سوال:
ایک شخص نے مذاق میں اپنی بیوی سے کہہ دیا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، تو کیا ایسی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ کتاب و سنت کی رو سے واضح کریں۔
جواب:
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مرد اور بیوی کا رشتہ جو قائم کیا ہے، اس میں مودت و رحمت ہے اور یہ رشتہ ایک دوسرے کے لیے سکون و اطمینان کا باعث ہے، لیکن بعض اوقات اس رشتے کو شیطانی وساوس، باہمی اختلاف و تنازع اور روز مرہ کی لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے نقصان پہنچ جاتا ہے۔ شیطان کے اکسانے پر مرد اپنی بیوی کو طلاق دے بیٹھتا ہے، یا بعض اوقات مذاق یا ڈرامائی انداز میں لوگ طلاق کا کلمہ کہہ دیتے ہیں۔ ان ہر دو صورتوں میں طلاق کا وقوع ہو جاتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة
أبو داود، كتاب الطلاق، باب في الطلاق على الهزل (2194)، ترمذي (1184)، المستدرك للحاكم (198/2، 197، ح: 2800)
”تین کام ایسے ہیں جن کی سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور مذاق بھی سنجیدگی ہے اور وہ ہیں نکاح، طلاق اور رجوع۔“
اس صحیح حدیث سے واضح ہو گیا کہ قصداً اور مذاق کی دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا طلاق کے الفاظ بولنے سے ہر صورت اجتناب کیا جائے۔