اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ فَاجۡلِدُوۡا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا مِائَۃَ جَلۡدَۃٍ ۪ وَّ لَا تَاۡخُذۡکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ۚ وَ لۡیَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲﴾
ترجمہ: زانی عورت ہو یا مرد، ان میں سے ہر ایک کو سو درے [3] لگاؤ، اور اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملہ [4] تمہیں ان دونوں (میں سے کسی) پر بھی ترس نہ آنا چاہئے۔ اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ ان کی سزا [5] وقت موجود ہونا چاہئے۔
سورہ نور آیت نمبر : 2
تفسیر از مولانا عبدالرحمان کیلانی رحمہ اللہ:
[3] زنا کی سزا سے متعلق پہلا حکم سورۃ نور کی آیت نمبر 15 اور 16 میں نازل ہوا تھا۔ جن کا ترجمہ یہ ہے ’’تم میں سے جو عورتیں بد کاری کی مرتکب ہوں، ان پر چار مردوں کی گواہی لاؤ، پھر اگر وہ چاروں گواہی دے دیں تو تم ایسی عورتوں کو گھروں میں بند رکھو تا آنکہ وہ مر جائیں یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے دوسری راہ مقرر کر دے۔ اور پھر جو دو مرد تم میں سے اسی جرم کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو ایذا دو۔ [4: 15، 16]
ان آیات سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
1۔ مرد اور عورت دونوں کے لئے ابتدائی سزا ان کو ایذا پہچانا تھا جس میں لعنت ملامت اور مار پیٹ سب کچھ شامل ہے۔ البتہ عورتوں کے لئے یہ اضافی سزا تھی کہ تا زیست انہیں گھر میں نظر بند رکھا جائے۔
2۔ ایسی سزا کا حکم عارضی اور تا حکم ثانی ہے۔
3۔ یہ سزا حکومت سے نہیں بلکہ معاشرہ سے تعلق رکھتی تھی۔ 6 ہجری میں واقعہ افک پیش آیا جس کے نتیجہ میں 6 ہجری کے آخر میں سورۃ نور میں یہ سزا مقرر کی گئی جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اس آیت میں زنا کی جو سزا مقرر کی گئی ہے صرف کنوارے زانی کے لئے ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور اس کی دلیل اس سے اگلی آیت ہے جو یوں ہے: ’’زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ یا مشرکہ عورت کے ساتھ اور زانیہ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک مرد کے ساتھ اور مومنوں پر یہ چیز حرام کر دی گئی ہے‘‘ [24: 3] اب دیکھئے کہ اس آیت میں :
(1) جن زانیوں کی سزا کا ذکر ہے ان کے ساتھ نکاح کی بھی ممانعت ہے اور یہ ایسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ مرد اور عورت غیر شادی شدہ ہوں۔
(2) کوڑوں کی سزا صرف کنوارے مرد اور عورت کے لیے کیوں ہے؟ زانی مرد سے نکاح کا حق صرف زانیہ عورت کو دیا گیا ہے۔ اب وہ عورت پہلے ہی شادی شدہ ہو تو زنا کے بعد اس کا مستحق کوئی زانی ہی ہو سکتا ہے، نہ کہ اس کا پہلا خاوند جس کا کوئی قصور بھی نہیں۔ اس طرح یہ سزا یا قید زانی کے حق میں تو مفید رہے گی۔ مگر پرہیزگار خاوند کے حق میں خانہ بربادی کا باعث بنے گی اور یہ چیز منشائے الٰہی کے خلاف ہے۔
(3) ہمارے اس دعویٰ کی تائید سورۃ نساء کی آیت نمبر 25 سے بھی ہوتی ہے جو یوں ہے ’’اور تم سے جو لوگ مومن آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔ تو وہ تمہاری مومن لونڈیوں سے نکاح کر لیں۔ پھر اگر وہ لونڈیاں نکاح کے بعد بھی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا سے آدھی سزا ہے جو آزاد عورتوں کو دی جائے‘‘ اس آیت میں پہلی بار جو لفظ محصنٰت آیا ہے۔ اس کا معنی تو ’آزاد غیر شادی شدہ عورت‘ کے سوا کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔ جس سے نکاح کی ہدایت کی جا رہی ہے اور دوسری بار جو اس آیت میں محصنٰت کا لفظ آیا ہے تو اس کا معنی بھی لامحالہ ’آزاد غیر شدہ شادی عورت‘ ہی لینا پڑے گا اور آزاد غیر شادی شدہ زانیہ کی سزا سو درے ہے۔ لہٰذا منکوحہ زانیہ لونڈی کی سزا آزاد غیر شادی شدہ عورت کی سزا سے نصف یعنی پچاس کوڑے ہے۔
منکرین رجم کا اعتراض اور اس کا جواب:۔
اس آیت میں جہاں اس بات کی دلیل ہے کہ سورۃ نور میں مذکور سزا صرف کنوارے مرد و عورت کی ہی ہو سکتی ہے وہاں منکرین حدیث کے ایک اعتراض کا جواب بھی مہیا کر دیتی ہے۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ شادی شدہ آزاد عورت کی سزائے زنا حدیث کے مطابق رجم ہے اور شادی شدہ لونڈی کی سزائے زنا قرآن کے مطابق شادی شدہ آزاد عورت کی سزا کا نصف ہے۔ اور نصف رجم بنتی ہے اور نصف رجم چونکہ ممکن نہیں۔ اس لیے حدیث میں وارد شدہ سزائے رجم درست نہیں ہو سکتی۔ درست بات یہ ہے کہ عورت اور مرد چاہے کنوارے ہوں یا شادی شدہ بلا امتیاز سب کی سزا سو کوڑے ہے۔ اس اعتراض کے جواب سے پہلے یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ لونڈی کا آزاد ہونا بھی احصان (یا زنا سے بچاؤ) کا ذریعہ ہے اور نکاح دوسرا ذریعہ ہے۔ آزاد عورت ایک لحاظ سے تو پہلے ہی محصن ہوتی ہے۔ شادی کے بعد احصان کا دوسرا درجہ بھی حاصل کر لیتی ہے۔ لہٰذا لغوی لحاظ سے ہم محض آزاد کنواری عورت کو محصن کہہ سکتے ہیں اور بیاہی عورت کو بھی خواہ وہ لونڈی ہو یا آزاد ہو اب منکرین حدیث اس اعتراض میں لوگوں کو فریب یہ دیتے ہیں کہ محصنٰت کا ترجمہ تو بیاہی آزاد کر لیتے ہیں۔ حالانکہ جس آیت [2: 24] میں لونڈی کی سزا مذکور ہے اس میں محصنٰت کا ترجمہ آزاد بیاہی عورت ہو ہی نہیں سکتا۔ جب کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ اور منکرین حدیث کا تو شیوہ ہی یہ ہے کہ پہلے کسی حدیث میں شکوک و شبہات پیدا کر دیتے ہیں۔ پھر سارے ذخیرہ حدیث پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تو واضح بات ہے کہ شادی شدہ مرد و عورت کا زنا کرنا کنوارے جوڑے کے زنا کرنے سے شدید جرم ہے۔ زنا کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ کنوارہ لڑکا اور لڑکی زنا کریں۔ اس قسم کے زنا کو سابقہ تہذیبوں میں معیوب ضرور سمجھا جاتا رہا ہے لیکن قابل دست اندازی سرکار جرم نہیں سمجھا جاتا تھا۔ سابقہ شریعتوں میں بھی ایسے زنا کی سزا نسبتاً کم تجویز کی گئی تھی۔ دوسری قسم یہ ہے کہ کوئی کنوارا کسی شادی شدہ عورت سے یا شادی شدہ مرد کسی کنواری عورت سے زنا کرے اسے Adultery کہتے ہیں۔ تیسری قسم یہ ہے کہ فریقین شادی شدہ ہوں۔ یہ اقسام سابقہ تہذیبوں اور علی ھذا القیاس شریعتوں میں بھی ایسے جرائم سمجھے جاتے رہے ہیں جن میں حکومت بھی مداخلت کر سکتی ہے اور فریقین میں سے ہر کسی کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ وہ ایسا دعویٰ عدالت میں لے جائے اور اس طرح کے دعووں کی اصل بنیاد کسی بھی فریق کے حقوق کی پامالی ہوتی تھی نہ کہ فعل زنا۔ مثلاً کوئی شخص کسی بیاہی عورت سے زنا کر کے پیدا ہونے والے بچے کی تربیت کا سارا بوجھ بھی بیاہی عورت کے خاوند پر ڈال دیتا ہے اور اس کی وراثت میں بھی اسے حصہ دار بنا دیتا ہے۔ اسی طرح اگر شادی شدہ مرد زنا کرتا ہے اور اس کی بیوی اس کا یہ فعل برداشت نہیں کرتی تو وہ عدالت میں نالش کر سکتی ہے۔ اور اگر فریقین شادی شدہ ہوں تو اور بھی زیادہ تمدنی اور خاندانی جھگڑے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اسلامی شریعت کا امتیازی کارنامہ یہ ہے کہ اس نے محض زنا کو ہی اصل جرم قرار دے کر اس کی سزا مقرر کر دی جو قرآن میں مذکور ہے اور یہ کم سے کم سزا ہے۔ اور یہ تو واضح ہے کہ محض زنا صرف کنوارے جوڑے کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے۔ ایسا زنا خواہ فریقین کی رضا مندی سے ہو تب بھی انھیں سو سو کوڑے کی سزا ضرور ملے گی۔
زنا کے سد باب کے ذرائع:۔
اسلام نے سب سے پہلے فحاشی کے ذرائع کا سد باب کیا۔ سورۃ احزاب جو اس سورۃ سے قریباً ایک سال پہلے نازل ہوئی تھی، میں مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ محرم رشتہ داروں کے علاوہ کسی کے سامنے اپنی زیب و زینت ظاہر نہیں کر سکتیں ان کا اصل مقام گھر ہے۔ لہٰذا وہ دور جاہلیت کی طرح گھر سے باہر اپنی زیب و زینت کا اظہار بھی نہیں کر سکتیں اور اگر ضرورتاً جانا پڑے تو بڑی چادر اوڑھ کر ہی جا سکتی ہیں۔ پھر اس سورۃ نور میں مزید ایسے بہت سے احکامات دیئے گئے جو فحاشی کے سدباب کا ذریعہ تھے۔ نیز یہ حکم دیا گیا کہ معاشرہ میں جو لوگ مجرد ہیں خواہ وہ عورتیں ہوں یا مرد، غلام ہوں یا لونڈیاں، اور وہ بیوہ یا مطلقہ عورتیں ہوں یا ایسے مرد ہوں جن کی بیویاں فوت ہو چکی ہوں سب کے نکاح کر دیئے جائیں۔ [24: 31، 32]
نیز نکاح کے سلسلہ میں انھیں تمام ممکنہ سہولتیں دی گئیں۔ اس کے باوجود بھی جو لوگ مہر کی رقم یا بیوی کے نان نفقہ کی بھی طاقت نہیں رکھتے تھے انھیں پاکدامن رہنے اور روزہ رکھنے کی ہدایات دی گئیں۔
شادی شدہ مرد و عورت کا زنا شدید ترین جرم ہے:۔
اب یہ تو واضح ہے کہ ان احکامات اور حدود و قیود کے بعد زنا کا زیادہ خطرہ نوجوان اور بے زوج قسم کے لوگوں یعنی کنوارے مردوں اور کنواری عورتوں سے ہی ہو سکتا تھا کیونکہ ان کے پاس شہوت کی تکمیل کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا قرآن نے ایسے لوگوں کے زنا کے جرم کو اصل بنیاد قرار دیا ہے۔ دوسرے ایک جائز ذریعہ تکمیل خواہش موجود ہونے کے باوجود اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں کی سزا ہی شدید تر ہونی چاہئے۔ رحم ہماری شریعت کا حصہ کیوں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی سزا وہی رہنے دی جو شریعت موسوی میں موجود تھی۔ اور یہ بات ہم پہلے بھی سورۃ انعام کی آیت نمبر 90 کے الفاط فَبھُِدٰھُمُ اقْتَدِہْ کے ضمن میں بتلا چکے ہیں کہ سابقہ شریعتوں کے ایسے احکام جن کے متعلق کتاب و سنت میں کسی قسم کی نکیر نہ وارد ہو وہ بھی شریعت کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال تو یہی رجم ہے اور دوسری مثال اعضاء و جوارح کا قصاص ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 45 میں حکایتاً یوں بیان فرمایا کہ ‘ہم نے اس (تورات) میں یہ لکھا دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا قصاص ہو گا یہ حکم بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کو اعضا و جوارح کے قصاص کے متعلق الگ کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ اس کے باوجود یہ احکام ہماری شریعت کا حصہ ہیں اور رسول اللہﷺ نے اس حکم کے مطابق فیصلے صادر فرمائے۔
شادی شدہ یہودی جوڑے کا رجم:۔
اسی طرح ایک یہودی اور یہودن کے زنا کا مقدمہ آپ کے پاس آیا یہ دونوں شادی شدہ تھے۔ یہود یہ مقدمہ آپ کے پاس اس غرض سے لائے تھے کہ موسوی شریعت میں اس کی سزا رجم ہے شاید شریعت اسلامیہ میں اس کی سزا کچھ نرم ہو۔ چنانچہ انہوں نے مقدمہ پیش کرنے والے سے کہہ دیا تھا کہ اگر اس کا فیصلہ رجم کی صورت میں دیا جائے تو قبول نہ کرنا اور اگر اس کے علاوہ اور فیصلہ دیا جائے تو قبول کر لینا۔ جیسا کہ سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 41 میں مذکور ہے۔ آپ نے یہود سے تورات منگوا لی تو اس میں رجم کا حکم موجود تھا پھر ان کے ایک بہت بڑے عالم ابن صوریا کو بلا کر شہادت لی تو اس نے بھی اعتراف کیا کہ شادی شدہ مرد و عورت کے زنا کی سزا رجم ہے۔ چنانچہ آپ نے ان دونوں کے رجم کا فیصلہ دے دیا اور فرمایا: ’’یا اللہ! میں نے تیرے ایک ایسے حکم کو زندہ کیا ہے۔ جسے ان لوگوں نے مردہ یعنی متروک العمل بنا چھوڑا تھا۔‘‘ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیے : [ بخاري، كتاب المحاربين۔ باب الرجم فى البلاط، مسلم۔ كتاب الحدود۔ باب حد الزنا۔ ابو داؤد۔ كتاب الحدود۔ باب رجم اليهودين]
امام بخاری کا اجتہاد:۔
امام بخاری اس واقعہ کو کتاب الحدود کے بجائے کتاب المحاربین میں اس لئے لائے ہیں کہ ان کے نزدیک شادی شدہ جوڑے کا زنا محض زنا نہیں بلکہ اس سے شدید تر جرم، اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محاربہ ہے اور محاربہ کی قرآن میں مذکور سزاؤں میں سے ایک سزا یقتلوا یعنی کسی کو ایذائیں دے دے کر بری طرح سے مار ڈالنا اور وہ رجم کو بھی اسی قسم کے سزا سمجھتے ہیں۔
حد رجم سے انکار کی وجوہ:۔
