طلاق کے بعد نابالغ بچی کا خرچ اور باپ کے حقوق قرآن و حدیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

والدین کی علیحدگی کی صورت میں نابالغہ بچی کا خرچہ جو عدالت نے مقرر کیا ہے اور والد بآسانی ادا کر سکتا ہے، مگر ضد کی وجہ سے گریزاں ہے، کیا عدالت والد کے اس رویہ کی وجہ سے نابالغہ بچی سے اس کے والد کو نہ ملنے کا حکم دے سکتی ہے اور کیا عدالت والد کو خرچہ نہ دینے کی صورت میں خرچہ کی ادائیگی پر مجبور کر سکتی ہے، جبکہ والد نے عدالت کی طرف سے خرچہ مقرر ہونے کے بعد اپنی جائیداد کو دائیں بائیں کیا ہوا ہے؟ شرعی احکامات کی توضیح فرما کے عند اللہ اجر پائیں۔

جواب :

صورت مرقومہ و مذکورہ میں نابالغہ بچی کا نفقہ والد کے ذمہ واجب و حتمی ہے اور شرعی لحاظ سے باپ اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنی بچی کے اخراجات برداشت کرے، بچی خواہ اپنی والدہ کے پاس ہو یا والد کے۔ امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک باب یوں منعقد کیا ہے کہ آدمی پر اس کے اہل و عیال کا نفقہ و خرچہ واجب ہے، پھر اس پر دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث لائے ہیں جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفضل الصدقة ما ترك غنى واليد العليا خير من اليد السفلى وابدأ بمن تعول
”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو فاضل مال سے دیا جائے اور دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور سب سے پہلے اپنے زیر کفالت افراد پر خرچ کرو۔“
(بخاری، کتاب النفقات، باب وجوب النفقة على الأهل والعيال 5355)
اس کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں:
تقول المرأة إما أن تطعمني وإما أن تطلقني ويقول العبد أطعمني واستعملني ويقول الابن أطعمني إلى من تدعني
”عورت کہتی ہے : کیا تو مجھے کھلاؤ یا طلاق دے دو۔ غلام کہتا ہے: مجھے کھلا کر اور کام پر لگاؤ اور بیٹا کہتا ہے : مجھے کھلاؤ تم مجھے کس کے سپرد کرتے ہو؟“
(بخاری، کتاب النفقات، باب وجوب النفقة على الأهل والعيال 5355)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ اولاد کا نان و نفقہ والد کے ذمے ہے، بشرطیکہ وہ اس کا متحمل ہو اور باپ پر یہ خرچہ اس وقت تک واجب ہے جب تک لڑکا بالغ نہ ہو جائے اور لڑکی کی شادی نہ ہو جائے، یہ مسلک جمہور ائمہ محدثین کا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وذهب الجمهور إلى أن الواجب أن ينفق عليهم حتى يبلغ الذكر أو تزوج الأنثى ثم لا نفقة على الأب إلا أن كانوا زمني فإن كانت لهم أموال فلا وجوب على الأب
”جمہور ائمہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ باپ پر واجب ہے کہ وہ اپنی اولاد پر خرچ کرے حتی کہ لڑکا بالغ ہو جائے، لڑکی شادی شدہ ہو جائے، اس کے بعد والد پر کوئی نفقہ نہیں، الا یہ کہ اولاد معذور ہو اور اگر اولاد صاحب مال ہو تو باپ پر خرچہ واجب نہیں ہے۔“
(فتح الباری 501/9)
لہذا اگر باپ اپنی نابالغ اولاد کا خرچہ ادا نہیں کرتا تو سخت گناہ گار ہو گا مگر اس کی عدم ادائیگی کی صورت میں عدالت باپ کو اس کی بچی سے ملاقات کرنے سے نہیں روک سکتی اور نہ اسے حکم دے سکتی ہے، اس لیے کہ اولاد کو ملنے کا جس طرح والدہ کو حق حاصل ہے اسی طرح باپ کو بھی یہ حق اللہ تعالی نے دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
﴿وَلَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ﴾
ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے اور باپ کو اس کے بچے کی وجہ سے ضرر اور تکلیف نہ پہنچائی جائے۔
(البقرة 232)
اور اگر عدالت نے مرد کی وسعت کے مطابق اس خرچے کا حکم دیا ہے تو عدالت یہ خرچہ ادا کرنے پر والد کو مجبور کر سکتی ہے، بصورت دیگر نہیں۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے