قیامت کی نشانی : امانت مفقود اور خیانت بھرپور ہوگی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : امانت مفقود اور خیانت بھرپور ہوگی

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال : بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس يحدث القوم فى مجلسه حديثا ، جاء أعرابي فقال : يا رسول الله ! متى الساعة ؟ قال : إذا ضيعت الأمانة فانتظر الساعة ، قال : يا رسول الله كيف ؟ قال : إذا ولي الأمر لغير أهله فانتظر الساعة
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مجلس میں لوگوں سے محو گفتگو تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔“ اس نے کہا: امانت کا ضیاع کیسے ہوگا؟ فرمایا: ”جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کے منتظر رہو۔“
بخاری : کتاب الرقاق : باب رفع الأمانة (6496) احمد (375/2)
عن حذيفة رضى الله عنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثين رأيت أحدهما وأنا أنتظر الآخر حدثنا أن الأمانة نزلت فى جذر قلوب الرجال ثم علموا من القرآن ثم علموا من السنة ، وحدثنا عن رفعها قال : ينام الرجل النومة فتقبض الأمانة من قلبه فيظل أثرها مثل أثر الوكت ثم ينام النومة فتقبض فيظل أثرها مثل المجل كحمرة دحرجتها على رجلك فنفطت فتراها منتبرة وليس فيها شيء فيصبح الناس يتبايعون فلا يكاد أحدهم يؤدي الأمانة فيقال : إن فى بني فلان رجلا أمينا ويقال للرجل : ما أعقله وما أظرفه وما أحلمه ، وما فى قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان ، ولقد أتى على زمان وما أبالي أيكم بايعت لئن كان مسلما رده على الإسلام وإن كان نصرانيا رده على ساعيه ، فأما اليوم فما كنت أبايع إلا فلانا وفلانا
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو حدیثیں بیان فرمائیں جن میں سے ایک کا ظہور تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: کہ امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اترتی ہے پھر قرآن مجید اور حدیث شریف سے اس کی مضبوطی ہو جاتی ہے۔ اور آپ نے (دوسری حدیث میں) امانت کے اٹھ جانے کے متعلق فرمایا کہ: آدمی ایک مرتبہ سوئے گا اور (اس میں) امانت اس کے دل سے ختم ہو جائے گی اور اس بے ایمانی کا ہلکا سا داغ پڑ جائے گا۔ پھر ایک مرتبہ سوئے گا تو وہ داغ چھالے کی طرح ہو جائے گا جس طرح تم پاؤں پر انگارا پھینکو تو اس نے ایک پھولا ہوا چھالہ سا نکل آتا ہے جو اندر سے خالی ہوتا ہے۔ پھر یہ حال ہوگا کہ لوگ خرید و فروخت کریں گے اور کوئی شخص امانت دار نہیں ہوگا۔ کہا جائے گا کہ فلاں لوگوں میں ایک امانت دار شخص ہے۔ اس کے متعلق یہ بھی کہا جائے گا کہ وہ کتنا عقلمند، بلند حوصلہ اور بردبار ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان (امانت) نہیں ہوگا۔ (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ) میں نے ایک ایسا وقت بھی دیکھا ہے کہ میں خرید و فروخت بلا خوف و خطر کیا کرتا تھا اگر وہ (تاجر) مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے (بے ایمانی سے) روکتا اور اگر وہ عیسائی ہوتا تو ان کا مددگار اسے روکتا تھا لیکن اب (بے ایمانی کے بڑھ جانے کی وجہ سے) میں فلاں اور فلاں کے سوا کسی سے خرید و فروخت ہی نہیں کرتا۔
