مرزائیت، ختمِ نبوت کا انکار اور قادیانی عقائد کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مرزائیت:

میرے سامنے [کتاب ثبوت حاضر ہیں] موجود ہے۔ یہ کتاب قادیانیوں کے متعلق بہت تحقیق کے بعد لکھی گئی ہے، اس کتاب کے صفحہ (2) پر ہے:

چیلنج:

،،ثبوت حاضر ہیں،، یہ کتاب اپنے اندر قادیانی مذہب کے بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی، اس کے بیٹوں، اس کے نام نہاد خلیفوں اور دیگر قادیانیوں کی مستند تصانیف اور اخبارات و رسائل کی قابلِ اعتراض اور کفریہ عبارتوں کی عکسی نقول لیے ہوئے ہے۔ قادیانی جرائم کے یہ ثبوت اتنے واضح ہیں کہ دنیا کی کسی بھی عدالت میں ان کی عکسی دستاویزات کی صداقت کو چیلنج کرنا کسی بھی قادیانی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ہم اس کتاب میں درج تمام حوالوں اور عکسی نقول کی صداقت کی ذمہ داری کو قبول کرتے ہیں اور قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد سمیت دنیا کے تمام قادیانیوں (بشمول لاہوری گروپ) کو چیلنج کرتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں موجود کوئی بھی عکس غیر حقیقی ہو یا ایک بھی حوالہ من گھڑت پایا جائے تو ہم اس کے لیے ہر قسم کی سزا پانے کے لیے تیار ہیں، بصورتِ دیگر انھیں ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر آخرت کی فکر کرتے ہوئے اسلام کی آغوش میں آ جانا چاہیے۔ ہے کسی قادیانی میں اتنی جرات جو ہمارے اس چیلنج کو قبول کرے؟

اس کتاب کے چند مندرجات درج ذیل ہیں:

وحی بند ہے:

[1] قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو، کیونکہ رسول کو علمِ دین بتوسطِ جبرائیل ملتا ہے اور بابِ نزولِ جبرائیل بہ پیرایہ وحیِ رسالت مسدود ہے۔ (ازالہ اوہام: 411۔ روحانی خزائن: 511/3 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[2] یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل (علیہ السلام) کی وحیِ رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ، گو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو، پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔

 فتدبر۔(ازالہ اوہام:314)،(روحانی خزائن:414/3 از مرزا غلام احمد قادیانی)

ختم نبوت پر ایمان اور اصرار:

[3] [مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ] [الاحزاب:40]

یعنی محمد (ﷺ) تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ اللہ کا رسول ﷺ اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔

یہ بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔

(ازالہ اوہام:331)،(روحانی خزائن:431/3 از مرزا غلام احمد قادیانی)

اجماعی عقیدہ کا منکر لعنتی ہے:

میرا اعتقاد یہ ہے کہ میرا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں اور میں کوئی کتاب بجز قرآن کے نہیں رکھتا اور میرا کوئی پیغمبر بجز محمد مصطفیٰﷺ کے نہیں جس پر خدا نے بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل کی ہیں اور اس کے دشمنوں پر لعنت بھیجی ہے۔ گواہ رہو کہ میرا تمسک قرآن شریف ہے اور رسول اللہﷺ کی حدیث جو چشمۂ حق و معرفت ہے، میں پیروی کرتا ہوں اور تمام باتوں کو قبول کرتا ہوں جو کہ اس خیرالقرون باجماع صحابہ صحیح قرار پائی ہیں، نہ ان پر کوئی اضافہ کرتا ہوں۔ اور نہ ان میں کوئی کمی اور اسی اعتقاد پر میں زندہ رہوں گا اور اسی پر میرا خاتمہ اور انجام ہوگا اور جو شخص ذرہ بھر بھی شریعتِ محمدیہ میں کمی بیشی کرے یا کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے، اس پر خدا اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔

 (انجام آتھم:ص 143-144)،(روحانی خزائن:143/11، 144 از مرزا غلام احمد قادیانی)

نبوت جاری ہے:

[1] میرے پاس آئیل آیا:

میرے پاس جبرائیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ اللہ کا وعدہ آگیا۔ اس جگہ ،،آئیل،، اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے، اس لیے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔

(حقیقۃ الوحی:ص 103)،(روحانی خزائن: 106/22 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[2] اللہ تعالیٰ کی وحی:

میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا۔ اور یہ دعوٰی امتِ محمدیہ میں سے آج تک کسی اور نے ہرگز نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں۔

(حقیقۃ الوحی:ص 387)،(روحانی خزائن، نمبر 22: ص503 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[3] خدا نے میرا نام نبی رکھا:

اور میں اس اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔

(حقیقۃ الوحی:ص 387)،(روحانی خزائن:503/22 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[4] ختمِ نبوت ایک باطل عقیدہ اور اسلام شیطانی مذہب:

یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد رسول اللہﷺ کے وحیِ الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں، صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہِ راست اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی پتا نہیں لگتا۔ جو کچھ ہیں، قصے ہیں اور کوئی اگرچہ اس کی راہ میں اپنی جان بھی فدا کرے، اس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اس کو اختیار کر لے، تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات اور مخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔

میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہو گا۔ (دریں چہ شک۔ ناقل) میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور اندھا رکھتا ہے اور اندھا ہی مارتا اور اندھا ہی قبر میں لے جاتا ہے۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ:184/5)،(روحانی خزائن:354/21 از مرزا غلام احمد قادیانی)

اللہ تعالیٰ کی توہین:

[1] اللہ کی زبان پر مرض:

کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں اللہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں، پھر بعد اس کے یہ سوال ہو گا کہ کیوں نہیں بولتا، کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہو گئی ہے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ:144/5)،(مندرجہ روحانی خزائن:312/21 از مرزا قادیانی)

[2] اللہ اور چور:

وہ اللہ جس کے قبضہ میں ذرہ ذرہ ہے، اس سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔

(تجلیات الٰہیہ:4)،(روحانی خزائن:396/20 از مرزا قادیانی)

[3] قادیان میں خدا:

ایک بار مجھے یہ الہام ہوا تھا کہ خدا قادیان میں نازل ہو گا، اپنے وعدہ کے موافق۔

 (تذکرہ مجموعہ الہامات:452 طبع دوم از مرزا غلام احمد قادیانی) 

[4] سچا خدا:

سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔

(دافع البلاء:ص 11، مندرجہ روحانی خزائن: 231/18 از مرزا غلام احمد قادیانی) اس کا مطلب یہ ہوا کہ سچے خدا کی نشانی صرف یہ ہے کہ اس نے مرزا قادیانی کو قادیان میں رسول بنا کر بھیجا ہے اور اگر مرزا قادیانی رسول نہیں ہے تو پھر خدا کی سچائی مشکوک ہے۔ (نعوذ باللہ!)

[5] میں خود خدا ہوں:

[و رأيتنی فی المنام عين الله و تيقنت أننی هو] میں (مرزا غلام احمد قادیانی) نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں، میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔ (آئینہ کمالات اسلام: 564)،(مندرجہ روحانی خزائن:564/5 از مرزا قادیانی) میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔ (کتاب البریہ: 85)،(مندرجہ روحانی خزائن:103/13 از مرزا قادیانی)

رسول اللہ ﷺ کی توہین

[1] قادیانی محمد رسول اللہ:

پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے: [مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕوَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ] [الفتح:29]

اس وحیِ الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔

 (ایک غلطی کا ازالہ: 4)،(مندرجہ روحانی خزائن:207/18 از مرزا غلام احمد قادیانی)

خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔

(حقیقۃ الوحی: تتمہ، ص67)،(مندرجہ روحانی خزائن:502/22 از مرزا قادیانی)

[2] مرزا قادیانی خاتم النبیین:

میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت: [وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْؕ] بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد (ﷺ) اور احمد (ﷺ) رکھا ہے۔ مجھے رسول اللہ (ﷺ) کا ہی وجود قرار دیا ہے، پس اس طور سے رسول اللہ (ﷺ) کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔

 (ایک غلطی کا ازالہ:10)،(مندرجہ روحانی خزائن:212/18 از مرزا قادیانی)

مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔

(کشتی نوح: 56)،(مندرجہ روحانی خزائن:61/19 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[3] مرزا قادیانی تمام نبیوں کا مجموعہ:

میں آدم(علیہ السلام) ہوں، میں نوح(علیہ السلام) ہوں، میں ابراہیم(علیہ السلام) ہوں، میں اسحاق(علیہ السلام) ہوں، میں یعقوب(علیہ السلام) ہوں، میں اسماعیل(علیہ السلام) ہوں، میں موسیٰ(علیہ السلام) ہوں، میں داؤد(علیہ السلام) ہوں، میں عیسیٰ(علیہ السلام) ابن مریم ہوں، میں محمد (ﷺ) ہوں۔

[تتمہ حقیقتہ الوحی: 521)،(مندرجہ روحانی خزائن:521/22 از مرزا غلام احمد قادیانی]

[4] قادیان میں محمد رسول اللہ:

اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور نبی کریم ﷺ میں کوئی دوئی باقی نہیں کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں، جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ [صار وجودی وجودہ] (دیکھو خطبہ الہامیہ:171) اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) میری قبر میں دفن کیا جائے گا جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا، تاکہ اشاعتِ اسلام کا کام پورا کرے اور: [ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰۦ وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ] کے فرمان کے مطابق تمام ادیانِ باطلہ پر اتمامِ حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچا دے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد (ﷺ) کو اتارا، تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے [وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ]میں فرمایا تھا۔

 (کلمتہ الفصل: 105 از مرزا بشیر احمد ایم اے، ابن مرزا غلام احمد قادیانی)

[5] محمد رسول اللہ کے تمام کمالات مرزا غلام احمد قادیانی میں:

ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے، کسی کو بہت کسی کو کم، مگر مسیح موعود (علیہ السلام) کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوتِ محمدیہ کے مسیح موعود (علیہ السلام) کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم (ﷺ) کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔

 (کلمتہ الفصل: 113، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی)

[6] قادیانی کلمہ:

ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: [صار وجودی وجودہ” نیز "من فرق بيني و بين المصطفٰی فما عرفنی و ما راٰی]: اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت: [وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ] سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود (علیہ السلام) خود محمد رسول اللہ (ﷺ) ہے جو اشاعتِ اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔

(کلمتہ الفصل: 158، از مرزا بشیر احمد ایم اے، ابن مرزا غلام احمد قادیانی)

[7] افضلیتِ مرزا:

اس (نبی کریم ﷺ) کے لیے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔

(اعجازِ احمدی:71)،(مندرجہ روحانی خزائن: 183/19 از مرزا قادیانی)

[8] مرزا قادیانی پر درود:

(صلى اللٰه عليك وعلٰی محمد)

(تذکرہ مجموعہ الہامات ص 794، طبع دوم از مرزا غلام احمد قادیانی)

(يصلون عليك صلحاء العرب و ابدال الشام و نصلی عليك الارض و السماء و يحمدك اللٰه من عرشہٖ) تجھ پر عرب کے صلحاء اور شام کے ابدال درود بھیجیں گے، زمین و آسمان تجھ پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ (تذکرہ مجموعہ الہامات: 168، طبع دوم از مرزا غلام احمد قادیانی)

انبیاءِ کرام علیہم السلام کی توہین:

[1] سیدنا نوح (علیہ السلام) پر فضیلت:

خدا تعالیٰ میرے لیے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔

(تتمہ حقیقتہ الوحی: 137)،(مندرجہ روحانی خزائن: 575/22 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[2] سیدنا یوسف (علیہ السلام) پر فضیلت:

پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (مرزا قادیانی) اسرائیلی یوسف (علیہ السلام) سے بڑھ کرہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔

(براہین احمدیہ: 99/5)،(مندرجہ روحانی خزائن:99/21 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[3] سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پر فضیلت:

اور یہ جو فرمایا:[وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی] [البقرۃ: 125] یہ قرآن شریف کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم (مرزا غلام احمد قادیانی) جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجا لاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔

(اربعین: 38/3 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[4] سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی توہین:

[1] سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) گالیاں دیتے تھے:

آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے، یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔

(حاشیہ انجام آتھم: 5)،(مندرجہ روحانی خزائن: 289/11 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[2] سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے انجیل چرا کر لکھی:

نهایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے، یہودیوں کی کتاب تالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔

(حاشیہ انجام آتھم: 6)،(مندرجہ روحانی خزائن:290/11 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[3] سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا کوئی معجزہ نہیں:

عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا، اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔

(حاشیہ انجام آتھم: 6)،(مندرجہ روحانی خزائن:290/11 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[4] سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کی حقیقت:

سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے، یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو کیونکہ مسیح ابنِ مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے اور جیسے انسان میں قوٰی موجود ہوں انھیں کے موافق اعجاز کے طور پر بھی مدد ملتی ہے۔

(ازالہ اوہام: 154۔155)،(مندرجہ روحانی خزائن:254/3، 255 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[5] سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) شراب پیتے تھے (نعوذ باللہ):

یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) شراب پیا کرتے تھے، شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔

(کشتی نوح حاشیہ:73)،(مندرجہ روحانی خزائن:71/19از مرزا غلام احمد قادیانی)

تبصرہ:

مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ خود شراب پیتا تھا اس لیے اس نے اپنے لیے جواز پیدا کرنے کے لیے عیسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگا دیا۔

[6] سیدہ مریم (علیہا السلام) کا نکاح:

اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگانِ قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعداد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی یعنی با وجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں، اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ کہ قابل اعتراض۔

(کشتی نوح: 20)،(مندرجہ روحانی خزائن: 19/18 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[7] سیدہ مریم صدیقہ (علیہا السلام) کا اپنے منسوب سے نکاح سے پہلے تعلق:

پانچواں قرینہ ان کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں۔ مثلاً ان کے بعض قبائل ناتا اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلا تکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ مریم صدیقہ (علیہا السلام) کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے مگر خواتینِ سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے، جس کو برا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناتا کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔

(ایام الصلح: 74)،(مندرجہ روحانی خزائن:300/14 از مرزا غلام احمد قادیانی)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین:

[1] سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی توہین:

میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابنِ سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے درجہ پر ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کیا، وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔

(مجموعہ اشتہارات: 278/3 از مرزا غلام احمد قادیانی)

[2] سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی توہین:

ابوبکر و عمر کیا تھے وہ تو غلام احمد (قادیانی) کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔

(ماہنامہ المہدی بابت جنوری، فروری 1915ء۔2/3 ص57، احمدیہ انجمن اشاعتِ اسلام)

[3] مولوی (حکیم) نور الدین، ابوبکر (رضی اللہ عنہ) ہے: (نعوذباللہ)

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت صاحب آخری سفر میں لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان سے کہا کہ مجھے ایک کام درپیش ہے، دعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔ مبارکہ بیگم نے خواب دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نور الدین صاحب کتاب لیے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں۔ کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابوبکر ہوں، اور دوسرے دن صبح مبارکہ بیگم سے حضرت صاحب نے پوچھا کہ کیا کوئی خواب دیکھا ہے۔ مبارکہ بیگم نے یہ خواب سنائی تو حضرت صاحب نے فرمایا: یہ خواب اپنی اماں کو نہ سنانا۔ مبارکہ بیگم کہتی ہیں کہ اس وقت میں نہیں سمجھتی تھی کہ اس سے کیا مراد ہے۔

(سیرت المہدی: 37/3 از مرزا بشیر احمد ایم اے) 

[4] زندہ علی، مردہ علی:

پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو، اب نئی خلافت لو، ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔

(ملفوظات احمدیہ:400/1، از مرزا غلام احمد قادیانی)

[5] سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی توہین:

اور انھوں نے کہا کہ اس شخص (مرزا قادیانی) نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا، میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔ (اعجازِ احمدی: 52، مندرجہ روحانی خزائن:64/19، از مرزا غلام احمد قادیانی)

[6] کربلا کی سیر:

کربلائے است سیر ہر آنم

صد حسین است در گریبانم

میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے سو (100) حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں۔

(نزول المسیح:99)،(مندرجہ روحانی خزائن: 477/18، از مرزا قادیانی)

[7] سو حسین قربانی، مرزا قادیانی کی ایک گھڑی کے برابر:

شہادت کا یہی مفہوم ہے جس کو مدنظر رکھ کر مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا:

کربلائے است سیر ہر آنم

صد حسین است در گریبانم

میرے گریبان میں سو حسین (رضی اللہ عنہ) ہیں، لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں۔ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا ہے۔ میں سو حسین کے برابر ہوں، لیکن میں کہتا ہوں اس سے بڑھ کر اس کا یہ مفہوم ہے کہ سو حسین (رضی اللہ عنہ) کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کے فکروں میں گھلا جاتا ہے، جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے جب کہ ہر طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور اسلام کا نام مٹ رہا ہے، وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہو، اسلام کو قائم کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو حسین (رضی اللہ عنہ) کے برابر نہ تھی۔ پس یہ تو ادنیٰ سوال ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے برابر تھے یا ادنیٰ، امام حسین (رضی اللہ عنہ) ولی تھے مگر ان کو وہ غم اور صدمہ کس طرح پہنچ سکتا تھا جو اسلام کو مٹتا دیکھ کر حضرت مسیح موعود کو ہوا۔ حسین (رضی اللہ عنہ) اس وقت ہوئے جب کہ لاکھوں اولیاء موجود تھے، اسلام اپنی شان و شوکت میں تھا، ایسی حالت میں ان کو وہ غم کہاں ہو سکتا تھا جو اس شخص کو ہوا جو ایسے ہی حالات میں مبعوث ہوا جن حالات میں خود محمد (ﷺ) کی بعثت ہوئی تھی۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی شہادت رسولِ کریم ﷺ کی شہادت سے بڑی تھی۔ نہیں۔ اس لیے کہ جو غم اور تکلیف آپ کو اسلام کے لیے اٹھانی پڑی، وہ امام حسین (رضی اللہ عنہ) کو نہیں اٹھانی پڑی، اسی طرح مسیح موعود کی شہادت بھی بہت بڑھی ہوئی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے گھر پر بیٹھے رہے پھر کس طرح امام حسین سے بڑھ گئے۔ میں کہتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اسی طرح فوت ہوئے جس طرح امام حسین (رضی اللہ عنہ) فوت ہوئے تھے؟ نہیں۔ مگر کوئی ہے جو کہے محمد (ﷺ) کی قربانی حضرت امام حسین کی قربانی سے کم تھی۔ محمد (ﷺ) کی ایک ایک سیکنڈ کی قربانی امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی ساری عمر کی قربانی سے بڑھ کر تھی۔ پس جس طرح محمد (ﷺ) کی قربانی بڑی تھی اسی طرح وہ شخص جو انہی حالات میں کھڑا ہو گا جن میں محمد (ﷺ) کھڑے ہوئے اس کی قربانی بھی بہت بڑھ کر ہو گی۔ اسی لیے مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کہا ہے:

کربلائے است سیر ہر آنم

صد حسین است در گریبانم

کہ مجھ پر تو ہر لمحہ سو کربلا مصیبتیں گزرتی ہیں اور میں تو ہر گھڑی کربلا کی سیر کر رہا ہوں۔

(خطبہ مرزا بشیر الدین محمود، روزنامہ الفضل قادیان: ش80/13، 26جنوری 1926ء)

