِ وسنت پر ہے۔ دین میں کسی چیز کے جائز وناجائز، حلال و حرام ہونے کے یہی دو بنیادی مأخذ ہیں۔ جمہور امت اور فقہائے اربعہ رحمہ اللہ قرآن وسنت کے انہی دلائل کی بنا پر موسیقی کو حرام اور ناجائز قرار دیتے ہیں۔ بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی موسیقی اور آلاتِ موسیقی کی حرمت پر متفق ہیں۔ کسی ایک صحابی سے بھی بسندِ صحیح اس کا جواز ثابت نہیں۔ بعض حضرات نے اس کے لئے اگرچہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے جواز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، مگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بالوضاحت فرمایا ہے: [لكن لم يثبت من ذٰلك شيء] ان سے ایسی کوئی چیز ثابت نہیں۔ (فتح الباری:10، ص543)

اس کے بالکل برعکس جناب جاوید احمد غامدی صاحب اور ادارۂ اشراق سے وابستگان حضرات فرماتے ہیں:موسیقی انسانی فطرت کا جائز اظہار ہے، اس لئے اس کے مباح ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ (اشراق:ص8،مارچ 2004) ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ موسیقی مباحاتِ فطرت میں سے ہے۔ اسلامی شریعت اسے ہرگز حرام قرار نہیں دیتی۔ (ایضاً:ص9)

قابلِ غور بات یہ ہے کہ کسی چیز کے جائز وناجائز ہونے کا یہ اصول کہ وہ انسانی فطرت کے مطابق ہو تو جائز ہے، یہ کس دینی اصول پر مبنی ہے؟ ایک طرف تو وہ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ: دین میں کسی چیز کے جواز یا عدمِ جواز کے لئے فیصلہ کن حیثیت قرآن وسنت کو حاصل ہے۔ ان کی سند کے بغیر شریعت کی فہرستِ حلت وحرمت میں کوئی ترمیم واضافہ نہیں ہوسکتا۔ (ایضاً:ص8)

جب امرِ واقع یہ ہے، تو ،،انسانی فطرت،، کے مطابق ہونے کی بنا پر اس کے جائز اور مباح ہونے کا فتویٰ اصولِ شریعت میں اضافے کا سبب ہے یا نہیں؟ بلاشبہ انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فطرتِ توحید پر پیدا کیا ہے۔ مگر فطرت کے تمام لوازمات اور مقتضیات کو سمجھنا انسان کے لیے ممکن ہے۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لئے انبیاءِ کرام علیہم السلام کو بھیجا ہے۔ ان کی تعلیمات سے ہٹ کر فطرت کے مقتضیات کو سمجھنا ہمارے نزدیک اباحیت کا دانستہ یا نادانستہ دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ جس کے ڈانڈے معتزلہ کے اس اصول سے جا ملتے ہیں کہ حسن وقبح عقلی ہے، نیک وبد کا ادراک عقل کر سکتی ہے شرع کی یہ محتاج نہیں۔ مشہور معتزلی جبائی تو عقل کو ،،شریعتِ باطنی،، قرار دیتا تھا۔ اربابِ اشراق بھی اسی راستہ پر عقل کی بجائے فطرت کے نام سے چل نکلے ہیں۔ دین کے مصادر کیا ہیں؟ اس کے بارے میں انہوں نے صاف طور پر لکھا ہے:

دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنتِ ابراہیمی کی روایات اور قدیم صحائف بھی ہیں۔ (اشراق:ص11،مارچ 2004)