بخاری : ایضا (6497 – 7086) مسلم (143) ترمذی (2179) ابن ماجہ (4053) احمد (476/5) حمیدی (446)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی سی ہے کہ سو (100) میں سے ایک بھی (تیز) سواری کے قابل نہیں۔
بخاري : كتاب الرقاق : باب رفح الامانة : 6498
حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نیک لوگ یکے بعد دیگرے رخصت ہوتے جائیں گے اور فضول لوگ باقی رہ جائیں گے جس طرح جو کا بھوسہ اور کھجور کی کھجور باقی رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان (فضول لوگوں) کی کچھ پرواہ نہیں کریں گے۔“
بخاری (6434)
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم ملا کر فرمایا کہ اس طرح ان کے وعدے اور امانتیں خلط ملط ہو کر رہ جائیں گی۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) صحابی نے پوچھا: یا رسول اللہ! پھر میں کیا کرنا چاہیے؟ فرمایا: ”تم اللہ سے ڈرو، نیکی کا کام کرو، برائی سے دور رہو اور لوگوں کو چھوڑ کر بالخصوص اپنی فکر کرو۔“
احمد (216/2) ابو داؤد : کتاب الملاحم : باب الأمر والنهي (4335) ابن ماجہ (4005) حاکم (481/4) الترغیب (124/1) مشکل الآثار (219/3)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ بے حیائی عام ہو جائے گی، قطع رحمی پھیل جائے گی، جسے برے ہوں گے، خائن کو امانت دار سمجھا جائے گا اور امانت دار خیانت کرنے لگے گا۔“
احمد (217/2 – 263) حاکم (559/4) مجمع الزوائد (632/7) بزار (3409) عبد الرزاق(404/11) وسندہ صحیح
فوائد :
(1) امانت داری کا خاتمہ قیامت کی ایک نشانی ہے جس کا ظہور عرصہ دراز سے ہو چکا ہے جو بتدریج بڑھتے ہوئے قیامت پر منتج ہوگا۔
(2) امانت داری رفتہ رفتہ کم ہوتی ہے اور اس کی جگہ خیانت رفتہ رفتہ بڑھتی جاتی ہے۔
(3) حکومت، امارت و خلافت، انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ بلکہ ہر ذمہ داری پر غیر ذمہ دار (Unworthy) کو فائز کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
(4) جب اونچی جگہ سے خیانت کا سیلاب بہنا شروع ہو جائے تو اس سے نیچے سطح کا محفوظ رہنا بعید از قیاس ہے۔
(5) خیر القرون سے ہی یہ سیلاب بہنا شروع ہو چکا تھا، بنو امیہ اور بنو عباسیہ کے مابین حصول قیادت پر لڑائیاں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
(6) امانت داری مفقود ہوتے ہوتے خیانت داری پھیل جائے گی حتی کہ ہر طرف چور، ڈاکو، کمینے، لالچی قسم کے لوگ عام ہوں گے اور انہی لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔
(7) موجودہ جمہوری دور میں ہر خائن و بدکردار (Worse) سیادت و قیادت اور عہدے کا طالب ہے حالانکہ عہدہ ایک ذمہ داری (Responsibility) اور امانت ہے جس کا حقدار صرف اور صرف وہ نیک اور امانتدار شخص ہے جسے ہر وقت اللہ کے حضور جواب دہی کا احساس موجزن رہے۔ علاوہ ازیں وہ کسی عہدے کا طالب و متمنی ہرگز نہ ہو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
”إنا والله لا نولي على هذا العمل أحدا سأله ولا أحدا حرص عليه ، وفي رواية ، من أراده“
”اللہ کی قسم! ہم ہرگز کسی ایسے شخص کو ذمہ داری نہیں سونپتے جو اس کا طالب یا حریص ہو۔“
بخاری کتاب الأحکام : باب ما يكره من الحرص على الإمارة (7149) مسلم (1733)
ایک روایت میں ہے کہ ”جو اس کا ارادہ رکھتا ہو۔“
جبکہ موجودہ سیاسی نظام اسلامی سیاست (Islamic Politics) کے بالکل برعکس و متضاد ہے۔