عقیدہ ایمان کے منافی امور اور نفاق کی علامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ایمان و کفر

ایمان کی تعریف:

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی تمام باتوں پر ایمان لانا، ان کو دل و جان سے صحیح ماننا اور قبول کرنا اور ان کے پسندیدہ کاموں پر عمل کرنا اور ناپسندیدہ کاموں سے بچنا ایمان کہلاتا ہے اور ایسے شخص کو مومن کہتے ہیں۔

کفر کی تعریف:

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تمام باتوں سے انکار کرنا یا ان میں سے کسی ایک یا زیادہ فرمان کو قبول نہ کرنا اور اس پر ایمان نہ لانا کفر ہے اور ایسے شخص کو کافر کہتے ہیں۔

کفریہ امور:

[1] اسلام کے منافی چیزوں میں پہلی چیز شرک کرنا ہے۔ (النساء:48) مردوں اور غائب زندوں سے دعائیں مانگنا، ان کی دہائی دینا، مردوں کے لیے نذریں ماننا اور قربانی وغیرہ پیش کرنا اس شرک میں داخل ہے۔

[2] جس نے اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کچھ واسطے بنا لیے، ان سے دعائیں مانگیں، ان سے شفاعت طلب کی اور انھی پر بھروسا کیا تو بالاجماع کافر ہو گیا (جیسا کہ آج کل لوگ قبروں پر جا کر کہتے ہیں)۔ (یونس:18)،(الزمر:3)

[3] جس نے مشرکوں کو کافر نہیں سمجھا، یا ان کے کافر ہونے میں شک کیا، یا ان کے مذہب کو سچاسمجھا۔

[4] جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ رسول اللہﷺ کے علاوہ کسی اور کا طریقہ زندگی زیادہ مکمل اور جامع ہے یا یہ عقیدہ رکھے کہ رسول اللہﷺ کے طریقہ حکمرانی سے بہتر کوئی اور طریقہ حکمرانی ہے تو وہ کافر ہے۔

[5] جس نے رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی کسی چیز کو نا پسند کیا خواہ وہ اس پر عمل ہی کیوں نہ کرتا ہو وہ شخص کافر ہو گیا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیونکہ انھوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ (محمد:9)

[6] جس نے رسول اللہﷺ کے دین کی کسی چیز کا یا اس کے جزا اور سزا کا مذاق اڑایا اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ (التوبہ:66،65)

[7] جادو کیا یا اس سے رضا مند ہوا تو ایسا شخص کفر کا مرتکب ہو گیا۔ (البقرۃ:102)

[8] مسلمانوں کے خلاف مشرکوں سے تعاون کرنا اور ان کو مدد بہم پہنچانا۔ (المائدة:51)

[9] جس نے عقیدہ رکھا کہ کچھ مخصوص افراد شریعت رسولﷺکی پابندی سے آزاد ہو سکتے ہیں تو وہ کافر ہے۔ (آل عمران:85)

[10] اللہ کے دین سے اعراض کرنا، وہ اس طرح کہ آدمی نہ اس دین کو سیکھتا ہو اور نہ اس پر عمل کرتا ہو۔ (طه: 133تا136)

[11] پیغمبروں کو انسانی جامہ میں اللہ سمجھنے سے انسان کا فر ہو جاتا ہے۔ (المائدة:17)

[12] اللہ تعالی کی کسی ایک آیت یا زیادہ آیات کے انکار سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ (الأعراف:37تا41)

[13] اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے یعنی انسان وہ بات کہے جو اللہ نے نہ کہی ہو۔ (ایضاً)

[14] غیر اللہ کو پکارنے والا کافر ہو جاتا ہے۔ (ایضاً)

غیر اللہ کو پکارنے والا کافر ہو جاتا ہے۔ (الأعراف:37تا41) ان آیات کے متعلق احمد رضا خانی ترجمه مع تفسیر میں لکھا ہے کہ کفار کا جنت سے محروم رہنا قطعی ہے۔ (دیکھیے تغیر مراد آبادی: الاعراف:37،فوائد56تا70)