ہم حیران ہیں کہ ایک طرف تو فرمایا جاتا ہے: کہ دین میں کسی چیز کے جواز یا عدمِ جواز کے لئے فیصلہ کن حیثیت قرآن وسنت کو حاصل ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ مصادرِ دین میں سے سنت خارج ہے، اس کی بجائے سنتِ ابراہیمی ہے، فطرت کے حقائق اور قدیم صحائف بھی ہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ تو یہ ہے، اسلام جس کی تعبیر قرآن وسنت میں ہے وہ مکمل دین نہیں، اس کی تکمیل سنتِ ابراہیمی اور قدیم صحائف سے ہوتی ہے۔ تمام اہل سنت اس پر متفق ہیں، قرآن پاک دین کی آخری مکمل کتاب ہے، اور سیدنا محمد رسول اللہﷺ آخری رسول ہیں۔ قرآن وحدیث کے علاوہ پہلے صحائف اور سابقہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے احکام وشرائع کی تابعداری ملتِ اسلامیہ کے لیے قطعاً مصادرِ دین میں شامل نہیں۔ سابقہ شرائع میں سے اگر کوئی حکم معمول بہ ہے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے فرمانے اور حکم دینے سے ہے، سابقہ شرائع کے اعتبار سے نہیں۔ یہی وہ بنیادی اور اساسی اختلاف ہے، غامدی صاحب اور اربابِ اشراق کے ساتھ علمائے امت کا۔ اگر دینِ اسلام کی تکمیل قرآن وسنت سے نہیں، بلکہ ان کے پہلو بہ پہلو "سنتِ ابراہیمی کی روایات اور قدیم صحائف” سے ہوتی ہے تو یہ حضرات صاف طور پر کیوں نہیں کہہ دیتے کہ دینِ اسلام مکمل دین نہیں۔ یہ جرأت تو وہ کر نہیں سکتے، لیکن فکر وفلسفہ کی جو راہ انہوں نے متعین کی اس کا منطقی نتیجہ بہر حال یہی ہے۔

سابقہ صحائف کے بارے میں اس بات کی تو گنجائش ہے کہ: [حدثوا عن بنی اسرائیل ولا حرج] بنی اسرائیل سے حکایت نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (بخاری، أحادیث الأنبیاء باب ما ذکر عن بنی إسرائیل، رقم: 3461)

لیکن ان پر ایمان وایقان یا اسے مصادرِ دین ہی بنا لینا، اس کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا: [لا تصدقوا أهل الكتاب ولا تكذبوهم] تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تم تکذیب کرو۔ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر باب قولوا آمنا، رقم: 4485)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اے مسلمانو! تم اہل کتاب سے کیسے پوچھتے ہو حالاں کہ تمہاری کتاب جو تمہارے نبیﷺ پر اتری ہے اللہ کی طرف سے تمام کتابوں میں سے نئی کتاب ہے۔ تم اس کو پڑھتے ہو اس میں کچھ خلط ملط نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کتاب میں خبردار فرمایا ہے: کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتاب کو بدل دیا اور اپنے ہاتھوں سے اس میں تصرف کیا اور کہنے لگے کہ یہ اللہ کا کلام ہے، اور ایسا انہوں نے تھوڑی سی دنیا ہتھیا نے کے لئے کیا، کیا تم کو جو اللہ نے علم دیا ہے اس میں ان سے پوچھنے کی ممانعت نہیں؟ اللہ کی قسم! ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو تم سے دریافت کرتا ہو کہ تمہارے اوپر کیانازل ہوا ہے؟ (بخاری، کتاب الشہادات، باب: 29، رقم: 2685)

یہ ہے نبی کریم ﷺ کا فرمان اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی وضاحت، یہی تمام ملتِ محمدیہ کا فیصلہ ہے کہ صحفِ سابقہ مصادرِ دین نہیں ہیں۔ مگر اس کے برعکس غامدی صاحب اور ان کے ہمنوا انہیں مصادرِ دین سمجھتے ہیں۔

