مضمون کے اہم نکات
پکار صرف اللہ کے لیے:
توحید تو یہ ہے کہ دکھ درد میں دعائیں سننے اور قبول کرنے والا اللہ وحدہ لاشریک کو سمجھا جائے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
[وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ]
اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ [البقرة:186]
دوسرے مقام پر فرمایا:[قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِہٖۤ اَحَدًا]،[ قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا]
[کہہ دو کہ میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا]،[یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا]۔[الجن:21،20]
یہ بھی فرمایا: [وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ]
اور (اے لوگو) دین کو خالص اللہ کے لیے مانتے ہوئے اللہ ہی کو پکارو۔ [الأعراف:29]
[اُدۡعُوۡا رَبَّکُمۡ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً]
(لوگو) اپنے رب سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ [الأعراف:55]
[وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا]
اور بے شک تمام مسجدیں اللہ [کی عبادت] کے لیے ہیں، لہذا اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ [الجن:18]
ان آیات سے واضح ہے کہ پکار صرف اللہ کے لیے ہے۔ کیونکہ:
① مخلوق کی ہر تکلیف کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ وہ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے۔
② مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان [ رحمن اور رحیم] اللہ کی ذات ۔
③ مخلوق کی تکلیف دور کرنے پر اللہ ہی کی ذات قادر اور قدیر ہے۔
④ اور وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
پھر اس علیم رحیم اور قدیر ذات کو چھوڑ کر کسی اور کو کیسے پکارا جا سکتا ہے؟
اسی لیے فرمایا: [وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ]
اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [الأنفال:10]
مشرکین کے بارے میں فرمایا:
[وَالَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَکُمۡ وَ لَاۤ اَنۡفُسَہُمۡ یَنۡصُرُوۡنَ]
اور جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ تمہاری مدد کی طاقت نہیں رکھتے بلکہ وہ تو اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے۔ [الأعراف:197]
مشرکین مکہ کا شرک اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا:
[فَاِذَا رَکِبُوۡا فِی الۡفُلۡکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اِذَا ہُمۡ یُشۡرِکُوۡنَ]
پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں، اس حال میں کہ اسی کے لیے عبادت کو خالص کرنے والے ہوتے ہیں، پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو اچانک وہ شریک بنا رہے ہوتے ہیں۔ [العنكبوت:65]
افسوس آج کلمہ گو مسلمان سمندر میں بھی یا علی مدد اور یا غوث اعظم مدد کے نعرے لگاتے ہیں۔ گویا وہ مشرکین مکہ سے شرک میں ایک قدم آگے ہیں،کیونکہ مشرکین مکہ سخت تنگی میں اور سمندر میں خالص اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے۔
انبیاءعلیہم السلام اور اولیاء اللہ کی دعائیں:
انبیاءعلیہم السلام اور اولیاء اللہ براہ راست اللہ ہی کو پکارتے رہے۔ قرآن مجید میں انبیاءعلیہم السلام اور اولیاء اللہ کی دعائیں موجود ہیں۔ ان میں سے کسی ایک نےبھی غیر اللہ کو نہیں پکارا۔
آدم علیہ السلام کی دعا:
[رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ]
اے ہمارے رب ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اگر تو نے نہ بخشا اور رحم نہ کیا تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ [الأعراف :23]
نوح علیہ السلام کی دعا:
[رَبِّ انۡصُرۡنِیۡ بِمَا کَذَّبُوۡنِ]
اے میرے رب انہوں نے مجھے جھٹلایا پس میری مدد کر۔ [المؤمنون:39]
رسول اکرمﷺ کی دعا:
[رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا]
میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔ [طه:114]
اصحاب کہف کی دعا:
[رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا]
اے ہمارے رب ہم پر اپنے پاس سے رحمت نازل فرما اور ہمارے کام کی درستگی فرما۔ [الكهف:10]
اعراف والوں کی دعا:
[رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ]
اے ہمارے رب ہمیں ظالم قوم کے ساتھ شامل نہ کرنا۔ [الأعراف:47]
معلوم ہوا کہ انبیاء علیہ السلام اور اولیاء اللہ نے جب بھی دعا کی براہ راست اللہ تعالی سے کی ۔ ہمیں انہیں کے راستے پر چل کر صرف اللہ تعالی ہی کو مشکل کشا اور حاجت روا ماننا چاہیے اور صرف اسی کو پکارنا چاہیے۔
[اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقۡتَدِہۡ] یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی پس ان کی سیرت کی پیروی کرو۔ [الأنعام:90]
پکارنا عبادت ہے