حد رجم سے انکار سب سے پہلے اولین منکرین حدیث یعنی معتزلہ نے پھر بعض خوارج نے کیا تھا۔ ان کے انکار کی وجہ محض انکار حدیث کے سلسلہ میں ان کی عصبیت تھی مگر آج کے دور میں ایک اور وجہ بھی اس میں شامل ہو گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اہل مغرب اسلام کی ایسی سزاؤں کو وحشیانہ سزائیں سمجھتے ہیں۔ لہٰذا مغربیت سے مرعوب ذہن ایسی سزاؤں سے فرار اور انکار کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ اور یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ انکار حدیث یا قرآنی آیات کی تاویل کی وجوہ صرف دو ہی ہو سکتی ہیں ایک اتباع ہوائے نفس اور دوسری موجودہ دور کے نظریات سے مرعوبیت پہلے ادوار میں بھی یہی دو وجوہ انکار حدیث اور تاویل قرآن کا باعث بنتی رہی ہیں اور آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔
آیت رجم اور سیدنا عمرؓ کا خطبہ:۔
احادیث میں رجم سے متعلق ایک آیت کا بھی ذکر آتا ہے جو بعد میں منسوخ ہو گئی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے آخری ایام میں مسجد نبوی میں جمعہ کے دن مسلمانوں کے ایک کثیر مجمع کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ جسے تقریباً سب محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ اس خطبہ کے درج ذیل الفاظ قابل غور ہیں۔ آپ نے خطبہ کے دوران فرمایا: ’’اس کتاب اللہ میں رجم کی بھی آیت موجود تھی جسے ہم نے پڑھا، یاد کیا اور اس پر عمل بھی کیا۔ حضور اکرمﷺ کے زمانہ میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈر ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ کہنے لگے کہ ہم رجم کے حکم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے اس فریضہ کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا چھوڑ کر مر جائیں۔ کتاب اللہ (حضرت عمرؓ کی کتاب اللہ سے مراد تمام منزل من اللہ احکام ہوتے تھے) میں رجم کا حکم برحق ہے۔ اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ جبکہ اس کے زنا پر کوئی شرعی ثبوت یا حمل موجود ہو‘‘ [بخاری۔ کتاب المحاربین۔ باب رجم الحبلیٰ من الزنا اذا احصنت]
منسوخ التلاوت آیت کا حکم باقی رہنے کی تین وجوہ:۔
اس حدیث پر اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ آیت قرآن میں موجود تھی تو گئی کہاں؟ اور اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ وہ منسوخ ہو گئی۔ یہ ناسخ و منسوخ کی بحث چونکہ الگ تفصیل کی محتاج ہے۔ لہٰذا اسے ہم نے اس کے مناسب مقام سورۃ بقرۃ کی آیت نمبر 106 کے تحت درج کر دیا ہے۔ مختصراً یہ کہ جب اللہ تعالیٰ خود فرما رہے ہیں : ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلاَ تَنْسيٰ الآَ مَاشَاء اللّٰهُ﴾ [87: 6، 7] یعنی ہم آپ کو پڑھائیں گے جو آپ کو فراموش نہ ہو گا مگر جو کچھ اللہ چاہے، تو پر آخر ان لوگوں کو کیوں اعتراض ہے؟ دوسرا یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر یہ آیت منسوخ التلاوت ہے تو اس کا حکم کیسے باقی رہ گیا؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حکم کو باقی رکھنے کا ذریعہ یہ منسوخ التلاوت آیت نہیں بلکہ اس حکم کے بقا کی دوسری تین وجوہ ہیں ایک یہ کہ تورات کا یہ حکم شریعت محمدیہ میں یہی بدستور باقی رکھا گیا ہے۔ جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے اور دوسری وجہ وہ متواتر احادیث ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ تین صورتوں کے علاوہ کسی کو جان سے مار ڈالنا حرام ہے۔ شادی شدہ زانی یا زانیہ کو سنگسار کر کے مار ڈالنا، بطور قصاص اور قتل مرتد اور ان تمام صورتوں میں قتل کرنا حکومت کا کام ہے، عوام کا نہیں۔ علاوہ ازیں اس حکم رجم کو باقی رکھنے کا ذریعہ وہ واقعات ہیں جن پر آپ نے رجم کی سزا دی۔ اس مقام پر اس بات کی وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ کوئی حدیث یا سنت نبویﷺ سے جب صحیح ثابت ہو جائے تو وہ بالکل اسی طرح واجب الاتباع ہوتی ہے جس طرح قرآنی احکام واجب الاتباع ہیں۔ اور اگر اس کلیہ سے انحراف کیا جائے گا تو قرآن کے احکام پر عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ پھر کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو خود تو سنت کو حجت تسلیم کرتے ہیں مگر منکرین حدیث کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ شاید رسول اللہﷺ نے رجم کی سزا سورہ نور کے نازل ہونے سے پہلے دی ہو۔ لیکن ان کا یہ خیال بھی غلط ہے سورۃ نور 65 ہجری میں نازل ہوئی تھی اور ہمیں چند ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن میں یہ داخلی شہادت موجود ہے کہ رجم کے یہ واقعات بعد کے ہیں۔ مثلاً :
1۔ رجم کے واقعات سورہ نور کے نزول کے بعد کے ہیں:۔
غامدیہ عورت کا رجم ہوا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسے پتھر مارا۔ جس سے خون کے چند چھینٹے حضرت خالد پر پڑ گئے۔ تو آپ نے اس عورت کو گالی دی اس پر آپﷺ نے حضرت خالد کو سخت تنبیہ کی اور حضرت خالد صلح حدیبیہ اور فتح مکہ (8 ھ) کے درمیانی عرصہ میں اسلام لائے تھے۔ صلح حدیبیہ سے واپسی پر سورۃ فتح نازل ہوئی جس کا ترتیب نزول کے لحاظ سے نمبر 111 ہے جبکہ سورۃ نور کا نمبر 102 ہے۔ لہٰذا غامدیہ عورت والا واقعہ سورۃ نور کے نزول سے بہت بعد کا ہے۔
2۔ عسیف یا مزدور لڑکے کے مقدمہ کی پیشی کے وقت ابو ہریرہؓ خود وہاں موجود تھے اور وہ خود ہی اس روایت کے راوی بھی ہیں اور فرماتے ہیں کہ : كنا عند النبيﷺ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب اعتراف الزنا] اور اس واقعہ میں اس مزدور کی مالکہ کو رجم کیا گیا۔ اور حضرت ابو ہریرہؓ جنگ خیبر (7 ہجری) کے موقع پر آپﷺ کے پاس حاضر ہو کر ایمان لائے جبکہ سورۃ نور اس سے بہت پہلے نازل ہو چکی تھی۔
3۔ یہودی اور یہودن کے رجم کے وقت حضرت عبد اللہ بن ابی الحارث وہاں موجود تھے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ان دونوں کو رجم کیا جبکہ آپ اپنے دادا کے ساتھ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے۔ [فتح الباری۔ باب احکام اہل الذمہ ج 12 ص 144]
پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے صحابہ کی ایک کثیر تعداد کے سامنے مسجد نبوی میں خطبہ ارشاد فرمایا تو مجمع میں سے کسی نے بھی حضرت عمرؓ کے بیان پر اعتراض نہیں کیا پھر اس وقت سے لے کر آج تک یہ مسئلہ متفق علیہ چلا آرہا ہے۔ جس کا ماسوائے منکرین حدیث کے کسی نے انکار نہیں کیا۔ آج وحشیانہ سزا کے مغربی تخیل سے مرعوب ہو کر منکرین حدیث کا ماہوار رسالہ ’طلوع اسلام‘ ایک طرف تو اس مسئلہ کو پھیپھڑوں تک کا زور لگا کر اچھال رہا ہے اور دوسری طرف قرآن میں مذکور شرعی حدود کو زیادہ سے زیادہ شرعی سزائیں قرار دے رہا ہے اور ان میں رعایت کی کوئی بات خواہ وہ قرآن کے بجائے کسی کمزور سے کمزور روایت یا تاریخ سے مل جائے اسے تسلیم کرنے پر فوراً آمادہ ہو جاتا ہے۔ رجم سے متعلق ان تصریحات کے بعد اب ہم کچھ احادیث کا مکمل ترجمہ اور مکمل حوالہ درج کر رہے ہیں۔ جو حد اور اقامت حد سے متعلقہ احکام و ہدایت اور شرائط پر روشنی ڈالتی ہیں :
1۔ ماعز بن مالک اسلمی کے رجم کا واقعہ بخاری میں کئی ابواب کے تحت مذکور ہے۔ ہم ان حدیثوں کا ملخص بیان پیش کرتے ہیں: حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص (ماعز بن مالک اسلمی) آنحضرتﷺ کے پاس آیا۔ اس وقت آپﷺ مسجد میں تھے۔ اس نے آپ کو آواز دی اور کہنے لگا۔ یا رسول اللہﷺ! میں نے زنا کیا ہے۔ آپﷺ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ یہی الفاظ کہے۔ جب اس نے چار مرتبہ اپنے خلاف گواہی دی۔ تو آپﷺ نے اسے اپنے پاس بلا کر پوچھا: ’’کیا تو مجنون تو نہیں؟‘‘ وہ کہنے لگا۔ ’نہیں‘ پھر آپﷺ نے فرمایا: ’’تیرا نکاح ہو چکا ہے؟‘‘ اس نے کہا، ’جی ہاں‘ پھر آپﷺ نے کہا: ’’نکاح کے بعد صحبت کر چکا ہے؟‘‘ اس نے کہا، ’’جی ہاں‘‘ پھر آپﷺ نے کہا: ’’شاید تو نے بوسہ لیا ہو گا یا مساس کیا ہو گا یا آنکھ سے دیکھا ہو گا؟‘‘ اس نے کہا، ’’نہیں یا رسول اللہﷺ!‘‘ پھر آپﷺ نے صاف صاف ننگے لفظوں میں پوچھا: ’’کیا تو نے دخول کیا تھا؟‘‘ اس نے کہا ’’جی ہاں‘‘ تب آپﷺ نے صحابہ سے فرمایا ’’اس کو لے جاؤ اور رجم کرو۔‘‘ پھر ہم لوگوں نے اس کو عید گاہ میں لے جا کر رجم کیا۔ جب اسے پتھر پڑے تو بھاگ کھڑا ہوا۔ ہم نے اسے مدینہ کے پتھریلے میدان میں جا پکڑا اور اسے رجم کر ڈالا۔ بعد میں اس واقعہ کی اطلاع آپﷺ کو دی گئی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’جب وہ بھاگ کھڑا ہوا تھا تو تم نے اسے چھوڑ دیا ہوتا‘‘ [ بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب رجم المحصن]
2۔ حد اور اقامت سے متعلق شرائط، ہدایات اور احکام سے متعلقہ احادیث:۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس ایک یہودی اور یہودن لائے گئے۔ جنہوں نے بد کاری کی تھی۔ آپﷺ نے یہودیوں سے پوچھا: تم اپنی کتاب میں اس جرم کی کیا سزا پاتے ہو؟ وہ کہنے لگے: ہمارے عالموں نے منہ کا کالا کرنا اور دم کی طرف منہ کر کے سوار کرانا اس کی سزا بتلائی ہے۔ یہ سن کر عبد اللہ بن سلام کہنے لگے۔ یا رسول اللہﷺ ان سے تورات منگوائیے۔ تورات لائی گئی تو ایک یہودی رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر اس سے پہلے اور بعد کی آیتیں پڑھنے لگا۔ عبد اللہ بن سلامؓ نے اس سے کہا: ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھا جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو نیچے رجم کی آیت تھی۔ پھر آپﷺ نے حکم دیا تو وہ دونوں رجم کئے گئے۔ عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں یہ دونوں بلاط کے پاس رحم کئے گئے اور میں نے دیکھا کہ یہودی یہودن پر جھک گیا تھا۔ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب الرجم فى البلاط]
3۔ حضرت ابو ہریرہؓ اور زید بن خالد دونوں کہتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ آپﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا: یا رسول اللہﷺ! میں آپﷺ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ کتاب اللہ کے مطابق ہمارا فیصلہ فرما دیجئے۔ یہ سن کر دوسرا فریق جو کچھ زیادہ سمجھ دار تھا کھڑا ہو کر کہنے لگا: ہاں یا رسول اللہﷺ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے موافق فرمائیے۔ اور بات کرنے کی مجھے اجازت دیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا: اچھا: بتلاؤ۔ وہ کہنے لگا: میرا بیٹا اس شخص کے پاس نوکر تھا۔ اس نے اس کی بیوی سے بد فعلی کی۔ میں نے سو بکریاں اور ایک غلام بطور فدیہ اسے دیا ہے۔ اس کے بعد میں نے کئی عالموں سے یہ مسئلہ پوچھا: وہ کہتے ہیں کہ تیرے بیٹے کو سو کوڑے پڑیں گے اور ایک سال کی جلا وطنی ہو گی۔ اور اس کی بیوی کا رجم ہو گا۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا: اس پروردگار کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میں کتاب اللہ کے مطابق تم دونوں کا فیصلہ کروں گا۔ سو بکریاں اور غلام جو تو نے دیا ہے تجھے واپس ہو گا۔ اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ہے۔ اور اے انیس (بن ضحاک) تو کل صبح اس (دوسرے فریق) کی بیوی کے پاس جا کر پوچھ اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کر دینا۔ چنانچہ دوسرے دن انیس اس عورت کے پاس گئے، اس نے اقرار کر لیا تو انیس نے اسے رجم کیا۔ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب اعتراف الزنا]
4۔ حضرت بریدہؓ فرماتے ہیں کہ قبیلہ غامدیہ کی ایک عورت آپﷺ کے پاس آکر کہنے لگی: یا رسول اللہﷺ! میں نے بد فعلی کی ہے۔ مجھے پاک کیجئے۔ آپ نے اس کو پھیر دیا۔ جب دوسرا دن ہوا تو آپﷺ کے پاس حاضر ہو کر کہنے لگی۔ شاید آپ مجھے ماعز کی طرح لوٹانا چاہتے ہیں۔ اللہ کی قسم! میں حاملہ ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: ابھی نہیں تا آنکہ تو بچہ جن لے۔ پھر جب اس نے بچہ جنا تو بچے کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر لے آئی اور کہا: اب تو میں بچہ جن چکی۔ آپﷺ نے فرمایا: جا اسے دودھ پلا حتیٰ کہ اس کا دودھ چھڑائے۔ پھر جب اس نے دودھ چھڑایا تو بچے کو لے کر آئی جس کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا اور کہنے لگی یہ بچہ ہے میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور اب یہ کھانا کھاتا ہے۔ آپﷺ نے یہ ایک مسلمان کے حوالے کیا۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے سینے تک گڑھا کھودا جائے اور لوگوں کو اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ ایک پتھر لے کر آگے بڑھے اور اس کے سر پر مارا۔ خون کے چھینٹے حضرت خالد کے منہ پر پڑے تو آپ نے اس عورت کو گالی دی۔ رسول اللہﷺ نے حضرت خالد کو گالی دیتے سن لیا تو حضرت خالد سے فرمایا: خالد! یہ کیا بات ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو بخش دیا جائے۔ پھر آپ نے نماز جنازہ کا حکم دیا۔ نماز پڑھی گئی پھر دفن کی گئی۔ [مسلم۔ كتاب الحدود۔ باب حدالزنا]
5۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: مجھ سے (شرع کی باتیں) سیکھ لو۔ اللہ نے (زانی) عورتوں کے لئے ایک راہ نکالی۔ جب کنوارا، کنواری سے زنا کرے۔ تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اگر شوہر دیدہ عورت، زن دیدہ مرد سے زنا کرے تو سو کوڑے اور رجم ہے۔ [مسلم۔ كتاب الحدود۔ باب حدالزنا]
6۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت (فاطمہ بنت اسود) نے چوری کی تو قریشیوں کو فکر لاحق ہوئی (کہ اب اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا) انہوں نے کہا: اس مقدمے میں آپﷺ سے سفارش کی جرأت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے سوا اور کون کر سکتا ہے۔ جو آپ کا محبوب ہے۔ خیر اسامہؓ نے اس سلسلہ میں آپ سے بات کی تو آپﷺ نے فرمایا: کیا تم اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سفارش کرتے ہو؟ پھر آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ’’تم سے پہلے لوگ صرف اس وجہ سے تباہ ہوئے کہ جب ان میں کوئی طاقتور چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمدﷺ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتا‘‘ [بخاري۔ كتاب بدء الخلق۔ باب ماذكر عن بني اسرائيل]
7۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے عویمر عجلانی اور اس کی بیوی میں معافی کا فیصلہ دیا اور میں نے یہ حدیث بیان کی تو ایک شخص مجھ سے پوچھنے لگا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے حق میں آپﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو شہادتوں کے بغیر رجم کر سکتا تو اس عورت کو ضرور کرتا؟ ابن عباسؓ نے کہا: نہیں، یہ ایک اور عورت تھی۔ اس کی بد کاری اسلام کے زمانہ میں کھل گئی تھی۔ [بخاري كتاب الطلاق، باب قول النبيﷺ لوكنت راجما بغير بينة]
8۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’تین شخص مرفوع القلم ہیں یعنی ان پر تکلیف شرعی نہیں۔ سویا ہوا یہاں تک کہ بیدار ہو دوسرے بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو اور تیسرے مجنون، یہاں تک کہ اسے عقل آئے۔ [ترمذي۔ ابواب الحدود۔ باب ماجاء فيمن لا يجب عليه الحد]
9۔ اثبات جرم میں شک کا فائدہ ملزم کو پہنچتا ہے:۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: جہاں تک ہو سکے مسلمانوں سے حدود کو ٹالنے کی کوشش کرو۔ اور مجرم کی رہائی کی کوئی بھی شکل نظر آرہی ہو تو اسے چھوڑ دو۔ اس لئے کہ حاکم اگر مجرم کو معاف کر دینے میں غلطی کرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ سزا دینے میں غلطی کرے۔ [ترمذي۔ ابواب الحدود۔ باب ماجاء فى درء الحدود]
10۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’جس نے کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کر دی۔ اللہ آخرت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت اس سے دور کر دے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان کا عیب چھپایا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا۔ اور جب تک کوئی شخص اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے اللہ اس کی مدد میں ہوتا ہے‘‘ [ترمذي۔ ابواب الحدود۔ باب ماجاء فى الستر على المسلم]
11۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کوڑے بھی لگائے اور جلا وطن بھی کیا۔ (اسی طرح) حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ نے کوڑے بھی لگائے اور جلا وطن بھی کیا۔ [ترمذي۔ ابواب الحدود۔ باب ماجاء فى النفي]
12۔ زنا بالجبر میں عورت پر حد نہیں:۔
حضرت علقمہ بن وائل کندی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ دور نبوی میں ایک عورت (فجر کی) نماز کے ارادہ سے نکلی اسے ایک مرد ملا جس نے اسے چھپا لیا پھر اس سے اپنی حاجت پوری کی وہ چیخنے لگی تو مرد چلا گیا۔ اتفاق سے ایک اور آدمی اس کے پاس سے گزرا تو اس عورت نے کہا کہ اس شخص نے میرے ساتھ ایسا اور ایسا کیا ہے۔ پھر کچھ مہاجر وہاں سے گزرے تو عورت نے وہی بات دہرائی۔ لوگوں نے اس مرد کو پکڑ لیا جس کے متعلق عورت کا گمان تھا کہ اس نے بد فعلی کی ہے۔ مگر حقیقتاً وہ زانی نہ تھا۔ اور اسے آپﷺ کے پاس لے گئے۔ آپﷺ نے اس کے رجم کا حکم دے دیا۔ اب وہ شخص کھڑا ہوا جس نے زنا کیا تھا کہنے لگا: یا رسول اللہ! اصل مجرم میں ہوں۔ آپﷺ نے عورت سے فرمایا: تم چلی جاؤ۔ اللہ نے تجھے (جبر کی وجہ سے) بخش دیا۔ اور ملزم سے بھی آپﷺ نے اچھی بات کہی۔ پھر مجرم کے متعلق فرمایا کہ اسے رجم کر دو۔ نیز فرمایا کہ اس شخص نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر تمام شہر والے ایسی توبہ کریں تو اس کی توبہ قبول ہو جائے۔ [ترمذی۔ ابواب الحدود۔ باب ماجاء فی المرأۃ اذا استکرھت علی الزنا]
13۔ حضرت ابو بردہ بن نیار کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے علاوہ دس کوڑے سے زیادہ نہ مارے جائیں‘‘ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب كم التعزير و الادب]
14۔ قید کرنے کی مشروعیت:۔
حضرت بہزاد بن حکیم اپنے باپ سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید رکھا۔ [نسائي۔ كتاب قطع السارق۔ باب امتحان السارق بالضرب والحبس]
15۔ حضرت نعمان بن بشیر کے پاس قبیلہ کلاعی کے لوگ آئے اور کہا کہ جولاہوں نے ہمارا سامان چرا لیا ہے۔ نعمان نے ان جولاہوں کو کچھ دن قید رکھا پھر چھوڑ دیا۔ کلاعی لوگ پھر نعمان کے پاس آکر کہنے لگے: آپ نے جولاہوں کو چھوڑ دیا، نہ ان کا امتحان لیا نہ مارا۔ نعمان نے کہا: کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ میں انھیں ماروں؟ مگر دیکھو! اگر تمہاری سامان ان کے پاس نکل آیا تو خیر ورنہ میں اسی قدر تمہاری پیٹھ پر ماروں گا‘‘ وہ کہنے لگے: کیا یہ تمہارا حکم ہے۔ نعمان نے کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ [نسائي۔ كتاب قطع السارق۔ باب امتحان السارق بالضرب و الحبس]
16۔ سامان کی برآمدگی چوری کا ثبوت نہیں:۔
حضرت ابو امیہ مخزومی کہتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس ایک چور آیا جو چوری کا اقرار کرتا تھا لیکن اس کے پاس مال نہ ملا۔ آپ نے اسے فرمایا: میں تو نہیں سمجھتا کہ تو نے چوری کی ہو گی۔ وہ کہنے لگا: ’’نہیں! میں نے چوری کی ہے‘‘ آپﷺ نے فرمایا: اس کو لے جاؤ اس کا ہاتھ کاٹو پھر لاؤ۔ لوگ اسے لے گئے۔ پھر اس کا ہاتھ کاٹا پھر لے کر آئے۔ آپﷺ نے اسے فرمایا کہو : ﴿اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ﴾ چنانچہ اس نے یہ دعا کی پھر آپﷺ نے فرمایا: ’’یا اللہ اس کی توبہ قبول کر‘‘ [نسائي۔ كتاب قطع السارق۔ باب تلقين السارق]
17۔ حضرت صفوان بن امیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا پھر نماز پڑھی پھر اپنی چادر تہ کر کے سر کے نیچے رکھی اور سو گئے۔ چور آیا اور چادر ان کے سر کے نیچے سے کھینچی (ان کی آنکھ کھلی) تو دوڑ کر چوڑ کو پکڑ لیا اور رسول اللہﷺ کے پاس لائے اور بتلایا کہ اس نے میری چادر چرا لی ہے۔ آپﷺ نے چور سے پوچھا: کیا تو نے چادر چرائی تھی؟ وہ کہنے لگا ’ہاں‘ آپﷺ نے دو آدمیوں سے کہا کہ اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ تب صفوان کہنے لگے: یا رسول اللہ! میری نیت یہ نہ تھی کہ ایک چادر کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹا جائے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ کام پہلے کرنے کا تھا‘‘ [نسائي۔ كتاب قطع السارق۔ باب مايكون حزرا ومالايكون ]
18۔ حد قائم کرنے کی برکت: حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کسی ملک میں اسلامی قانون کا جاری ہونا وہاں کے لوگوں کے لئے تیس دن (اور ایک دوسری روایت کے مطابق چالیس دن) بارش برسنے سے بہتر ہے۔ [نسائي۔ كتاب قطع السارق۔ باب الترغيب فى اقامة الحد]
19۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں آپﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص (ابوالبسر کعب بن عمرو) آپ کے پاس آ کر کہنے لگا: یا رسول اللہﷺ!~ میں نے ایک حدی گناہ کیا ہے۔ مجھے حد لگائیے۔ آپﷺ نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ اتنے میں نماز کا وقت آ گیا۔ اس نے بھی آپﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب آپﷺ نماز پڑھ چکے تو پھر وہ شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا: یا رسول اللہﷺ! میں نے ایک مستوجب حد گناہ کیا ہے کتاب اللہ کے مطابق مجھے سزا دیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا: کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ وہ کہنے لگا: پڑھی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: تو بس اللہ نے تیرا گناہ یا تیری سزا کو معاف کر دیا ہے۔ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب اذا اقربالحد و لم يبين هل للامام أن يسترعليه]
حد اور اقامت کے متعلق احادیث کا ما حصل:۔
اب ہم مندرجہ بالا احادیث کا ماحصل درج ذیل دفعات کی شکل میں پیش کرتے ہیں:
1۔ کنوارے مرد اور کنواری عورت کو سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے۔ [حديث نمبر 3 اور نمبر 5]
جلا وطنی سے مراد ملک بدر کرنا نہیں بلکہ اتنے فاصلہ پر بھیجنا ہے جس کو شرعی اصطلاح میں سفر کہہ سکتے ہوں۔ اور اس جلا وطنی کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ کم از کم زانی جوڑے کے ملاپ کی راہ کو ہی بند کر دیا جائے اور اس کی امکانی صورتوں کو ختم کر دیا جائے۔ [حديث نمبر 3]
اور یہ مقصد بعض علماء کے نزدیک قید میں ڈالنے سے بھی پورا ہو سکتا ہے اور اگر ایسا کوئی خطرہ موجود نہ ہو تو قاضی جلا وطنی کی سزا کو موقوف بھی کر سکتا ہے۔ لیکن سو کوڑے کی سزا بہرحال قائم رہے گی۔ گویا سو کوڑے تو اللہ کی مقرر کردہ حد ہے اور ایک سال کی جلا وطنی بطور تعزیر ہے۔
2۔ کوڑا ایسا ہونا چاہئے جو نہ زیادہ سخت ہو کہ سو کوڑے پڑنے پر چمڑی ہی ادھیڑ ڈالے اور گوشت ننگا ہو جائے اور یہ مفہوم جلدۃ کے لغوی معنی میں شامل ہے اور نہ زیادہ نرم جس کو مجرم سزا بھی نہ سمجھے۔ بلکہ ایسا ہونا چاہئے جو نہ بالکل نیا اور سخت ہو اور زیادہ پرانا اور نرم ہو۔
3۔ اسی طرح کوڑے مارنے والے (جلاد) کو بھی کوڑے اتنے زور سے نہ مارنے چاہئیں کہ ایسا معلوم ہو جیسے وہ کوئی اپنا ذاتی انتقام لے رہا ہے۔ نہ وہ پیچھے سے دوڑ کر پورے زور سے کوڑے برسائے اور نہ بالکل آہستہ ہمارے جس کی مجرم کو تکلیف ہی نہ ہو۔ بلکہ درمیانی روش اختیار کرنا چاہئے۔ اور وہ درمیانی روش یہ ہے کہ سو کوڑے کھانے کے بعد نہ اس کا گوشت ننگا ہونا چاہئے۔ نہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ سو کوڑے کھانے کے بعد مر جائے یا بے ہوش ہو کر گر پڑے یا اس کے بدن کا قیمہ اڑنے لگے۔
4۔ کوڑے برساتے وقت چہرے اور شرم گاہ کو ضرور بچانا چاہیے۔ باقی کوڑے بھی کسی ایک ہی جگہ مثلاً سرین پر نہ مارے جائیں بلکہ بدن کے مختلف حصوں پر بانٹ کر مارے جائیں۔ مرد کو یہ سزا کھڑا کر کے اور عورت کو بٹھلا کر دی جائے۔ مرد کا جسم ننگا ہو تو بھی ٹھیک ہے۔ مگر عورت کا جسم مستور ہونا چاہئے۔ البتہ بدن پر کوئی اتنا موٹا کپڑا بھی نہ ہو جو سزا کے اثر کو ہی کم یا زائل کر دے۔
5۔ سزا میں بامر مجبوری شرعی حیلہ:۔
اگر مجرم کمزور ہو تو سو کوڑوں کی تعداد بالاقساط بھی پوری کی جا سکتی ہے۔ یعنی روزانہ پچیس تیس کوڑے لگا دیئے جائیں۔ اور بہت زیادہ کمزور ہو تو جھاڑو وغیرہ جس میں سو تنکے ہوں اسے سزا دے کر حد پوری کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر عورت حاملہ ہو، یا نفاس میں ہو یا بچہ کو دودھ پلاتی ہو تو سزا کو اس وقت تک موخر کیا جائے گا۔ [حديث نمبر 4]
6۔ سو کوڑے کی سزا کی شرائط یہ ہیں کہ مجرم آزاد ہو۔ عاقل ہو، بالغ، مجنون اور دیانہ نہ ہو۔ [حديث نمبر 8]
7۔ رجم کی سزا کے لئے چند شرائط اور بھی ضروری ہیں۔ یعنی شادی شدہ ہو اور اپنی بیوی سے ہمبستری بھی کر چکا ہو۔ [حديث نمبر 1]
اور بعض علماء کے نزدیک مسلمان ہونا بھی شرط ہے اور ذمیوں پر اس کا اطلاق نہ ہو گا اور جو رسول اللہﷺ نے یہودی جوڑے کو رجم کرایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی کتاب میں یہی سزا واجب تھی اور ان سے اعتراف بھی کروایا گیا تھا۔ [حديث نمبر 2]
8۔ اگرچہ حدیث نمبر 5 میں شادی شدہ زانی یا زانیہ کی سزا سو کوڑے اور رجم دونوں ہیں۔ تاہم دور نبوی اور خلفائے راشدین میں صرف رجم پر ہی اکتفا کیا جاتا رہا ہے۔ جیسا کہ احادیث نمبر 1 تا نمبر 4 سے ظاہر ہے۔ البتہ حضرت علیؓ نے اپنے دور خلافت میں ایک محصنہ زانیہ کو یہ دونوں سزائیں دیں۔ جمعرات کے دن اس کو سو کوڑے لگائے اور یہ فرمایا یہ سزا کتاب اللہ کے مطابق ہے اور جمعہ کے دن اسے رجم کیا اور فرمایا یہ سزا سنت رسولﷺ کے مطابق ہے۔ یہ واقعہ مسند احمد میں تفصیلاً مذکور ہے اور بخاری میں مجملاً [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب رجم المحصن]
9۔ مرد کو کھڑے کھڑے رجم کیا جائے گا مگر عورت کے لئے سینہ تک گڑھا کھود کر اس میں اسے داخل ہونے کو کہا جائے گا۔ [حديث نمبر 4]
10۔ اگر انسان سے کوئی بے حیائی کا حدی جرم ہو جائے تو اسے چاہئے کہ عدالت میں جا کر اعتراف کرنے کی بجائے اللہ کے حضور توبہ استغفار پر اکتفا کرے۔ [حديث نمبر 1، نمبر 4]
11۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو کسی گناہ میں مبتلا دیکھ لے تو اسے اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرنا چاہئے۔ ایسا نہ کرے کہ عدالت میں یا حاکم کے پاس اس کی رپورٹ کر دے۔ یا دوسروں کو بتلاتا پھرے۔ [حديث نمبر 1]
بشرطیکہ اس جرم کا تعلق حقوق اللہ سے ہو۔ حقوق العباد سے نہ ہو۔
12۔ اگر کوئی مجرم عدالت میں جا کر اپنے جرم کا اقرار کرے تو قاضی اسے یہ تلقین کر سکتا ہے۔ کہ واپس چلے جاؤ اور اللہ سے توبہ استغفار کرو اور اسے سزا دینے کا اقدام نہ کرے۔ [حديث نمبر، نمبر 4]
اسی طرح اگر کوئی مجرم عدالت میں مبہم بیان دے تو بھی قاضی اسے ایسی تلقین کر سکتا ہے۔ [حديث نمبر 19]
13۔ دور فاروقی میں حد قذف:۔
زنا کے ثبوت کے لئے چار معتبر عاقل، بالغ مسلمانوں کی شہادت ضروری ہے اور یہ گواہی صرف مردوں کی ہو گی جس میں ایک مرد کے بجائے دو عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں۔ عورتوں کی گواہی کا تعلق صرف مالی امور میں معتبر ہے۔ اور یہ شہادت صاف صاف اور واشگاف الفاظ میں ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر کسی ایک گواہ کے بیان سے بھی معاملہ مشکوک ہو گیا تو مجرم سزا سے بچ سکتا ہے کیونکہ شبہ کا فائدہ مجرم کو پہنچتا ہے۔ [حديث نمبر 9]
اس صورت میں گواہوں کی شامت آسکتی ہے۔ بعض علماء کے نزدیک تو ان گواہوں پر قذف کی حد لگائی جائے گی۔ چنانچہ دور فاروقی میں ایک ایسا واقعہ ہوا بھی تھا۔ حضرت ابو بکرہؓ نے مغیرہ بن شعبہؓ گورنر بصرہ پر زنا کی تہمت لگائی اور تین گواہ بھی پیش کر دیئے۔ ان میں سے ایک گواہ کا بیان مبہم ہونے کی بنا پر حضرت مغیرہؓ تو سزا سے بچ گئے اور حضرت ابو بکرہؓ اور ان کے دو ساتھیوں کو حضرت عمرؓ نے قذف کی حد لگائی تھی۔ اور تیسرا گواہ مبہم بیان کی وجہ سے بچ گیا تھا۔ اور دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ ان پر قذف کی حد نہیں لگے گی اور ان کی وجوہ یہ ہیں۔
(1) یہ گواہ قذف کے مدعی بن کر نہیں آتے بلکہ زنا کے گواہ ہوتے ہیں۔
(2) حضرت عمرؓ نے گواہوں کو جو سزا دی تو یہ خصوصی حالات میں تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اور ابو بکرہؓ میں پہلے سے چپقلش موجود تھی اور گواہ حضرت ابو بکرہؓ کے دوست تھے۔
(3) اگر اس طرح زنا کے گواہوں کے ادنیٰ سے شبہ کی بنا پر مار پڑنے لگے تو کبھی کوئی شخص گواہی پر تیار نہ ہو گا۔ ہماری رائے میں دوسرے گروہ کا موقف راجح معلوم ہوتا ہے۔ تاہم ایسے بے حیائی کے مقدمات میں شہادت اور افواہوں میں دلچسپی لینے سے حتی الامکان گریز ہی کرنا چاہئے۔ اور جہاں کہیں ایسی گندگی نظر آئے بھی تو اسے نشر کرنے کی بجائے پردہ پوشی سے کام لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔
14۔ شہادات کا بعد ثبوت جرم کا دوسرا معتبر ذریعہ ملزم کا اپنا اقرار ہے۔ مجرم اگر چار گواہیوں کے عوض چار بار اقرار کرے تو یہ بہتر ہے۔ جیسا کہ حدیث نمبر 1 اور نمبر 4 سے معلوم ہوتا ہے۔ تاہم ایک بار کا اقرار بھی ثبوت جرم کے لئے کافی ہے۔ [حديث نمبر 3]
15۔ ثبوت جرم کا تیسرا معتبر ذریعہ حمل ہے۔ اگر عورت کنواری یا بے شوہر ہے اور اسے حمل ہو جائے تو یہ قرینہ کی معتبر شہادت ہے اور اس بنا پر سزا دی جا سکتی ہے۔ [حديث نمبر 4]
نیز حضرت عمرؓ کا وہ خطبہ جس کا ذکر رجم کے بیان میں گزر چکا ہے۔ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب رجم الحبليٰ]
16۔ ملزم کو شبہ کا فائدہ:۔
قاضی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مجرم کے اقرار کے بعد بھی صورت حال کی پوری تحقیق کرے۔ اگر اسے کسی قسم کا شبہ پڑ جائے تو وہ مجرم کو چھوڑ سکتا ہے کیونکہ مجرم کو سزا دینے میں غلطی کرنے سے اسے معاف کر دینے میں غلطی کرنا بہتر ہے۔ [حديث نمبر 9]
17۔ زنا کا جرم قابل راضی نامہ نہیں:۔
زنا کا جرم کسی قیمت پر قابل راضی نامہ نہیں۔ نہ ہی مال و دولت یا تاوان سے کسی کی عصمت و آبرو کی سودا بازی ہو سکتی ہے۔ [حديث نمبر 3]
18۔ البتہ ایسے حدی جرائم جن کا مالی معاملات سے تعلق ہو۔ مقدمہ عدالت میں آنے سے پیشتر قابلی راضی نامہ ہوتے ہیں۔ مثلاً چور کو معاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اس سے مسروقہ مال لے کر بھی معافی دی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں کوئی بھی شرائط جو صاحب حق تسلیم کر لے اس پر راضی نامہ ہو سکتا ہے۔ [حديث نمبر 17]
19۔ اقبال جرم کے لیے سزا کی ممانعت:۔
مالی مقدمات میں اقبال جرم کرانے کے لئے ملزم کو قید تو کیا جا سکتا ہے مگر اسے بدنی سزا نہیں دی جا سکتی۔ [حديث نمبر 14، 15]
