طلوعِ فجر کے بعد وتر

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

سیدنا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من نام عن وتره أو نسيه، فليصله إذا أصبح أو ذكره .
’’ جو شخص اپنے وتر سے سویا رہ جائے یا بھول جائے تو صبح کے وقت میں یاد آنے پر اسے ادا کر لے۔ “ [سنن أبى داؤد:1431، سنن الدارقطني:22/2، ح:2621، المستدرلد على الصحيحين لالحاكم : 302/1، السنن الكبري للبيهقي :480/2، و سندهٔ صحيح]
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے امام بخاری و مسلم کی شرط پر ’’ صحیح “ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حافظ نووی رحمہ اللہ [خلاصہ الاحکام :1905] نے اس کی سند کو ’’ صحیح “ کہا ہے۔ لہٰذا جو شخص سویا رَہ جائے، وہ فجر کی اذان کے بعد وتر پڑھ سکتا ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

طلوعِ فجر کے بعد وتر