مضمون کے اہم نکات
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ الحرانی
شجرہ نسب :
تقی الدین ابوالعباس احمد بن شہاب الدین ابوالمحاسن عبد الحلیم بن محمد الدین ابوالبرکات عبد السلام بن ابو محمد عبد اللہ بن القاسم الخضر بن علی بن عبد اللہ۔ یہ خاندان خاندان ابن تیمیہ کے نام سے مشہور ہے۔
وجہ تسمیہ :
امام صاحب رحمہ اللہ کی دادی بہت بڑی واعظہ تھیں۔ ان کا نام تیمیہ تھا۔ اسی مناسبت سے اس خاندان کا نام خاندان تیمیہ پڑ گیا۔
ولادت :
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ولادت 10 ربیع الاول کو حران نامی بستی میں ہوئی۔
ابتدائی حالات :
چھ سال کی عمر تک امام صاحب اس حران بستی میں مقیم رہے۔ ابھی عمر کے ساتویں سال میں تھے کہ تاتاریوں نے اس بستی پر غارت گری کی۔ ان کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر یہاں کے باشندوں نے سکونت ترک کر کے ادھر ادھر پناہ لینا شروع کی۔ خاندان ابن تیمیہ کے کچھ لوگ ہجرت کر کے دمشق کی طرف بڑھے لیکن راستہ انتہائی پرخطر تھا۔ نہ امن میسر تھا نہ سکون۔ اس ذہنی پریشانی کے ساتھ راستہ کی دشوار گزاری اور زیادہ تکلیف کا باعث تھی، رات کی تاریکیوں میں سفر جاری رکھنے والے یہ لوگ ایک خانوادۂ علم کے افراد تھے۔ ہر آن یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں دشمن سر پر نہ پہنچ جائے لیکن اللہ نے دستگیری فرمائی اور قافلہ ظالموں اور سفاکوں سے بچتا بچاتا منزل مقصود تک پہنچ گیا۔
تعلیم و تربیت :
چونکہ امام تقی الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا خاندان علم میں ایک ممتاز مقام رکھتا تھا اور اسی علمی گہوارہ میں آپ نے آنکھ کھولی۔ اس لیے بچپن ہی سے علم کی طرف راغب ہو گئے۔ چھوٹی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔ شوق تلاوت کا یہ عالم تھا کہ جیل کی زندگی میں 80 سے زیادہ قرآن مجید ختم کئے۔ قرآن مجید حفظ کر لینے کے بعد حدیث اور لغت کی طرف متوجہ ہوئے، احکام فقہ کی معرفت حاصل کی اور ان کا بڑا حصہ ازبر کر لیا۔ امام صاحب کے والد شیخ الحدیث کے مقام پر فائز تھے۔ چنانچہ امام صاحب نے صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند امام احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن دارقطنی کی بار بار سماعت کی۔ حدیث میں سب سے پہلے جو کتاب امام صاحب نے حفظ کی وہ امام حمیدی کی کتاب الجمع بين الصحيحين ہے۔ امام صاحب رحمہ اللہ کے بعض معاصرین کا بیان ہے کہ آپ نے جن شیوخ سے سماعت کی ان کی تعداد 200 سے متجاوز ہے۔ حدیث کے ساتھ ساتھ دوسرے علوم و فنون کے حصول پر بھی توجہ مبذول فرمائی۔ چنانچہ علوم ریاضی میں خاصی دسترس حاصل کی۔ علوم عربیہ کی طرف خاص طور پر زیادہ توجہ کی۔ یہ علوم تو اس طرح حاصل کئے جیسے یہی ان کا منشا اور مقصد تھا۔ چنانچہ عربی زبان کا بہت سا کلام نظم اور نثر زبانی حفظ کر لیا، جنگ و پیکار کی تاریخ پر عبور حاصل کیا، مسلمانوں کے عہد زریں کے حالات و کوائف کا خوب اچھی طرح مطالعہ کیا، عروج و زوال کی داستانیں پڑھیں اور ان کے اسباب و علل کو گہری نظر سے دیکھا۔
ان کو علم نحو میں بھی خصوصی دسترس حاصل تھی ۔ کتاب ”سیبویہ“ آپ کو زبانی یاد تھی۔ ان علوم و فنون کے ساتھ فقہ حنبلی کا درس بھی جاری تھا۔ ایک طرف تو یہ کیفیت تھی کہ امام صاحب علوم و فنون میں غیر معمولی طور پر منہمک تھے اور دوسری طرف یہ عالم تھا کہ دل و جان سے تفسیر قرآن کے اسرار و رموز کی گرہ کشائی میں لگے ہوئے تھے۔ قرآن فہمی کے لیے تمام متعلقہ علوم و کتب کو کھنگال ڈالا ایک ایک حرف کا پوری توجہ سے مطالعہ کیا۔
