كتاب الجنائز
مریض کی عیادت کی فضیلت
① سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عائد المريض فى خرفة الجنة
”مریض کی عیادت کرنے والا جنت کی راہ (باغ) میں ہوتا ہے۔“
اور ایک روایت میں ہے:
من عاد مريضا لم يزل فى خرفة الجنة
”جو شخص مریض کی عیادت کرتا ہے وہ راہِ جنت میں ہوتا ہے۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 40/2568۔ ترمذی، کتاب الجنائز 967۔ مسند احمد، باقی مسند الانصار 283/5۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من عاد مريضا أو زار أخا له فى الله ناداه مناد: أن طبت وطاب ممشاك وتبوأت من الجنة منزلا
”جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے یا اپنے کسی دینی بھائی سے ملنے جاتا ہے تو ایک ندا کرنے والا اسے آواز دیتا ہے: تو خوش حال ہو گیا، تیرا چلنا بھی مبارک ہو اور تو نے جنت میں ایک گھر (منزل) بنا لیا۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 2008۔ ابن ماجه، كتاب ما جاء في الجنائز 1443، روایت حسن ہے ۔
③ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے روانہ ہوتے ہیں جو صبح ہونے تک اس کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ تیار کر دیا جاتا ہے۔ اور جو شخص اس کے پاس صبح کے وقت آتا ہے تو اس کے ساتھ بھی ستر ہزار فرشتے روانہ ہوتے ہیں جو شام ہونے تک اس کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ تیار کر دیا جاتا ہے۔
ابوداؤد، کتاب الجنائز 3099۔ ترمذی، کتاب الجنائز 969۔ ابن ماجه، ما جاء في الجنائز 1442، روایت صحیح ہے ۔
کفن چوری کرنے کی ممانعت
① محمد بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنی والدہ عمرہ بنت عبد اللہ رحمہا اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ:
لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم نباش القبور
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفن چوری کرنے والے پر لعنت فرمائی۔ یعنی جو قبر کھود کر کفن چوری کرتا ہے۔“
المؤطا۔
جنازے کے ساتھ جانے کا ثواب
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من اتبع جنازة مسلم إيمانا واحتسابا وكان معها حتى يصلى عليها ويفرغ من دفنها فإنه يرجع من الأجر بقيراطين كل قيراط مثل أحد ومن صلى عليها ثم رجع قبل أن تدفن فإنه يرجع بقيراط
”جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے میں شریک ہوتا ہے اور نمازِ جنازہ ہو جانے اور اس کے دفن ہونے تک ساتھ رہتا ہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹتا ہے، اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔ اور جو شخص نمازِ جنازہ پڑھ کر تدفین سے پہلے واپس آ جاتا ہے تو وہ ایک قیراط ثواب کے ساتھ لوٹتا ہے۔“
بخاري، كتاب الإيمان و كتاب الجنائز 1325، 47۔ مسلم، كتاب الجنائز 945۔ ابوداؤد، کتاب الجنائز 3198۔ ترمذي، كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 1040۔