سوال :
شرعی پردے سے کیا مراد ہے اور کن کن سے پردہ ضروری ہے؟
جواب :
شرعی پردے سے مراد یہ ہے کہ عورت جب اپنے گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھے تو اپنے آپ کو ایسی بڑی چادر میں چھپا کر نکلے جس سے اس کے وجود کے محاسن نمایاں نہ ہوں۔ وہ پوری کی پوری پردے میں چھپی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ﴾
(الأحزاب: 59)
”اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (جب وہ گھر سے باہر نکلیں تو) اپنے اوپر اپنی چادر میں اوڑھ لیں۔“
اس آیت کریمہ میں ”جلابیب“ کا لفظ ”جلباب“ کی جمع ہے اور جلباب اس بڑی چادر کو کہتے ہیں جو سارے جسم کو ڈھانپ لے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر زمخشری)
علامہ ابو حیان اندلسی اپنی تفسیر البحر المحيط میں لکھتے ہیں: ”ہمارے ہاں اندلس میں مسلمان خواتین اس طرح پردہ کرتی ہیں کہ سارا چہرہ چھپا ہوا ہوتا ہے، صرف ایک آنکھ کھلی ہوتی ہے۔“ تفسیر ابن کثیر میں بھی خواتین کے اس طرح پردہ کرنے کا طریقہ مذکور ہے۔ یعنی عورت اپنے جسم کو بڑی چادر میں اس طرح چھپا کر نکلے کہ اس کا سارا جسم چھپا ہوا ہو، کوئی بھی حصہ نمایاں اور ظاہر نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے: المرأة عورة(ترمذی ح 1173) ”عورت چھپانے کے لائق ہے۔“ لہذا جو خواتین اس طرح برقع پہن لیتی ہیں جس سے ان کی آنکھوں کی زینت نمایاں نظر آتی ہو یا سینے کا ابھار واضح ہو تو ان کا پردہ غیر شرعی ہے۔ عصر حاضر میں برقع کی جو صورت ہے اس میں پردے کا اصل مقصود فوت ہو جاتا ہے، عورتیں زیب و زینت کر کے برقع اس طرح ڈال لیتی ہیں کہ ان کی آنکھوں کی زینت واضح ہوتی ہے اور اس برقع میں برصورت عورت بھی حسین و جمیل معلوم ہوتی ہے۔ لہذا اس طریقے کو بدل کر صحیح نہج پر مسلمان خواتین کو پردہ کرنا چاہیے اور ہر اس مرد سے عورت کو پردہ کرنا چاہیے جس سے اس کا نکاح ہو سکتا ہے۔ (واللہ أعلم)