امام صاحب کی ہمہ گیر شخصیت :
مختصر یہ کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے ذہن و دماغ کی تربیت بہت عمدہ طور پر کی، انہوں نے وہ تمام علوم حاصل کئے جو ان کے زمانے میں رائج تھے، علم کا کوئی ایسا مرکز نہ تھا جس کے دروازے پر دستک نہ دی ہو۔ امام صاحب کے ایک ہمعصر علامہ کمال زملکانی نے ان کے بارے میں کیا خوب کہا ہے:
”اللہ تعالیٰ نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے لیے علوم کو اس طرح سہل کر دیا جیسے سیدنا داود علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا، جب کسی علم و فن کے بارے میں ان سے سوال کیا جاتا تو دیکھنے سننے والوں کو ان کی رائے سن کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس فن کے سوا امام صاحب کچھ اور نہیں جانتے اور یہ کہ اس فن میں امام صاحب کا کوئی حریف و مقابل نہیں۔ ہر مکتب خیال کے فقہائے کرام جب آپ کے دربار علم میں حاضر ہوتے تو خود اپنے مسلک کے بارے میں ان کے ہاں ایسی باتیں حاصل کرتے تھے، جن سے اب تک وہ خود ناواقف تھے اور یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی شخص سے وہ مناظرہ کریں اور لاجواب ہو کر رہ جائیں۔ وہ ہر علم پر ماہرانہ گفتگو کرتے تھے خواہ وہ شرع و دین سے تعلق رکھتا ہو یا دنیاوی فنون سے متعلق ہو۔ جس علم پر بھی گفتگو کرتے تھے اپنی معلومات سے اس علم کے ماہرین کو بھونچکا کر دیتے تھے۔“
کیا امام ابن تیمیہ عرب تھے؟
مورخین نے کسی ایسے عرب قبیلے کا ذکر نہیں کیا جسے خاندان ابن تیمیہ کی اصل قرار دیا جا سکے۔ وہ حران شہر کے رہنے والے تھے، اسی نسبت سے امام صاحب حرانی کہلائے۔ مورخین نے قبائل عرب میں سے کسی قبیلہ کی طرف امام صاحب رحمہ اللہ کو منسوب نہیں کیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ امام موصوف عربی نہیں تھے۔ غالب قیاس یہ ہے کہ وہ کرد تھے۔ کرد قوم بڑی بہادر با حوصلہ اور عالی ہمت قوم ہے۔ اس قوم کے کردار و سیرت میں قوت کا رنگ بھی جھلکتا ہے اور حلم و بردباری کا بھی اور یہ تمام صفات امام صاحب میں واضح اور نمایاں طور پر موجود تھیں، اگرچہ ان کی نشو و نما ایسے لوگوں میں ہوئی تھی جو علم و فضل، دانش و بینش، تحقیق و تدقیق اور غور و فکر کے مرد میدان تھے۔
محراب علم سے میدان جہاد کی طرف :
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سکون سے اپنے فرائض کی بجا آوری میں مصروف تھے۔ وہ مدرسہ میں درس دیتے اور تحقیق و تدقیق کے جوہر دکھاتے، مسجد میں وعظ و ارشاد کی مجلس میں ان کا بیان آب کوثر کی طرح پاک اور صاف ہوتا۔ لوگوں کے سامنے وہی دین پیش کرتے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا، لیکن اس درس و تدریس کے ساتھ ساتھ جذبہ جہاد اس طرح قائم رہا کہ حق و صداقت کے لیے سینہ سپر رہے۔ جو بات خلاف حق نظر آتی اس کے خلاف ڈٹ جاتے، حکام و عمال کے پاس پہنچتے اور فریضہ تبلیغ حق سے عہدہ برآ ہوتے۔ امام صاحب موصوف بیک وقت صاحب علم و قلم اور صاحب سیف مجدد تھے۔
محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چنگاری :