قارئینِ کرام کو یاد ہوگا کہ جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے کچھ عرصہ پہلے "اسلام اور فنونِ لطیفہ” کے موضوع پر ایک لیکچر دیا۔ جسے ادارۂ اشراق سے وابستگان حضرات نے مزید تحقیق و تنقیح کے بعد "اسلام اور موسیقی” کے عنوان سے مارچ 2004ء کے اشراق میں شائع کیا۔ اسی مضمون کا جواب اس ناکارہ نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے دیا جو مسلکِ سلف کے پاسبان ہفت روزہ "الاعتصام” لاہور کی جلد نمبر 57 (بمطابق 2005ء) میں گیارہ اقساط میں شائع ہوا۔ جسے بعد میں افادہۂ عام کے لئے ضروری حک واضافہ کے ساتھ ،،اسلام اور موسیقی،، شبہات ومغالطات کا ازالہ کے عنوان سے کتابی صورت میں بھی طبع کیا گیا۔ ہمارے اسی نقد وتبصرہ پر اشراق مارچ، اپریل 2006ء کے دوشماروں میں مفصل تنقیدی تبصرہ شائع ہوا ہے۔ راقم اثیم ادارۂ اشراق کا شکر گزار ہے کہ انہوں نے براہِ راست یہ شمارے ناکارہ کو ارسال کئے بلکہ ’’اشراق‘‘ کی ترسیل کا سلسلہ بعد میں بھی قائم رکھا اور اس سے استفادہ کا موقع بخشا۔

ہمارے مضمون کے جواب میں فرمایا گیا کہ: ہمارے مضمون کے پہلے باب کا عنوان قرآن اور موسیقی، دوسرے کا بائبل اور موسیقی، اور تیسرے کا احادیث اور موسیقی تھا۔ الاعتصام نے پہلے دو ابواب پر کوئی تبصرہ کئے بغیر تیسرے باب سے اپنی تنقید کا آغاز کیا ہے۔ ابتدائی دو ابواب کے مباحث پر ان کی خاموشی کو ہم خاموشیِ نیم رضا کے مقولے پر محمول کر کے آگے بڑھتے ہیں۔ (اشراق: ص27،مارچ 2006ء)

عرض ہے کہ جمہور امت کے فیصلے کے مطابق ہمارے نزدیک بھی "بائبل” مصادرِ دین میں قطعاً شامل نہیں، اس کا کوئی حکم امتِ محمدیہ کے لئے شریعت نہیں۔ دین وشریعت کا مصدر و مأخذ قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺکے ارشادات ہیں۔ اسی لئے بائبل کے حوالے سے موسیقی پر استدلال کو ہم نے درخورِ اعتنا نہیں سمجھا، اور اپنی بحث کو قرآن وحدیث تک محدود رکھا، کہ یہ مسئلہ ملتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام کا ہے، اور ان کے لئے انہی کی نصوص کافی و شافی ہیں۔ مگر غامدی صاحب اور ادارۂ اشراق ’بائبل‘ کو بھی مصادرِ دین میں شمار کرتے ہیں یہ ان کی اپنی مجبوری ہے۔ تجدد پسندی کے لئے نئے اصول وضوابط کو متعارف کرانا ہر دور میں متجددین و مبتدعین کا طریقہ رہا ہے، ان کے لئے ایسے اصول اور مصادر تو یقیناً بہت بڑا سہارا ہیں، مگر ملتِ اسلامیہ کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں۔

رہا "قرآن اور موسیقی” کا عنوان، تو اس کے بارے میں خود اربابِ اشراق نے لکھا ہے: جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں قرآن مجید اصلاً خاموش ہے۔ اس کے اندر کوئی ایسی آیت نہیں جو موسیقی کی حلت وحرمت کے بارے میں کسی حکم کو بیان کر رہی ہو۔ البتہ اس میں بعض ایسے اشارات ضرور موجود ہیں جن سے موسیقی کے جواز کی تائید ہوتی ہے۔ ان کی بنا پر قرآن سے موسیقی کے جواز کا یقینی حکم اخذ کرنا تو بلاشبہ کلام کے اصل مدعا سے تجاوز ہوگا، لیکن بالبداہت واضح ہے کہ ان کی موجودگی میں اس کے عدمِ جواز کا حکم بھی کسی صورت میں اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ (اشراق:ص12،مارچ2004ء)

"اشراق” کی یہ عبارت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قرآن سے موسیقی کا جواز قطعاً ثابت نہیں۔ قرآن سے اس کے جواز کی کوشش قرآن کے اصل مدعا سے تجاوز ہے۔ اس وضاحت کے باوجود ’’قرآن اور موسیقی‘‘ کے عنوان سے موسیقی کے جواز کے تاثر اور اس کے جواب کے مطالبے کو دجل ہی کہا جا سکتا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ: قرآن میں بعض ایسے اشارات ضرور موجود ہیں جن سے موسیقی کے جواز کی تائید ہوتی ہے۔ یعنی یہ اشارات بذاتِ خود موسیقی کے جواز کی دلیل نہیں، البتہ ان سے جواز کی تائید ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ موسیقی کا ’’جواز‘‘ بزعمِ ادارۂ اشراق حدیث سے ثابت ہوتا ہے قرآن سے قطعاً نہیں نہ صراحتاً نہ ہی اشارتاً، اس لئے اس ناکارہ نے ’احادیث اور موسیقی‘ کے مستدلات پر نقد وتبصرہ کو محدود رکھا ہے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہ تھی۔ علم وعقل کا فیصلہ بھی یہی ہو سکتا ہے کہ ’’جواز‘‘ کی اصل دلیل پر غور وفکر کیا جائے، خود ساختہ اشارات میں اپنا اور قارئین کا وقت ضائع نہ کیا جائے۔

یہ اشارات کیا ہیں؟ فرمایا گیا کہ یہ قرآن کا صوتی آہنگ ہے۔ بلاشبہ قرآنِ مجید میں صوتی آہنگ پایا جاتا ہے، تبھی تو کفار نے اسے شاعر کا کلام کہا تھا۔ انہوں نے شعر سے زیادہ اس میں تأثیر اور حلاوت محسوس کی، وزن اور قافیہ کے بغیر اس میں شعری ذوق و وجدان اور لذت کو محسوس کیا، لیکن کہاں یہ صوتی آہنگ اور کہاں بینڈ باجا اور آلاتِ ملاهی، شتان بينهما!

کتنے تعجب کی بات ہے کہ اسی صوتی آہنگ سے کفارِ عرب کو دھوکا لگا کہ یہ شاعر کا کلام ہے، کسی صحابی نے یہ جسارت نہیں کی، بالکل اسی طرح اسی صوتی آہنگ سے غامدی صاحب اور ادارۂ اشراق کو یہ دھوکا ہوا کہ موسیقی کے اشارات قرآن میں موجود ہیں، مگر کسی صحابی نے ایسا کوئی اشارہ نہیں سمجھا۔ بلکہ انہوں نے تو قرآن کی آیت سورۂ لقمان سے غنا اور موسیقی کو ناجائز ہی قرار دیا۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ انہی موہوم اشارات کی بنا پر یہ بھی فرمایا گیا کہ ’’ان کی موجودگی میں اس (موسیقی) کے عدمِ جواز کا حکم بھی کسی صورت میں اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ گویا قرآن مجید سے موسیقی کے عدمِ جواز کا جو حکم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور فقہائے امت نے سمجھا ہے وہ ان اشارات کی بنا پر درست نہیں ہے۔ کہاں قرآن مجید سے موسیقی کے عدمِ جواز پر سلف کا موقف اور کہاں غامدی صاحب اور ادارۂ اشراق کے اشارات۔ سبحان الله

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مبتدعین کے ایک قرآنی استدلال پر کیا خوب فرمایا تھا: [لقد قرءوا منه ما قرأتم وعلموا من تأويله ما جهلتم وقالوا بعد ذلك كله بكتاب وقدر … الخ]

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن مجید کو پڑھا، جو تم پڑھتے ہو، اور قرآن کی تأویل وتفسیر کو جانا، جس سے تم بے خبر ہو، اس کے باوجود انہوں نے فرمایا: کہ اللہ کی کتاب لوحِ محفوظ اور تقدیر برحق ہے۔ (ابوداود مع العون:ص335 ج4)