[15] جس نے اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کو مخلوق کی کسی صفت کے مشابہ کیا تو وہ کافر ہے۔ (فقہ اکبر مقدمه هدایه:4/1)

[16] نکاح کیا کسی شخص نے اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ کی گواہی سے تو نکاح درست نہ ہو گا، اس کے کفر کا فتوی دیا گیا ہے۔ اس کا کفر دو دلیلوں سے منقول ہے،

اوّل یہ کہ اس نے حرام کو حلال جانا، اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے گواہی آدمیوں پر مخصوص کی ہے، اس کے سوا اور کی گواہی کا حکم نہیں دیا۔

اور دوسری دلیل یہ ہے کہ جب اس نے رسول اللہﷺ کو گواہ قرار دیا تو رسول اللہﷺ کو عالم غیب ثابت کیا، حالانکہ علم غیب اللہ تعالیٰ کو خاص ہے۔ (درمختار: 2/14)،(النمل:65)

[17] جو نص کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ (مقدمه هدایہ:41/1)

[18] جو کوئی قرآن کی ایک آیت کا انکار کرے یا قرآن میں سے کسی چیز میں عیب رکھے تو یہ کفر ہے۔ (مقدمه هدایه:84/1)

[19] جو اللہ کے کسی حکم سے مسخرا پن کرے یا اس کے وعدہ اور وعید سے انکار کرے تو وہ کافر ہے۔ (درمختار:592،591/2)

[20] حدیث متواتر کا منکر کا فر ہے۔ (ایضاً)

[21] ایک نے حدیث بیان کی دوسرے نے کہا یہ کچھ نہیں تو وہ کافر ہے۔ (ایضاً)

[22] جو سنت کو ہلکا جان کر برابر ترک کرے وہ کافر ہے۔ (مقدمه هدایہ:76/1)

[23] جو سنت کو حقیر جانے گا وہ کافر ہے۔ (درمختار:239/1)

[24] جو سنت کو حق نہ جانے گا وہ بھی کافر ہوگا۔ (ایضاً)

[25] کسی نے کہا ناخن تراشنا سنت ہے، دوسرا کہے کہ میں نہیں تراشوں گا تو کفر ہے۔ (مالابد:140)

[26] اگر کہے کہ سنت کیا کام آوے گی تو کافر ہو جائے گا۔ (ایضاً)

[27] رافضی ( شیعہ) جب شیخین (ابو بکر وعمر رضي اللہ عنہما) پر لعنت کرے تو وہ کافر ہے۔ (درمختار:591/2)

[28] کوئی مقام بندے پر ایسا نہیں کہ احکام شرعی بندہ سے ساقط ہوں، اس کا خلاف کفر ہے۔ (مقدمه هدایه:34/1)

[29] جو عبادت کو معاف کہے وہ کافر ہے۔ (ایضاً)

[30] جو شخص قرآن میں سے کسی آیت کا منکر ہو وہ کافر ہے۔ (درمختار:592،591/2)

[31] جو شخص مسخراپن اور بے ادبی کسی آیت سے کرے وہ کافر ہے۔ (ایضاً)

[32] جو قرآن کو رف وغیرہ کی گت پر پڑھے وہ کافر ہے۔ (ایضاً)

[33] ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ نماز پڑھ۔ اس نے جواب دیا کہ اس کو کون سر پر اٹھا دے یا بولا کہ تو نے نماز پڑھ کر کیا کیا یا یوں بولا کہ نماز پڑھنا یا نا پڑھنا برابر ہے، یہ سب کفر ہے۔ (ایضاً)

[34]جو شخص کہے ہم نے بہت نماز پڑھی، ہماری کوئی حاجت روائی نہ ہوئی تو وہ کافر ہے۔ (ايضاً)

