سوال :
بعض لوگ عید کے روز بوقت ملاقات ”تقبل الله منا ومنك“ پڑھتے ہیں، کیا اس کی کوئی شرعی حیثیت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
جواب :
عید کے موقع پر مسلمان بھائی آپس میں ملاقات کرتے ہوئے جو ”تقبل الله منا ومنك“ کہتے ہیں، اس کے متعلق مرفوع اور موقوف روایات مروی ہیں۔ جیسا کہ واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:
كنت مع النبى صلى الله عليه وسلم يوم العيد فقلت يا رسول الله تقبل الله منا ومنك قال نعم تقبل الله منا ومنك
(العلل المتناهية 476/1 حدیث 811، السنن الكبرى للبيهقي 319/3 ح: 6294، كتاب المجروحين 301/2، والسنخہ الاخری319/2)
عید کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”ہاں! اللہ تعالیٰ ہم سے اور آپ سے قبول کرلے۔“
اس روایت کو محمد بن ابراہیم الشامی ابو عبد اللہ نے بقیہ بن الولید، عن ثور بن یزید، عن خالد بن معدان عن وائلہ بن اسقع کی سند سے بیان کیا ہے۔ اس میں چند علتیں ہیں، ایک یہ کہ محمد بن ابراہیم بن العلاء الشامی ابو عبد اللہ منکر الحدیث ہے، اس کے متعلق امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
منكر الحديث وأكثر أحاديثه غير محفوظة
(الكامل 2274/6-2275)
”یہ منکر الحدیث ہے اور اس کی زیادہ تر احادیث غیر محفوظ ہیں۔“
امام دار قطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”كذاب ہے۔“
(موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني 543/2، الجامع في الجرح والتعديل 439/2)
حافظ ابو نعیم الاصبہانی نے کہا:
محمد بن إبراهيم الشامي عن الوليد بن مسلم وشعيب بن إسحاق وبقية وسويد بن عبد العزيز موضوعات
(كتاب الضعفاء ص 144 رقم 2، تهذيب الكمال 202/6، تهذيب التهذيب 13/5)
”محمد بن ابراہیم شامی کی روایات ولید بن مسلم، شعیب بن اسحاق، بقیہ اور سوید بن عبد العزیز سے موضوع ہوتی ہیں۔“
ابن حبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
يضع الحديث على الشاميين لا تحل الرواية عنه إلا عند الاعتبار
(كتاب المجروحين 301/1، تهذيب 13/5)
”یہ شامیوں کے نام سے روایات گھڑتا تھا، لہذا اس سے متابعت کے علاوہ روایات لینا حلال نہیں ہے۔“
امام ابو احمد الحاکم نے کہا:
بس بالميين عندهم وقال الحاكم والنقاش روى أحاديث موضوعة
(تهذيب 13/5، المدخل إلى الصحيح رقم الترجمة 191)
”یہ راوی محدثین کے نزدیک پختہ نہیں ہے اور امام ابو عبد اللہ الحاکم اور نقاش نے کہا: یہ موضوع احادیث بیان کرتا ہے۔“
ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:منكر الحديث
(تهذيب التهذيب 207/3)
”یہ منکر الحدیث ہے۔“
خلاصہ کلام یہ ہے کہ محمد بن ابراہیم الشامی منکر الحدیث اور کذاب راوی ہے، اس کی ولید بن مسلم، شعیب بن اسحاق، بقیہ بن الولید اور سوید بن عبد العزیز سے روایات موضوع و منکر ہیں۔ مذکورہ روایت بھی بقیہ سے ہے۔
دوسری علت اس روایت کی یہ ہے کہ بقیہ بن الولید مدلس راوی ہے اور اس کی یہ روایت معنعن ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وكان كثير التدليس عن الضعفاء والمجهولين
(طبقات المدلسين ص 49 رقم 117، تقريب مع تحریر 179/1)
”یہ ضعفاء اور مجہول راویوں سے بہت زیادہ تدلیس کرتا ہے“
امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقال غير واحد كان مدلسا فإذا قال عن فليس بحجة
(ميزان الاعتدال 331/1)
بہت سے محدثین نے کہا ہے کہ یہ مدلس ہے، لہذا جب (روایت بیان کرتے ہوئے) ”عن“ کہے تو وہ قابل حجت نہیں ہے۔
مزید فرماتے ہیں:
وقال أبو الحسن ابن القطان بقية يدلس عن الضعفاء ويستبيح ذلك وهذا إن صح مفسد لعدالته قلت نعم والله صح هذا عنه أنه يفعله
(ميزان الاعتدال 339/1، بيان الوهم والإبهام لابن القطان 168/4)
ابو الحسن ابن القطان نے کہا: ”یہ ضعیف راویوں سے تدلیس کرتا ہے اور اسے مباح سمجھتا ہے، یہ بات اگر صحیح ہے تو اس کی عدالت کو خراب کرنے والی ہے۔“ میں (ذہبی) کہتا ہوں: ”ہاں! اللہ کی قسم! یہ بات بقیہ سے ثابت ہے، وہ ایسا کرتا ہے۔“
