سوال :
آج کل جو اکثر نوجوان لڑکیاں اور لڑکے ناخن بڑھا لیتے ہیں۔ کیا اس کی کوئی شرعی حیثیت ہے؟
جواب :
ناخن تراشنا فطرت میں سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
پانچ اشیاء فطرت میں سے ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف بال مونڈنا، مونچھیں تراشنا، ناخن تراشنا اور بغلوں کے بال اکھیڑنا۔
(بخاري کتاب الإستئذان باب الختان بعد الكبر ونتف الإبط ح 6297)
اور مسلم (261) کی ایک حدیث میں دس چیزیں فطرت میں سے بیان کی گئی ہیں، جن میں سے ایک ناخن تراشنا بھی ہے اور مسلم ہی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھیں تراشنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لیے چالیس دن کی مدت مقرر کر دی ہے، یعنی چالیس دن سے زائد ان امور کو بڑھانا جائز نہیں ہے۔ جس مرد یا عورت نے چالیس دنوں سے زائد ناخن رکھے اس نے امور فطرت میں سے ایک امر کی مخالفت کی ہے، یہ آخری حد ہے، اس سے اوپر جانا کسی طرح بھی جائز نہیں، بلکہ ایک صاف ستھرے طہارت پسند مسلم کو چاہیے کہ وہ جیسے ہی ناخن یا ذکر کردہ بال بڑھیں، انھیں صاف کر دے۔ ناخنوں کے بڑھنے کے ساتھ ان میں میل کچیل جمع ہونے سے گندگی پھیلتی ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ کفار کے عمل سے مشابہت کرنے سے بھی اجتناب کا حکم ہے اور اکثر غیر مسلم خواتین کو دیکھ کر مسلم خواتین یہ عمل کرتی ہیں اور ان کی نقالی میں شریعت کی مخالفت کر رہی ہیں۔ مغربی میڈیا اپنی تہذیب و ثقافت کو امت مسلمہ میں داخل کرنے کے لیے جو دن رات کوشش کر رہا ہے، یہ فتنہ اس کی علامت ہے کہ ڈرائیور حضرات، ٹیچرز اور اکثر بے راہ روی کے شکار مرد و زن اس برے عمل میں ملوث ہیں۔ ہر مسلم کو ان تمام امور سے بچنا چاہیے جو شریعت کے خلاف ہوں۔ مختصر یہ کہ ناخن بڑھانا کسی طرح بھی جائز و درست نہیں۔