مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

منگنی سے قبل عورت کو دیکھنے کا شرعی طریقہ

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال:

کیا آدمی کے لیے اس عورت کو دیکھناجائز ہے جس سے وہ منگنی اور نکاح کرنے کا پروگرام رکھتا ہے؟

جواب:

ہاں اس کو دیکھنا جائز ہے، بشرطیکہ یہ عمل اس آدمی اور عورت کے ولی امر کے اتفاق سے ہو تو مرد اس کی ہتھیلیاں اور چہرہ دیکھ سکتا ہے، لیکن جب یہ عمل عورت کی بےخبری میں ہو تو مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ عورت کی اس چیز کو دیکھ لے جو اس کو اس کے ساتھ شادی کرنے پر آمادہ کر رہی ہے، میرا مطلب یہ ہے کہ مرد اپنے اور اس عورت کے درمیان پہلے سے طے شدہ پروگرام کے بغیر اچانک اس عورت کو دیکھے (تو وہ اپنی مرغوب چیز دیکھ سکتا ہے) لہٰذا اس معاملہ کی دو حالتیں ہیں:
1 – یا تو عورت کے ولی کی ا جازت سے قصداً دیکھا جائے تو ایسی صورت میں وہ صرف چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھ سکتا ہے۔
2 – اگر اچانک عورت کو بتائے بغیر دیکھا جائے تو وہ اس صورت میں عورت سے جو اس کو میسر آئے دیکھ سکتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ وغیرہ کی حدیث کو اس پر محمول کیا جائے گا۔
لیکن اگر مرد عورت کے ولی کے ساتھ ہو اور وہ عورت کو اس حال میں دیکھے کہ وہ اپنے گھر میں زیب و زینت کے ساتھ بے تکلف سر سے دوپٹہ اتارے ہوئے ہو تو ایسی حالت میں اس کو دیکھناجائز نہیں ہے۔
(محمد ناصر الدين الالباني رحمہ اللہ)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