[8] گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے:

ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔

(ست بچن:ص 21)،(مندرجہ روحانی خزائن: 133/10، از مرزا غلام احمد قادیانی)

[9] بد زبان بدتر ہے:

بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زبان ہے، جس دل میں یہ نجاست، بیت الخلاء یہی ہے۔

(قادیان کے آریہ اور ہم:42)،(مندرجہ روحانی خزائن: 458/20، از مرزا غلام احمد قادیانی)

مسلمانوں کو گالیاں اور کفر کا فتویٰ

[1] ولد الحرام:

اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔

(انوار الاسلام: 30)،(مندرجہ روحانی خزائن: 31/9، از مرزا غلام احمد قادیانی)

[2] عیسائی، یہودی، مشرک:

جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔

(نزول المسیح (حاشیہ) ص 4)،(مندرجہ روحانی خزائن: 382/18، از مرزا غلام احمد قادیانی)

[3] بدکار عورتوں کی اولاد:

میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔

(آئینہ کمالات اسلام: 547، 548)،(مندرجہ روحانی خزائن: 547/5، 548، از مرزا غلام احمد قادیانی)

اصل عبارت عربی میں ہے، اس کا ترجمہ ہم نے لکھا ہے، مرزا کے الفاظ یہ ہیں: ،،الذریۃ البغایا،، عربی کا لفظ ،،الغایا،، جمع کا صیغہ ہے۔ واحد اس کا ،،بغیہ،، ہے جس کا معنی بدکار، فاحشہ، زانیہ ہے۔ خود مرزا نے خطبہ الہامیہ (ص 49، مندرجہ روحانی خزائن: 16) میں لفظ ،،بغایا،، کا ترجمہ بازاری عورتیں کیا ہے اور ایسے ہی (انجام آتھم: ص 282)،(مندرجہ روحانی خزائن:11)،(نور الحق:123/1)،(مندرجہ روحانی خزائن:163/8) میں لفظ ،،بغایا،، کا ترجمہ نسلِ بدکاران، زنا کار، زنِ بدکار وغیرہ لکھا ہے،کیا ہے۔

[4] مرد خنزیر، عورتیں کتیاں:

دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔

(نجم الہدٰی:53)،(مندرجہ روحانی خزائن: 53/14، از مرزا غلام احمد قادیانی)

[5] مرزا کو نہ ماننے والا پکا کافر:

ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ (علیہ السلام) کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہیں مانتا یا عیسیٰ (علیہ السلام) کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا اور یا محمد (ﷺ) کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

(کلمتہ الفصل:110، از مرزا بشیر احمد ایم اے، ابن مرزا قادیانی)

[6] جہنمی:

اور مجھے بشارت دی ہے کہ جس نے تجھے شناخت کرنے کے بعد تیری دشمنی اور تیری مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے۔

(تذکرہ مجموعہ الہامات:168/2 از مرزا غلام احمد قادیانی)

خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔

(تذکرہ مجموعہ الہامات:600، طبع دوم از مرزا غلام احمد قادیانی)

مسلمانوں سے معاشرتی بائیکاٹ

[1] مسلمانوں سے تعلقات حرام:

ہم تو دیکھتے ہیں کہ مسیح موعود (علیہ السلام) نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں: ایک دینی، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناتا ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگریہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم ﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔

(کلمتہ الفصل:169، 170،از مرزا بشیر احمد ایم اے، ابن مرزا قادیانی)

[2] مسلمانوں کے پیچھے نماز قطعی حرام:

خدا نے مجھے اطلاع دی ہے، تمھارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہیے کہ تمھارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔

(تذکرہ مجموعہ الہامات:401/2 از مرزا غلام احمد قادیانی)

اگر آپ قادیانیوں کے بارے میں مکمل تحقیق اور آگاہی چاہتے ہیں تو کتاب ،،ثبوت حاضر ہیں،، کا مطالعہ کیجیے، یہ کتاب محمد متین خالد نے لکھی ہے۔