20۔ مقدمہ عدالت میں آجانے کے بعد مجرم کے حق میں سفارش کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ [حديث نمبر 6]
21۔ جرم ثابت ہو جانے کے بعد قاضی حد کی سزا میں کوئی کمی و بیشی کرنے کا مجاز نہیں۔ [سوره نور۔ آيت نمبر 2]
22۔ قاضی اپنے علم کی بنا پر فیصلہ نہیں دے سکتا:۔ فوجداری مقدمات میں قاضی اپنے علم کی بنا پر فیصلہ نہیں دے سکتا۔ ایسے فیصلے اسے شہادتوں کی بنیاد پر ہی کرنا ہوں گے۔ [حديث نمبر 7]
23۔ حد جاری ہونے کے بعد مجرم اس گناہ سے بالکل پاک صاف ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اسے برے لفظوں سے قطعاً یاد نہ کیا جائے۔ اس پر جنازہ بھی پڑھا جائے گا۔ اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ [حديث نمبر 4 اور نمبر 12]
24۔ زنا کے دوسرے فریق کی تفتیش نہ کی جائے:۔
زنا کا ایک فریق اگر اپنے گناہ کا اقرار کر لے تو قاضی اسے یہ نہیں پوچھے گا کہ دوسرا فریق کون ہے؟ اگر اس پر پردہ پڑا ہے تو یہی بات اسلام کے مطابق ہے۔ نیز اسلامی قانون لوگوں کو سزا دینے کے لئے بے چین نہیں ہے۔ [حديث نمبر 4، نمبر 1]
25۔ اور اقرار کرنے والا فریق دوسرے فریق کا پتہ بتلاتا ہے تو دوسرے فریق سے معلوم کیا جائے گا اگر وہ بھی اقرار کر لے تو اس پر حد جاری ہو گی۔ [حديث نمبر 3]
اور اگر انکار کر دے تو وہ بچ جائے گا۔ البتہ بعض علماء کے نزدیک پتہ بتلانے والے پر قذف کی حد بھی جاری ہو گی۔ لیکن یہ بات قاضی کی تحقیق اور صوابدید پر منحصر ہے۔
26۔ حدود جاری کرنے والے معاشرہ پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار خیر و برکات کا نزول ہوتا ہے۔ [حديث نمبر 18]
27۔ اگر رجم کا مجرم اقرار کے بعد اپنے اقرار سے پھر جائے یا بھاگ کھڑا ہو تو اسے مزید سزا نہیں دی جائے گی۔ [حديث نمبر 1]
28۔ عورت سے اگر بالجبر زنا کیا گیا ہو تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔ [حديث نمبر 12]
29۔ حدود کے علاوہ کسی جرم کی تعزیر میں قاضی بدنی سزا دس کوڑوں سے زیادہ دینے کا مجاز نہیں۔ [حديث نمبر 13]
[4] تحقیق جرم میں انتہائی نرمی:۔
مندرجہ بالا احکام و ہدایت سے واضح طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اسلامی قانون اس تلاش میں نہیں رہتا کہ کوئی مجرم ملے تو اسے سزا دے ڈالی جائے۔ بلکہ اس کی ہر ممکن کوشش یہ ہوتی ہے کہ مجرم سزا سے بچ جائے۔ پہلے تو وہ مجرم کو خود ہدایت دیتا ہے کہ اپنا جرم کسی کو نہ بتلائے بلکہ اللہ سے توبہ و استغفار کرے۔ پھر معاشرہ کے افراد کو ہدایت دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو جرم میں مبتلا دیکھ لے تو اس پر پردہ ڈالے اور کسی کے آگے بیان نہ کرے۔ پھر قاضی کو ہدایت دیتا ہے کہ مجرم کو سمجھائے اور توبہ استغفار کی تلقین کر کے اسے واپس پہنچ دے۔ پھر اس کا قانون شہادت اتنا سخت ہے کہ شاید ہی کوئی جرم شہادتوں کی بنا پر پایہ ثبوت کو پہنچتا ہو۔ قاضی کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ شہادت یا مجرم کے اقرار میں کسی طرح کا شبہ پڑ جائے یا مجرم اپنے اقرار سے منحرف ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے پھر وہ مجرم کی حالت دیکھتا ہے کہ آیا وہ سزا کے قابل بھی ہے یا نہیں۔
اثبات جرم کے بعد سر عام بدنی سزا کی وجہ:۔
ان سب مراحل سے گزرنے اور جرم کے پایہ ثبوت کو پہنچ جانے کے بعد پھر جو سزا دیتا ہے۔ وہ یقیناً سخت بھی ہے اور اس کا تعلق بھی بدنی سزا سے ہوتا ہے اس وقت حد’ لگانے کی حد تک تو نرمی کا برتاؤ ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ مگر مجرم پر ترس کھانے کا مطلق رو دار نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ایسے مجرم پر ترس کھانا فی الحقیقت پورے معاشرے پر ظلم کے مترادف ہوتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ’’اے صاحبان عقل و خرد! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے‘‘ [2: 179]
بالفاظ دیگر ایک شخص کو قصاص میں مار ڈالنے سے سارے معاشرہ کو جینے کا حق ملتا ہے۔ اور وہ امن و چین سے رہ سکتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسلامی قانون حدود و قصاص اور تعزیرات کو بھی ’’اللہ کا دین‘‘ فرمایا ہے۔ کیونکہ یہ بھی اقامت دین کا ایک لازمی عنصر ہے۔ دین کا اطلاق صرف عبادات تک ہی محدود نہیں بلکہ اس لفظ کے معنی کی وسعت میں شریعت کے تمام تر احکام آجاتے ہیں۔
[5] یعنی مجرموں کو یہ بدنی سزائیں بر سر عام دی جائیں تاکہ انھیں اپنے کئے پر زیادہ سے زیادہ شرمندگی ہو۔ اور دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔
وحشیانہ سزا کا طعنہ دینے والوں کا اپنا کردار:۔
اب ایسے اسلامی معاشرہ کے مقابلہ میں ان لوگوں پر نظر ڈالنا بھی ضروری ہے جو اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ سزائیں قرار دینے میں اور اس کا پروپیگنڈہ کرنے میں اپنے پھیپھڑوں تک کا زور لگا رہے ہیں۔ انھیں صرف ایسے مجرموں پر ترس آتا ہے جو حکومت کے حامی یا اس کے رکن ہوتے ہیں۔ اور ترس اس لئے آتا ہے کہ ان کے تعاون کے بغیر ان کی حکومت چل ہی نہیں سکتی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے مجرموں نے لوٹ کھسوٹ، مار دھاڑ اور فساد کے ذریعہ لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ اور جو مجرم حکومت کے مخالف ہوں ان کے لئے علیحدہ عقوبت خانے (Torture Cell) بنائے جاتے ہیں اور ان مجرموں کے ایسے ایسے جاں گداز روح فرسا عذاب دیئے جاتے ہیں کہ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ اور یہ سب ظلم تنگ و تار کوٹھڑیوں میں ڈھائے جاتے ہیں کہ کسی کا دیکھنا تو درکنار کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح بسا اوقات پولیس حوالات کے دوران ملزموں کو مار مار کر ہلکان کر دیتی ہے۔ اور اس کی مثال بالکل وہی ہے جیسے موجودہ دور حکومت کے مہذب لوگ دوسرا نکاح کرنا تو جرم سمجھتے ہیں مگر حرام طریقے پر بیسیوں داشتائیں اور شناسائیں رکھی ہوتی ہیں اور اسلام جو حلال طریقے سے چار بیویوں کی اجازت دیتا ہے اس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