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:[ الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ] بے شک دعا ہی عبادت ہے۔ [ابو داود:1479]،[ترمذی:3372]
جب پکارنا عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ ہی کی کی جانی چاہیے۔ تو پھر کسی غیر کو پکارنا اس کی عبادت کرنا یعنی اسے معبود بنانا ہے جو شرک ہے اور ناقابل معافی جرم ہے۔ یہاں پکارنے سے مراد اللہ سے دعا کرنا ہے جس طرح انبیاء و اولیاء نے دعائیں کیں جس کا ذکر او پر ہو چکا۔
ام المومنین عائشہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ کون کی عبادت افضل ہے، فرمایا انسان کا اپنے لیے دعا کرنا افضل عبادت ہے۔[الأدب المفرد: ت عبد الباقي(البخاري): 713]
افضل عمل عبادت میں کسی کو شریک کرنا کیسے جائز ہے؟
غیر اللہ کو پکارنا شرک ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[وَاِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا شُرَکَآءَہُمۡ قَالُوۡا رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیۡنَ کُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِکَ]
اور جب مشرکین اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب یہی ہمارے وہ شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پکارتے تھے۔ [النحل:86]
معلوم ہوا کہ غیر اللہ کو پکارنا شرک ہے۔
غیر اللہ کو پکارنا کفر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ مَنۡ یَّدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرۡہَانَ لَہٗ بِہٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡکٰفِرُوۡنَ]
اور جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو پکارتا ہے۔ اس کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے تحقیق کا فر فلاح نہیں پاتے۔[المؤمنون:117]
غیر اللہ کو پکارنے والے خود مرتے وقت اپنے کافر ہونے کا اقرار کریں گے۔
[حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوۡنَہُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ]
یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے فرشتے جان لینے کو آئیں گے تو وہ کہیں گے وہ کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے تھے۔ وہ کہیں گے آج ہم سے تم ہو گئے اور اقرار کریں گے کہ بے شک وہ کافر تھے۔ [الأعراف:37]
غیر اللہ کو مدد کے لیے پکارنا عذاب کا باعث ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [فَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُعَذَّبِیۡنَ]
اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کونہ پکارو ورنہ تم عذاب دیے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔ [الشعراء:213]
یہ بھی فرمایا: [وَبُرِّزَتِ الۡجَحِیۡمُ لِلۡغٰوِیۡنَ]،[وَقِیۡلَ لَہُمۡ اَیۡنَمَا کُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ]،[مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕہَلۡ یَنۡصُرُوۡنَکُمۡ اَوۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ]،[ فَکُبۡکِبُوۡا فِیۡہَا ہُمۡ وَ الۡغَاوٗنَ]
[اور گمراہ لوگوں کے لیے بھڑکتی آگ ظاہر کر دی جائے گی]،[ اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جنھیں تم پوجتے تھے؟ ]،[اللہ کے سوا۔ کیا وہ تمھاری مدد کرتے ہیں، یا اپنا بچاؤ کرتے ہیں؟]،[پھر وہ اور تمام گمراہ لوگ اس میں اوندھے منہ پھینک دیے جائیں گے] [الشعراء:94 تا 96]
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مشرکین اگر چہ اللہ کے انبیاء علیہ السلام اور اولیاء اللہ کو پکارتے ہیں مگر وہ چونکہ شرک و مشرکین کے دشمن تھے، اس لیے وہ ان کے معبود نہیں۔ ان کا معبود شیطان ہے جیسا کہ [المائدہ:117،116]،[النساء:117] میں ہے۔ پس شیطان ہی ان مشرکوں کے ساتھ جہنم میں جائے گا۔
یہ بھی فرمایا: [وَلَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ]
اللہ کے سوا اس کو نہ پکارنا جو تجھے نہ نفع دیتا ہو نہ تیرا نقصان کر سکتا ہو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو اسی وقت ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ [یونس:106]
غیر اللہ کو پکارنا شیطان کی عبادت ہے۔
غیر اللہ کو پکارنا شیطان کی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں سے فرمائے گا: [اَلَمۡ اَعۡہَدۡ اِلَیۡکُمۡ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّیۡطٰنَ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ]،[وَّ اَنِ اعۡبُدُوۡنِیۡ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ]
[کیا میں نے تمھیں تاکیدنہ کی تھی اے اولاد آدم! کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، یقینا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے]،[اور یہ کہ میری عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے] [يس:61،60]