یہی بات ہم یہاں بھی عرض کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن مجید کو پڑھا اور سمجھا انہوں نے قرآن مجید کے ’’اشارات‘‘ سے موسیقی کی تائید نہیں سمجھی، بلکہ قرآن مجید سے اس کی ممانعت ہی سمجھی ہے، جو اربابِ اشراق کو نظر نہیں آتی۔ فرماتے ہیں: ’’قرآن مجید اس کے بارے میں خاموش‘‘ ہم عرض کر چکے ہیں کہ یہ بالکل اسی طرح کی طرزِ فکر ہے، جو پاکستان کا ایک آزاد فکر طبقہ کہتا ہے، کہ قرآن مجید نے شراب کو حرام قرار نہیں دیا حالاں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو [فهل انتم منتهون] کا قرآنی حکم سن کر پکار اٹھے تھے:[انتهينا انتهينا] مگر ہمارے دانشوروں کو یہ حرمت نظر نہیں آتی، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن مجید میں [لہو الحدیث] کا مصداق گانا بجانا، موسیقی سمجھ گئے، مگر ہمارے متجدد دین اور ریسرچ سکالروں کے نزدیک قرآن مجید اس سے خاموش ہے۔ تشابهت قلوبهم وأقوالهم

محترم غامدی صاحب اور ادارۂ اشراق نے موسیقی کے جواز پر جن روایات سے استدلال کیا ہے، ہم ان کی کمزوری پہلے واضح کر چکے ہیں۔ عید پر موسیقی، شادی بیاہ پر موسیقی، جشن پر موسیقی، سفر میں موسیقی، آلاتِ موسیقی، فنِ موسیقی، رقص جیسے پر فریب عنوانات کے تحت جو بساط انہوں نے بچھائی ہے اور موسیقی کے لئے جواز کا جو فتویٰ صادر فرمایا اس پر اس فن سے وابستہ اداکارائیں، گلوکار اور گلوکارائیں، فلمی ستارے، رقص وسرود کی محفلیں اور ان کو رونق بخشنے والے جوڑے یقیناً خوش بھی ہوں گے اور شکر گزار بھی کہ ہم فقیہِ شہر کی تلقین کے مطابق وقت پر نماز پڑھ لیں اور فحش گوئی سے پرہیز کریں باقی سب ٹھیک ہے۔ گویا

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی

دورِ نبوی میں بعض جزوی واقعات، جن میں خوش الحانی سے اشعار، حدی خوانی اور نصب کا ذکر ہوا ہے، سے معروف موسیقی کے لئے جواز ڈھونڈنا ہی ہمارے نزدیک بالکل اسی طرح ہے جس طرح یہ کہا جائے کہ ربا اور بیع وشرا میں کوئی فرق نہیں، نکاح اور حلالہ میں بھی کوئی فرق نہیں، متعہ اور نکاح میں بھی کوئی فرق نہیں۔ ادارۂ اشراق لنگر لنگوٹ باندھ کر اگر اس میدان میں اترا ہے تو اسے چاہیے کہ یہ ثابت کرے کہ موسیقی مباحاتِ فطرت میں سے ہے۔ سب سے بڑھ کر فطرتِ سلیمہ پانے والے سیدِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺنے فلاں اور فلاں موقعے پر موسیقاروں کو مدعو کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی دعوتِ نظارا دی، محفل جمی، رقص کرنے والوں نے رقص پیش کیا، گلوکار اور گلوکارائیں میدان میں اترے اور انہوں نے اپنے فن کا بڑے سلیقے سے مظاہرہ کیا، آپ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دادِ تحسین پیش کی اور انہیں انعام واکرام سے نوازا۔ اگر ادارۂ اشراق اس نوعیت کی مجلسیں ثابت کر دیں تو ہم بھی اپنی فکر پر نظرِ ثانی کر کے ان کے ہمنوا بنیں گے۔ اگر ایسا نہیں اور یقیناً نہیں کر سکتے تو حدی خوانی اور خوش الحانی وغیرہ سے اشعار پڑھنے کو موسیقی، فنِ موسیقی، رقص وسرود کی محفلوں کے لئے سندِ جواز بخشنے کی جسارت سے اجتناب کریں۔