مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قرض کو زکوٰۃ میں شمار کرنے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

قرض دار کی تنگدستی کی وجہ سے قرض کو زکوۃ سمجھ لینے کا حکم
یہ جائز نہیں کہ انسان فقیر سے قرض ساقط کر کے اسے زکاۃ میں شمار کر لے کیونکہ فرمان خداوندی ہے:
«وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ» [البقرة: 267]
”اور اس میں گندی چیز کا ارادہ نہ کرو، جسے تم خرچ کرتے ہو، حالانکہ تم اسے کسی صورت لینے والے نہیں، مگر یہ کہ اس کے بارے میں آنکھیں بند کر لو۔“
ایسے ہی میت کا قرض بھی زکاۃ سے ادا کرنا جائز نہیں۔
[ابن عثيمين: لقاء الباب المفتوح: 17/188]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