آج شیطان کو کوئی سجدہ اور رکوع نہیں کرتا۔ کوئی شیطان کو نہیں پکارتا مگر چونکہ اللہ کے سوا کسی کو بھی پکارا جائے وہ شیطان ہی کی اطاعت ہے۔ اور ایسی اطاعت ہی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِبۡرٰہِیۡمَ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا]،[ اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا یَسۡمَعُ وَ لَا یُبۡصِرُ وَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡکَ شَیۡئًا]،[ یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ قَدۡ جَآءَنِیۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ یَاۡتِکَ فَاتَّبِعۡنِیۡۤ اَہۡدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا]،[ یٰۤاَبَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّیۡطٰنَ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِیًّا]
[اور اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کر، بے شک وہ بہت سچا تھا، نبی تھا]،[ جب اس نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! تو اس چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ دیکھتی ہے اور نہ تیرے کسی کام آتی ہے؟]،[اے میرے باپ! بے شک میں، یقینا میرے پاس کچھ وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، اس لیے میرے پیچھے چل، میں تجھے سیدھے راستے پر لے جاؤں گا]،[ اے میرے باپ! شیطان کی عبادت نہ کر، بے شک شیطان ہمیشہ سے رحمان کا سخت نافرمان ہے] [مریم:41 تا 44]
ان آیات سے ثابت ہوا کہ بتوں کی پوجا بھی دراصل شیطان ہی کی عبادت ہے۔ ان آیات پر بھی غور کیجئے: [وَیَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ]،[قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ]
[اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟]،[ وہ کہیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا دوست ہے نہ کہ وہ، بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کے اکثر انھی پر ایمان رکھنے والے تھے] [سبا:41،40]
یادر ہے کہ ابلیس بھی جنات میں سے ہے۔
فرمایا:[کَانَ مِنَ الۡجِنِّ]
وہ (ابلیس) جنات میں سے تھا۔ [الكهف:50]
مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے اور ان کی عبادت کرتے تھے، مگر فرشتے صاف انکار کر دیں گے اور کہیں گے کہ یہ شیطان جنات کی عبادت کرتے تھے۔
بعض تعویذات پر یا جبرائیل یا میکائل یا اسرافیل یا عزرائیل لکھا جاتا ہے۔ بعض چوروں کو پکڑنے کے لیے مٹی کا لوٹا لے کر اس پر یہ نام لکھتے ہیں اور پھر مشکوک لوگوں کے نام کاغذ پر لکھ کر اس میں ڈالتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ چور کے نام پر لوٹا گھومے گا۔ یہ سب شیطان کی عبادت ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[وَاِنۡ یَّدۡعُوۡنَ اِلَّا شَیۡطٰنًا مَّرِیۡدًا] اور یہ لوگ شیطان سرکش کو ہی پکارتے ہیں۔ [النساء:117]
غیر اللہ کو پکارنا بے سود ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا: [لَہٗ دَعۡوَۃُ الۡحَقِّ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسۡتَجِیۡبُوۡنَ لَہُمۡ بِشَیۡءٍ اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیۡہِ اِلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُغَ فَاہُ وَ مَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ ؕ وَ مَا دُعَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ]
(اللہ) کو پکارنا سود مند ہے۔ اور جو اس کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں وہ ان کو کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ اس کی مثال پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والے کی مانند ہے (جو چاہتا ہے کہ) پانی اس کے منہ میں آجائے حالانکہ وہ نہیں آ سکتا اور کافروں کی پکار بے کار ہے۔ [الرعد:14]
معلوم ہوا اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا ایسا ہی ہے کہ آدمی کنویں کے پانی کو کہے کہ وہ اس کے منہ میں آجائے۔ یہ بھی فرمایا :
[وَالَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِیۡرٍ]،[اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡا دُعَآءَکُمۡ ۚ وَ لَوۡ سَمِعُوۡا مَا اسۡتَجَابُوۡا لَکُمۡ ؕ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُوۡنَ بِشِرۡکِکُمۡ]
[ اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں]،[ اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے] [فاطر:14،13]
معلوم ہوا کہ غیر اللہ کسی کو نفع دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔
یہ بھی فرمایا: [وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ]،[وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ]
[اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں]،[اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے] [الاحقاف:6،5]
اس آیت سے معلوم ہوا کہ غیر اللہ قیامت تک ان پکارنے والوں کو جواب نہیں دے سکتے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مشرکین نیک لوگوں کو پکارتے تھے اسی لیے وہ ان کے دشمن ہوں گے۔