جب کوئی راوی ضعفاء اور مجہولین سے تدلیس کرتا ہو تو اس کی ”عن عن “ والی روایات قابل حجت نہیں ہوتیں۔
امام ابن الصلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يقبل من المدلس حتى يبين
(مقدمة ابن الصلاح مع التقييد والإيضاح 82/1)
”مدلس سے روایت قبول نہیں کی جائے گی، یہاں تک کہ وہ واضح طور پر سماع کی تصریح کر دے۔“
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إلا أن يكون الرجل معروفا بالتدليس فلا يقبل حديثه حتى يقول حدثنا أو سمعت فهذا ما لا أعلم فيه أيضا خلافا
(التمهيد 13/1)
”ایسا راوی جس کا تدلیس کرنا معروف ہو، اس کی روایت قبول نہیں کی جائے گی، یہاں تک کہ وہ حدثنا یا سمعت کے الفاظ کہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس میں مجھے کسی کا اختلاف معلوم نہیں۔“
ابو مسہر النفسانی کہتے ہیں:
بقية لست أحاديثه نغية فكن منها على تقية
(تهذيب التهذيب 299/1)
”بقیہ کی روایات صاف نہیں ہیں، لہذا ان سے بیچ کر رہو۔“
لہذا بقیہ کی تدلیس کی وجہ سے بھی یہ روایت درست نہیں ہے۔
اس روایت کو عبد الخالق بن زید بن واقعہ نے عن ابیہ عمن مکحول، عن عبادہ بن الصامت کی سند سے بھی بیان کیا ہے۔ عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قول الناس فى العيد تقبل الله منا ومنكم فقال ذلك فعل أهل الكتابين وكرهه
(كتاب المجروحين 149/2، ميزان الاعتدال 543/2، السنن الكبرى للبيهقي 320/3 حدیث 6297، لسان الميزان 239/4، تاریخ دمشق 97/34)
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عیدین کے دن لوگوں کے اس قول ”تقبل الله منا ومنكم“ کے بارے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یہودیوں اور عیسائیوں کا عمل ہے۔“ اور آپ نے اسے ناپسند کیا۔
اس کی سند میں عبد الخالق بن زید ہے، جس کے بارے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”منكر الحديث ہے۔“
(التاريخ الكبير 385/5رقم الترجمة 1918/7979)
امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ ثقہ نہیں ہے۔“ ابو حاتم رازی فرماتے ہیں: ”یہ ضعیف الحدیث ہے۔“ اس طرح ایک مرتبہ انھوں نے کہا: ”یہ راوی منکر الحدیث اور غیر قوی ہے۔“ ابو نعیم اصبہانی فرماتے ہیں: ”اس کی کچھ حیثیت نہیں۔“ امام عقیلی اسے ضعفاء میں شمار کرتے ہیں۔ ابن حبان فرماتے ہیں: ”اس سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔“
(لسان الميزان 239/4، ميزان الاعتدال 543/2، كتاب المجروحين 149/2، المغني في الضعفاء 592/1، ديوان الضعفاء 238/1 رقم 2409، الكامل لابن عدي 1984/5، الضعفاء الكبير للمقبلي 106/3، كتاب الضعفاء والمتروكين 86/2، الضعفاء والمتروكين للدارقطني 124/1، موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني 390/2، الجامع في الجرح والتعديل 56/2)
دوسری علت اس میں یہ ہے کہ امام کمول الشامی کی روایت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے مرسل ہے۔
(تهذيب التهذيب 529/5، تهذيب الكمال 216/7)
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لا يصح“ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔
(السنن الكبرى 219/3)
اس بحث سے معلوم ہوا کہ یہ روایت مرفوعا صحیح ثابت نہیں ہے، البتہ موقوفا حسن سند سے یہ روایت مروی ہے۔ جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا التقوا يوم العيد يقول بعضهم لبعض تقبل الله منا ومنكم
(تحفة عيد الفطر يذاهر بن طاهر مشيخة أبي أحمد الفرضي بحوالہ وصول الأماني بأصول التهاني ص 82، من الخبر الأول من الحاوي للفتاوى للسيوطي، تمام السنة للشيخ الألباني 354/1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عید کے دن جب آپس میں ملاقات کرتے تو ایک دوسرے سے ”تقبل الله منا ومنكم“ کہتے یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے اور تم سے قبول کرے۔
علامہ سیوطی اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔
(فتح الباري 446/2، الحاوي للفتاوى 82/1)
شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ورواه المحاملي فى كتاب صلاة العيدين 2829/2 بإسناد رجاله كلهم ثقات رجال التهذيب غير شعيب المهني بن يحيى وهو ثقة رنبل كما قال الدارقطني وهو مترجم فى تاريخ بغداد 266/31-268 فالإسناد صحيح
(تمام المنة ص 355)
اس روایت کو قاضی ابو عبد اللہ المحاملي نے ”كتاب صلاة العيدين“ میں ایسی سند سے روایت کیا ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور تہذیب کے راوی ہیں، سوائے شعیب مہنی بن يحيى کے، وہ بھی ثقہ ونبیل ہے، جیسا کہ امام دار قطنی نے فرمایا ہے اور اس کا ترجمہ تاریخ بغداد (266/13-268) میں موجود ہے، لہذا یہ سند صحیح ہے۔
اس کی مزید تائید بھی ملتی ہے، علامہ ابن الترکمانی نے اپنی کتاب میں محمد بن زیاد کی روایت ذکر کی ہے کہ اس نے کہا:
كنت مع أبى أمامة الباهلي وغيره من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم فكانوا إذا رجعوا يقول بعضهم لبعض تقبل الله منا ومنك قال أحمد بن حنبل إسناده إسناد جيد
(الجوهر التقي 320/3)
میں ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ جب وہ واپس پلٹتے تو ان میں سے بعض دوسروں سے کہتے ”تقبل الله منا ومنك“ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی سند جید ہے۔
علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأخرج زاهر أيضا بسند حسن عن محمد بن زياد الألهاني قال رأيت أبا أمامة الباهلي يقول فى العيد لأصحابه تقبل الله منا ومنكم
(الحاوي للفتاوى 82/1 اور النسخة الثانية 127/1)
علامہ زاہر بن طاہر نے اسی طرح حسن سند کے ساتھ محمد بن زیاد الہانی سے روایت بیان کی ہے کہ اس نے کہا میں نے ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ عید کے دن اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے: ”تقبل الله منا ومنكم“
راشد بن سعد کہتے ہیں:
أن أبا أمامة ووابلة بن الأسقع رضي الله عنهما لقيا فى يوم عيد فقالا تقبل الله منا ومنك
(كتاب الدعاء للطبراني 1234/2 حدیث 928)
ابو امامہ الباہلی اور واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہما دونوں عید کے دن ملے اور دونوں نے کہا: ”تقبل الله منا ومنك“
اس کی سند میں احوص بن حکیم ضعیف راوی ہے۔
شعبہ بن الحجاج کہتے ہیں:
لقيني يونس بن عبيد فى يوم عيد فقال تقبل الله منا ومنك
(كتاب الدعاء 1234/2 حدیث 929)
مجھے عید کے دن یونس بن عبید ملے تو انھوں نے کہا: ”تقبل الله منا ومنك“
علی بن ثابت کہتے ہیں:
سألت مالكا عن قول الناس فى العيد تقبل الله منا ومنك فقال ما زال الأمر عندنا كذلك
(الحاوي للفتاوى 82/1، النسخة الثانية 127/1)
میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے عید کے دن لوگوں کے اس قول ”تقبل الله منا ومنك“ کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: ”ہمارے ہاں یہ کام ہمیشہ سے اس طرح ہے۔“ (یعنی مدینہ میں لوگ اس پر عامل تھے)۔
حوشب بن عقیل کہتے ہیں:
لقيت الحسن فى يوم عيد فقلت تقبل الله منا ومنك فقال نعم تقبل الله منا ومنك
(كتاب الدعاء للطبراني 930 ، 1234/2 )
میں عید کے دن حسن بصری رضی اللہ عنہ سے ملا تو کہا ”تقبل الله منا ومنك“ انھوں نے جواب دیا: ”ہاں! تقبل الله منا ومنك“
اس کی سند میں مسکین ابو فاطمہ کو امام دار قطنی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
ادھم سوتی عمر بن عبد العزیز کہتے ہیں: ”ہم عیدین پر عمر بن عبد العزیز سے کہتے ”تقبل الله منا ومنك يا أمير المؤمنين“ وہ ہمیں جواب دیتے اور ہم پر اس کا انکار نہیں کرتے تھے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي 319/3، ح 6296)
ان آثار سے واضح ہو جاتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں یہ معمول تھا اور تابعین بھی اس پر عامل تھے۔ لہذا عید کے دن اپنے بھائیوں سے ملاقات کرتے وقت ”تقبل الله منا ومنك“ کہنا جائز و درست ہے۔