[35] شریعت حقیقت سے باہر نہیں ہے، جو باہر جائے اس پر کفر کا خوف ہے۔ (درمختار:20/1)

[36] رقص کرنے والے اور حلال جاننے والے اور حال کھیلنے والے کافر ہیں۔ (درمختار:610/2)

[37] گانے باجے سے لذت اٹھانا کفر ہے۔ (درمختار:222/4)

[38] صوفیا گانا سننے والے، حال کھیلنے والے مفسد، بے دین ہیں۔ (هدایہ:317/4)

[39] جو صوفی رقص میں مشغول ہوتے ہیں، ایسے لوگ شہر سے دور کر دیے جاویں۔ (فتاوی عالمگیری:84/9)

[40] يا شيخ عبد القادر جيلاني شَيْئًا لله کہنا خوف کفر سے خالی نہیں۔ (درمختار:610/2)

[41] جو ولی کے واسطے لے مسافت کو سچ کہے وہ جاہل و کافر ہے۔ (ایضاً)

[42] کا ہن کی خبر کی تصدیق کرنا کفر ہے۔ (مقدمه هدایه:56/1)

[43] عبد النبی وغیرہ نام رکھنا کفر ہے۔ (ایضاً:86)

[44] حرام کھانے پر بسم اللہ پڑھے تو کفر ہے۔ (ایضاً:84)

[45] جو بسم اللہ کہہ کر حرام کھاوے تو کافر ہے۔ (مالابد:148)

[46] شراب پیتے وقت یا زنا کرتے وقت یا جوا کھیلتے وقت بسم اللہ کہے تو کافر ہے۔ (درمختار:592/2)

[47] جو حرام مال سے صدقہ دے اور ثواب کی امید رکھے تو کافر ہے۔ (مالابد:146)

[48] کوئی امر بالمعروف کرے ( یعنی تبلیغ کرے) دوسرا کہے کیوں شور مچاتے ہو تو کافر ہے۔ (مالابد:140)

[49] کوئی گناہ سے توبہ کرنے کو کہے اور وہ یہ کہے کہ میں نے کیا کیا ہے جو تو بہ کروں تو کافر ہوجائے گا۔ (ایضاً:146)

[50] [اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی] میں ،،تَنۡہٰی،، بطور مذاق کہے تو کفر ہے۔ (ایضاً:147)

[51] جو کہے کہ زر چاہیے علم کیا کام آئے گا تو کافر ہوگا۔ (ایضاً:147)

[52] جو کہے اس زمانہ میں بغیر خیانت اور دروغ گوئی گزر نہیں ہو سکتی یا روٹی نہیں ملتی تو کافر ہے۔ (درمختار:593/2)

[53] اغلام بازی کا حلال جاننے والا کافر ہے۔ (ایضاً:474/2)

خلاصہ تحریر: ہر کلمہ گو کو چاہیے کہ ان کفریہ امور کو پڑھے، سمجھے اور ان سے پر ہیز کرے، تا کہ اپنی عاقبت سنوار سکے۔

خلوص اور نفاق

خلوص کی تعریف:

خلوص دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں پر ایمان لانا اور ان پر خلوص دل سے عمل کرنا خالص ایمان کی نشانی ہے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ منافق کے زمرے میں آسکتا ہے۔

نفاق کی تعریف:

خلوص دل سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں پر نہ ایمان لائے نہ نہ دل سے عمل کرے(یعنی) دل و جان سے یقین رکھ کر ایمان نہ لائے اور عمل نہ کرے۔ قرآن وحدیث میں منافق کی کچھ نشانیاں ہیں، ان سے بچنا چاہیے:

[1] منافق نماز وغیرہ کی ادائیگی میں سستی کرتا ہے۔

[2] امانت میں خیانت کرتا ہے۔

[3] بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔

[4] وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔

[5] جھگڑتا ہے تو ناحق کی طرف جاتا ہے اور گالی دیتا ہے۔