693 ھ میں باوثوق ذرائع سے امام صاحب رحمہ اللہ تک یہ خبر پہنچی کہ ایک نصرانی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی ہے پھر وہ رائے عامہ کے اشتعال سے خوفزدہ ہو کر ایک بدوی کے گھر پناہ گزیں ہو گیا ہے۔ اس نے عوام کے جوش و غضب سے اس کی حفاظت کی۔ امام صاحب کے لیے یہ بات ناقابل برداشت تھی، جس پر کسی طرح بھی سکوت اختیار نہ کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ وہ دمشق کے نائب السلطنت کے پاس پہنچے اور اس سے ماجرا بیان کیا۔ اس نے نصرانی کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔ وہ حاضر ہوا اس کے ساتھ بدوی بھی تھا جس نے اسے پناہ دے رکھی تھی۔ بدوی نے مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف دشنام طرازی شروع کر دی۔ لوگ مشتعل تو تھے ہی، انہوں نے نصرانی اور بدوی اور اس کے ساتھیوں پر سنگ باری شروع کر دی۔ حاکم دمشق نے امام صاحب سے اس الزام میں کہ انہوں نے لوگوں کو بھڑکا کر نصرانی کے خلاف امن عامہ کو درہم برہم کیا تھا، تشدد کا برتاؤ کیا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ درس و تدریس کی پابندیوں نے بھی اس مرد جلیل کو دین و مذہب کے مسائل عامہ سے مستغنی اور بے پروا نہیں کر رکھا تھا وہ دین کی حمایت و نصرت کے لیے کسی سے ٹکر لینے میں جھجک محسوس نہیں کرتے تھے۔ وہ درس کے حلقہ سے اٹھ کر میدان میں آتے اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرموں کے خلاف عوام کی رہنمائی کرتے اور اس سلسلہ میں جو تکلیف پریشانی یا مصیبت آتی اس کا مردانہ وار مقابلہ کرتے۔
تصنیفات :
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عمر 17 سال کی تھی جب انہوں نے قلم سنبھالا۔ 45 سال کی عمر تک یہ قلم پورے زور سے رواں دواں رہا۔ اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حافظہ، محیر العقول ذہانت اور ندرت افزا فہم سے نوازا تھا۔ سرعتِ قلم کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات ایک ہی دن میں علمی اور تحقیقی رسالہ مرتب کر دیتے۔ لوگ مشکل مسئلے لے کر آ جاتے اور امام موصوف جواب میں کئی کئی صفحات لکھ دیتے۔ ان حالات میں کیسے صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زندگی میں آپ نے کیا کچھ لکھا؟ اور اگر آپ کی تمام کتب کو مرتب کیا جائے تو کتنے ہی ہزار صفحات بن جائیں۔ یہی اور اس قسم کی دوسری ممتاز خصوصیات تھیں جن کی بنا پر آپ اپنے عہد میں مرجع عالم شخصیت قرار پائے تھے اور اگرچہ آج ان کی وفات پر نویں صدی گزر رہی ہے تاہم آپ کی ہر تحریر کو آج جو بلند مقام حاصل ہے اس کی مثال نہ پہلے ملتی ہے نہ اب۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے امام موصوف کی زندگی ہی میں ایک مرتبہ تحریر فرمایا کہ آپ کی تصانیف کی تعداد 500 تک جا پہنچی ہو تو بعید نہیں۔ اس کے بعد غالبا بعد از وفات لکھا کہ ”ہزار سے اوپر تعداد ہو گئی ہے۔“
تصنیفات کے نام اگر دیکھنا مقصود ہوں تو حيات شيخ الاسلام ابن تيميه مصنفہ ابو زہرہ کی طرف مراجعت فرمائیں۔ بلاشبہ ان کی زندگی پر یہ ایک مبسوط کتاب ہے۔ میں نے بھی اسی کی خوشہ چینی کر کے امام صاحب رحمہ اللہ کی زندگی کی چند جھلکیاں قارئین کی خدمت میں پیش کی ہیں۔
تلامذہ
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دور میں ہمیں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو شاگردوں کی کثرت میں شیخ تقی الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ہم پایہ ہو۔ مصر و شام میں اور پھر مصر کے اندر اسکندریہ اور قاہرہ کے مابین ان کے شاگردوں کی تعداد حدِ شمار سے باہر تھی، لیکن وہ مخصوص شاگرد جنہوں نے صحیح معنوں میں آپ کی جانشینی کے فرائض سر انجام دیئے ان کے نام درج ذیل ہیں:

یہ وہ کبار شاگرد ہیں جنہوں نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے فیضِ علم حاصل کیا اور صحیح معنوں میں آپ کے جانشین ہوئے۔
سفرِ آخرت :
ہنگامہ خیز زندگی گزارتے ہوئے بالآخر وہ وقت آ ہی گیا جو ہر ذی روح کی انتہا کہلاتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے امام صاحب رحمہ اللہ کی روح کو اپنے حضور طلب کر کے اپنی خوشنودی اور رضا کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ (ان شاء اللہ)
10 ذوالقعدہ 728ھ 1327ءکو امام صاحب رحمہ اللہ اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ امام صاحب رحمہ اللہ کے بھائی زین الدین عبدالرحیم کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ کی مدت میں ہم دونوں نے 80 قرآن مجید بطور دور ختم کئے۔ 81 ویں مرتبہ شروع کر کے سورۃ القمر کی آیت إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ ﴿٥٤﴾ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ ﴿٥٥﴾ تلاوت کر رہے تھے: کہ روح قفسِ عنصری سے پرواز کر کے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ إنا لله وإنا إليه راجعون ۔
کم و بیش 20 دن بیمار رہے لیکن جیل سے باہر عام طور پر بیماری کی اطلاع نہیں ہوئی۔ سوموار کی رات 20 ذوالقعدہ کو سحری کے وقت انتقال ہوا۔ خبرِ وفات کا اعلان قلعہ (جس میں آپ محبوس تھے) کے مینار سے علی الصباح کر دیا گیا۔ اس ناگہانی خبر سے کہرام مچ گیا۔ سارے شہر میں صفِ ماتم بچھ گئی، بازار بند ہو گئے۔ دکانوں پر اس دن کھانا تک نہیں پکا۔ قلعہ کے پاس زیارت کرنے والے لوگوں کا ہجوم ہو گیا۔ آخر قلعے کا دروازہ کھول کر داخلے کی عام اجازت دے دی گئی۔ علماء، وزراء، امراء، عوام، اقارب سب امام صاحب رحمہ اللہ کے پاس آتے تھے اور زار و قطار روتے تھے۔ زیارت کے لیے پہلے مرد آئے پھر عورتیں آئیں۔ غسل کے وقت سب لوگ چلے گئے صرف غسل دینے والے علماء و اعیان کی ایک جماعت رہ گئی، جس میں مشہور جلیل القدر محدث اور آپ کے خاص معتقد ابوالحجاج بھی تھے۔
غسل کے بعد جنازہ اٹھایا گیا، ہجوم بہت زیادہ ہو گیا۔ قلعہ میں پہلی نمازِ جنازہ شیخ محمد بن تمام نے پڑھائی۔ اس کے بعد جنازہ جامع اموی میں لایا گیا۔ نمازِ ظہر کے بعد دوسری دفعہ جنازہ کی نماز پڑھی گئی جس کی امامت نائب خطیب شیخ علاء الدین بن الحراط نے کرائی۔ پھر وہاں سے جنازہ اٹھا، ہجوم اس قدر تھا کہ شہر کا شہر اٹھ کر آ گیا تھا۔ عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ معذوروں کے سوا سب ہی اہل شہر جنازہ کے ساتھ شامل تھے۔ آنکھیں اشکبار تھیں، مدحیہ و دعائیہ کلمات زبان پر تھے۔ ہر ایک فرطِ عقیدت سے جنازہ کو مس کرنا چاہتا تھا۔ شدتِ اژدہام کی وجہ سے جنازہ کی حفاظت و انتظام کے لیے فوج کو جنازہ گھیرے میں لینا پڑا۔ ہجوم لمحہ بہ لمحہ بڑھتا ہی گیا۔ دمشق سے باہر ایک وسیع میدان میں جنازہ رکھ دیا گیا۔ تیسری نمازِ جنازہ علامہ زین الدین عبدالرحمن نے پڑھائی اور عصر کے قریب اس آفتابِ علم اور مجددِ ملت کو اپنے بھائی شرف الدین عبداللہ کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ دمشق کی تاریخ میں اس قسم کے جنازہ کی مثال نہیں ملتی۔
أمطره الله غيث رحمته وأنزله منزلة الصديقين فى فسيح جته العربیة السعودية